ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیوائٹ ہاؤس کی صحافیوں پر نئی پابندیاں — پریس آفس تک رسائی...

وائٹ ہاؤس کی صحافیوں پر نئی پابندیاں — پریس آفس تک رسائی صرف اجازت سے ممکن
و

مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعہ کے روز ایک نیا حکم جاری کیا ہے، جس کے تحت وائٹ ہاؤس کے مرکزی پریس آفس کے حصے تک صحافیوں کی آزادانہ رسائی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اب صحافی صرف پیشگی اجازت یا اپائنٹمنٹ کے بعد ہی "اپر پریس” نامی علاقے میں داخل ہو سکیں گے، جہاں پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا دفتر واقع ہے۔

وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بعض صحافی بغیر اجازت کابینہ کے وزراء سے ملاقات کی کوشش کرتے اور خفیہ طور پر ویڈیو یا آڈیو ریکارڈ کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نیشنل سیکیورٹی کونسل (NSC) کی جانب سے جاری میمو میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام "حساس معلومات کے تحفظ” کے لیے کیا گیا ہے۔

یہ پالیسی اس وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں میڈیا پر مزید پابندیاں لگائی ہیں، جن میں پینٹاگون کے نئے ضوابط بھی شامل ہیں جن پر بڑے عالمی اداروں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پہلے صحافی آزادی کے ساتھ اپر پریس علاقے میں جا کر پریس افسران سے براہِ راست بات چیت کر سکتے تھے، تاہم اب ان کی رسائی صرف “لوئر پریس” تک محدود کر دی گئی ہے، جو بریفنگ روم کے قریب واقع ہے۔

چیونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر مزید کہا کہ بعض رپورٹرز کو خفیہ طور پر تصاویر لینے اور گفتگو سننے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ ان کے مطابق کابینہ کے سیکریٹریز جب نجی ملاقات کے لیے آتے ہیں تو دروازے کے باہر رپورٹرز گھات لگائے کھڑے ہوتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ماضی میں ڈیموکریٹ صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ نے بھی اسی نوعیت کی پابندی عائد کی تھی مگر بعد میں اسے واپس لے لیا تھا۔

ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے میڈیا تک رسائی کے قواعد میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ مرکزی اور تنقیدی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی وائٹ ہاؤس، ایئر فورس ون اور اوول آفس تک رسائی محدود کر دی گئی ہے، جبکہ ٹرمپ نواز دائیں بازو کے میڈیا اداروں کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین