مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – عراق اس وقت امریکی پابندیوں اور روسی تیل سرمایہ کاری کے درمیان کھڑا ہے۔ جیسے ہی واشنگٹن روسی توانائی کمپنیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور الحشد الشعبی (PMF) کے خلاف دباؤ بڑھا رہا ہے، ماسکو نے عراق کے تیل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری مزید وسعت دی ہے۔ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے پُرعزم عراق ایک اور جغرافیائی کھینچا تانی میں گھِرنے سے انکار کر رہا ہے۔
حال ہی میں امریکی اقدامات نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ عراق ایک بار پھر واشنگٹن کی توجہ کے دائرے میں آ گیا ہے۔
شَرم الشیخ میں منعقدہ غزہ کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق تیل سے بھرا ملک ہے، مگر اسے یہ نہیں معلوم کہ اس کا کیا کرے۔ یہ تمہارا مسئلہ ہے۔
یہ طنزیہ جملہ محض الفاظ تک محدود نہ رہا۔ جلد ہی بغداد کی سمت نئی سفارتی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ امریکی نژاد عراقی مارک ساوایا کو امریکہ کا خصوصی ایلچی برائے عراق مقرر کیا گیا، اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے السودانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔
یہ تمام اقدامات محض اتفاقی نہیں تھے بلکہ واضح طور پر منصوبہ بندی کے تحت اٹھائے گئے۔ تیل اب بھی واشنگٹن کی اُس بڑی حکمتِ عملی کا محور ہے جس کا مقصد روسی توانائی پر انحصار کم کرنا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب یورپ ایک اور سخت سردی کے خدشے سے دوچار ہے۔
عراق کے تیل میں روسی شمولیت کی گہرائی
صورتحال کو سمجھنے کے لیے روس کے کردار پر نظر ڈالنا ناگزیر ہے۔
2024 تک روس کی عراق کے تیل و گیس شعبے میں سرمایہ کاری 19 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ مئی 2025 میں بغداد میں روسی سفیر ایلبرس کُترشیف نے اعلان کیا کہ یہ سرمایہ کاری 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
انہوں نے شفق نیوز کو بتایا کہ تین روسی کمپنیاں عراق کے تیل کے شعبے میں سرگرم ہیں جبکہ چوتھی گیس مارکیٹ میں داخلے کی تیاری کر رہی ہے۔
ماسکو میں قائم پرماکوف سینٹر کی اپریل 2024 کی رپورٹ کے مطابق روس اور عراق کے درمیان شراکت داری میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، خصوصاً توانائی اور لاجسٹکس کے میدانوں میں۔ رپورٹ کے مطابق روسی توانائی دیو جیسے لوک آئل، گاز پروم، اور روزنیفٹ نے عراق میں مجموعی طور پر 19 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے، زیادہ تر منصوبے توانائی پیداوار اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق ہیں۔
دونوں ممالک اپنے ترقیاتی منصوبوں — عراق کی "ڈیولپمنٹ روڈ” پالیسی اور روس کے "انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور” — کو آپس میں جوڑنے پر بھی کام کر رہے ہیں، جو ایشیا اور یورپ کو 7200 کلومیٹر طویل ملٹی ماڈل راستوں سے منسلک کرتا ہے۔
روس کا اثر کردستان خطے میں بھی نمایاں ہے۔ روڈاو ریسرچ سینٹر کے مطابق روسی کمپنی روزنیفٹ کے پاس کردستان کے تیل برآمدی پائپ لائن میں 60 فیصد حصص ہیں۔ روس نے کرد تیل کی برآمد دوبارہ شروع کرانے میں ثالثی کردار بھی ادا کیا اور دو سال تک جاری مذاکرات کے بعد کرد علاقائی حکومت (KRG)، بغداد اور بین الاقوامی کمپنیوں کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دی۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس اس پیش رفت سے “بہت خوش” ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق میں کرد اور عرب ایک دوسرے سے معاملہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کردستان کے بین الاقوامی رابطہ کار ڈاکٹر دیندار زيباری نے بھی روسی کمپنیوں کے کردار کو سراہا، بالخصوص گاز پروم کو، جسے انہوں نے خطے کے تیل ڈھانچے میں “کلیدی کردار ادا کرنے والا” قرار دیا۔
امریکی پابندیاں اور تیل کی سیاست
اب منظرنامہ بدلتا ہے۔ 22 اکتوبر کو امریکہ نے روزنیفٹ اور لوک آئل پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، جن میں وہ تمام ادارے شامل ہیں جن میں ان کمپنیوں کا 50 فیصد یا اس سے زیادہ حصہ ہے۔ یہ اقدام روس کے توانائی شعبے پر دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یوکرین میں جنگ بندی کا وعدہ کیا تھا، مگر اقتدار میں آنے کے بعد اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔
ان پابندیوں کے نتیجے میں دونوں کمپنیوں کے امریکہ میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے گئے اور امریکی شہریوں یا کمپنیوں کو ان سے کسی قسم کے لین دین سے روک دیا گیا۔
واشنگٹن نے یہ بھی تنبیہ کی کہ جو غیر ملکی مالیاتی ادارے ان کمپنیوں سے روابط برقرار رکھیں گے، وہ "ثانوی پابندیوں” کی زد میں آسکتے ہیں۔
چونکہ روزنیفٹ اور لوک آئل عراق میں بڑے سرمایہ کار ہیں، ان پابندیوں کے اثرات سے عراق کے منصوبوں میں تاخیر یا مالی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
اسی دوران امریکی تیل کمپنیاں ایک بار پھر بغداد لوٹ آئی ہیں۔ اکتوبر کے آغاز میں دو سال کے وقفے کے بعد ایکسن موبل نے عراقی حکومت سے مجنون آئل فیلڈ کی ترقی اور تیل برآمدات میں توسیع کے معاہدے پر دستخط کیے۔
اگست میں امریکی کمپنی شیورون نے بھی وزارتِ تیل کے ساتھ ناصریہ منصوبے کی ترقی کے لیے بنیادی معاہدہ کیا، جس میں چار ایکسپلوریشن بلاکس اور کئی پیداوار ی فیلڈز شامل ہیں۔
یہ تمام اقدامات بھی ایک مخصوص وقت پر سامنے آئے ہیں۔ اگر روسی کمپنیوں پر دباؤ مؤثر ثابت ہوا تو امریکی یا مغربی اتحادی کمپنیاں ان کی جگہ لے سکتی ہیں۔
الحشد الشعبی پر دباؤ: خودمختاری کے نام پر مداخلت
روس مخالف اقدامات کے ساتھ ساتھ واشنگٹن نے عراق میں ایک اور دباؤ کی مہم شروع کی ہے — الحشد الشعبی کو نشانہ بنانے کی۔
یہ فورس 2014 میں داعش کے تیز رفتار پھیلاؤ کے جواب میں قائم کی گئی تھی، جب نجف اور کربلا جیسے مقدس شہر خطرے میں تھے۔
الحشد الشعبی نے موصل، تکریت اور فلوجہ جیسے بڑے شہروں کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا اور اب بھی عراقی افواج کے ساتھ مل کر انسدادِ دہشت گردی، سرحدی تحفظ اور داخلی سلامتی کی کارروائیوں میں شریک ہے۔
2024 کے صوبائی انتخابات میں ایران نواز "کوآرڈینیشن فریم ورک” سے وابستہ جماعتوں — جن میں الحشد کے اتحادی گروہ بھی شامل ہیں — نے 285 میں سے 101 نشستیں حاصل کیں، جو ان کے سیاسی اثر و رسوخ کا ثبوت ہے۔
تاہم گزشتہ برسوں میں امریکہ نے الحشد اور اس کے اتحادی دھڑوں پر مسلسل پابندیاں لگائی ہیں۔ ٹرمپ کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد ایران مخالف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی ایک بار پھر متحرک ہو گئی۔
واشنگٹن الحشد کو “دہشت گرد” قرار دے کر ان پر دباؤ ڈالتا ہے، حالانکہ خود اس کی عراق میں فوجی مداخلتیں خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی رہی ہیں۔
بغداد نے ان پابندیوں کو “افسوسناک” اور “یکطرفہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات عراق-امریکہ شراکت داری کی روح کے منافی ہیں اور ان کے بارے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
