ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامی’مشروط جنگ بندی‘ کے بعد پاکستان کا انتباہ: خلاف ورزی پر تمام...

’مشروط جنگ بندی‘ کے بعد پاکستان کا انتباہ: خلاف ورزی پر تمام آپشنز زیرِ غور

مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)اسلام آباد نے کابل کے ساتھ استنبول معاہدے کو ایک مشروط جنگ بندی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ امن کا آخری مرحلہ نہیں بلکہ ایک ’’عملی قدم‘‘ ہے، جس کا انحصار افغان طالبان کے ’’قابلِ تصدیق اقدامات‘‘ پر ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ترکی اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں پانچ روزہ مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تین نکاتی سمجھوتہ طے پایا — جنگ بندی کا تسلسل، اس پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مانیٹرنگ و ویریفکیشن میکنزم کا قیام، اور خلاف ورزی کی صورت میں سزا کے اصول۔ اگلی اعلیٰ سطحی ملاقات 6 نومبر کو استنبول میں متوقع ہے، جس میں اس نظام کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔

پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے حملے جاری رہے یا طالبان حکومت ’’قابلِ تصدیق ثبوت‘‘ فراہم نہ کرے، تو پاکستان اس جنگ بندی کو منسوخ سمجھ کر ’’اپنے تمام آپشنز‘‘ استعمال کرے گا۔

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرا بی نے کہا کہ استنبول اعلامیہ محض ’’ابتدائی خاکہ‘‘ ہے، مکمل معاہدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مزید کشیدگی نہیں چاہتا، مگر افغان طالبان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ عالمی وعدوں کے مطابق ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) اور بلوچ لبریشن آرمی (فتنہ الہندستان) کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان نے نجی طور پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی افغان موجودگی تسلیم کی ہے، اگرچہ ان کے پاس ’’عملی اقدامات نہ کرنے کی توجیہات‘‘ ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد میں فوجی و انٹیلی جنس حکام شامل تھے، مگر دفترِ خارجہ کا کردار مکمل طور پر شامل رہا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ سرحد اس وقت بھی تجارتی آمدورفت کے لیے بند ہے، جس کا کھلنا سیکیورٹی جائزے پر منحصر ہوگا۔

سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ نگران نظام ’’غیر جانب دار ثالثوں‘‘ کی نگرانی میں قائم ہوگا جو افغان عملدرآمد کا تعین کرے گا۔

دفاعی وزیر خواجہ آصف نے اشارہ دیا کہ نگرانی کے اس نظام میں متعدد ممالک شامل کیے جا سکتے ہیں تاکہ یہ طویل المدت بنیادوں پر مؤثر رہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر دہشت گردی روکنے کے لیے بارڈر مانیٹرنگ نہیں کی جاتی تو یہ براہِ راست یا بالواسطہ تعاون کے مترادف ہے۔‘‘

خواجہ آصف نے تصدیق کی کہ افغان طالبان ’’نجی طور پر‘‘ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی ان کی سرزمین استعمال کر رہی ہے اور اس کی قیادت کابل میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ٹی ٹی پی کے رہنما ہوٹلوں میں نہیں رہ رہے، یقیناً ان کی پناہ گاہیں طالبان نے دی ہیں۔‘‘

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ اب بھی وہی ہے — افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ۔ ان کے بقول، ’’امید کی ایک کرن ضرور ہے، مگر یہ افغانستان کے نہیں بلکہ قطر اور ترکی کے اثر کی وجہ سے ہے۔‘‘

انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں، اور جب تک دہشت گردی بند نہیں ہوتی، ’’امن معاہدہ مؤثر نہیں ہو سکتا۔‘‘

مقبول مضامین

مقبول مضامین