مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – اقوامِ متحدہ اور اس کے انسانی ہمدردی کے شراکت داروں نے اعلان کیا ہے کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی کی سرحدی گزرگاہوں سے 24 ہزار میٹرک ٹن سے زائد امدادی سامان جمع کیا گیا ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعے کے روز ایک بریفنگ میں بتائی۔
ترجمان کے مطابق، یہ امداد خوراک، ادویات، طبی سامان، غذائی سپلیمنٹس اور پناہ گاہ کے مواد پر مشتمل ہے، جسے اب کمیونٹی اور گھریلو سطح پر تقسیم کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد تک رسائی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ اور اس کے شراکت دار اداروں کی جانب سے جمع کی جانے والی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ یا لوٹ مار کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق، 10 سے 28 اکتوبر کے درمیان صرف 5 فیصد سامان روکا یا لوٹا گیا، جب کہ 19 مئی سے 9 اکتوبر کے دوران یہ شرح تقریباً 80 فیصد تھی۔
دوجارک نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے دفتر (اوچا) کو توقع ہے کہ جیسے جیسے مزید انسانی اور تجارتی سامان داخل ہوگا، روکے گئے امدادی سامان کی مقدار مزید کم ہو جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم تمام گزرگاہوں کو کھولنے اور مزید اقوامِ متحدہ کے اداروں اور تنظیموں کو غزہ میں امداد پہنچانے کی اجازت دینے کی اپیل کرتے ہیں۔
ادھر اوچا نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود انسانی ہمدردی کے ادارے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہے ہیں، اور اسرائیلی فوج کو یاد دلایا کہ اسے اپنی تمام عسکری کارروائیوں کے دوران شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔
جنگ بندی کے آغاز سے اب تک عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے غزہ میں 840 سے زائد پیلیٹس پر مشتمل طبی سامان پہنچایا ہے، جن میں انسولین، طبی آلات، ضروری ادویات، ہیضے کے علاج کے کٹس اور جراحی کے سامان شامل ہیں۔
تاہم ان مثبت پیش رفتوں کے باوجود، دوجارک کے مطابق غزہ کا صحت کا نظام اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور آبادی کی وسیع ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق، جنگ کے آغاز سے 7 اکتوبر تک 1,700 سے زائد طبی کارکنان شہید ہو چکے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں، انسانی ہمدردی کے ادارے چھ لاکھ تیس ہزار سے زائد اسکول جانے والے بچوں کے لیے کم از کم تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، جنہیں دو سال سے زیادہ عرصے سے تعلیم سے محرومی کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ دیر البلح اور خان یونس میں 90 کلاس رومز کی بحالی جاری ہے، جب کہ پورے غزہ میں 2,000 سے زائد کلاس رومز کو بحالی کی ضرورت ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کے تسلسل اور تمام راستوں کے کھلنے سے ہی غزہ کے بحران زدہ عوام تک مؤثر انسانی مدد پہنچائی جا سکے گی۔