تجربہ بتاتا ہے کہ ایسی پابندیاں اداروں کو کمزور نہیں کرتیں بلکہ عوامی غصہ بڑھاتی ہیں۔ عراق میں الحشد مختلف ترقیاتی منصوبوں میں شریک ہے، اس لیے ان پر پابندیاں دراصل ترقیاتی عمل کو روکنے کے مترادف ہیں۔
امریکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ عراقی ریاست کی حمایت کر رہا ہے، مگر اس کی پابندیاں براہِ راست عام شہریوں کو متاثر کرتی ہیں۔
درحقیقت واشنگٹن کی نظر عراق کے تیل اثاثوں پر ہے۔ اگر امریکی کمپنیاں عراق میں وسیع پیمانے پر کام کرنے لگیں تو یہ اثاثے مستقبل کے کسی بھی علاقائی تصادم میں نشانہ بن سکتے ہیں۔
چونکہ امریکہ “اسرائیل” کا سب سے بڑا حمایتی ہے، اس لیے اس کے مفادات خود بخود اسرائیلی مفادات سے جڑ جاتے ہیں۔ چنانچہ اگر اسرائیل غزہ میں اپنی جارحیت دوبارہ شروع کرتا ہے تو امریکی تیل منصوبے بھی حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں، جیسا کہ 2021 اور 2022 میں یمنیوں نے آرامکو تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
الحشد کی کمزوری دراصل اسرائیل کے لیے ایک محاذ کم کرنے کے مترادف ہوگی، کیونکہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران الحشد نے کئی بار اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
کیا امریکہ کامیاب ہو سکتا ہے؟
امریکہ کا منصوبہ یہ ہے کہ روسی کمپنیوں کو عراق سے نکال کر اور الحشد الشعبی کو کمزور کر کے میدان صاف کیا جائے۔ مگر عملی طور پر اس راہ میں کئی رکاوٹیں ہیں۔
روسی ماہرِ توانائی حمزہ الجوہری کے مطابق عراق میں روسی کمپنیوں کی سرگرمیوں پر امریکی پابندیوں کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے سرمایہ کاری معاہدوں میں ایسی شقیں شامل ہوتی ہیں جو فریقین کو پابند بناتی ہیں، اس لیے امریکہ کے یکطرفہ اقدامات پر عمل درآمد لازمی نہیں۔
عراق کے لیے روس سے تعلقات منقطع کرنا آسان نہیں۔ اگرچہ بغداد کے واشنگٹن سے تعلقات مضبوط ہیں، مگر موجودہ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ توازن برقرار رکھے گی اور قومی مفاد کو ترجیح دے گی۔
امریکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، مگر دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
اسی طرح بغداد الحشد الشعبی کے خلاف کسی یکطرفہ امریکی اقدام کی حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ فورس ریاستی نظام کا لازمی جزو ہے۔
عراق: پابندیوں، تیل، اور خودمختاری کے بیچ
امریکی توجہ کا دوبارہ عراق پر مرکوز ہونا محض سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ واشنگٹن کی علاقائی حکمتِ عملی میں ایک نیا موڑ ہے — جو اب فوجی طاقت سے زیادہ نرم اثرورسوخ پر انحصار کرتی ہے۔
روسی توانائی موجودگی میں اضافہ اور امریکی کمپنیوں کی دوبارہ واپسی نے عراق کو ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کی نازک لکیر پر لا کھڑا کیا ہے۔
مگر آج کا عراق 2003 والا عراق نہیں۔ داعش کے خلاف جنگ میں جنم لینے والا الحشد الشعبی اب ریاستی ڈھانچے اور سیاسی توازن کا مرکزی ستون ہے۔
اسے کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش عراق کے استحکام کو براہِ راست خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
آخرکار، سب کچھ بغداد کے فیصلے پر منحصر ہے — کیا وہ اپنی محتاط اور متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھ پائے گا، یا ایک بار پھر امریکی اثر و رسوخ کے پنجوں میں جا گرے گا۔

