ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانکے پی وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی 13 رکنی کابینہ کا اعلان

کے پی وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی 13 رکنی کابینہ کا اعلان
ک

مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)خیبرپختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے جمعرات کے روز صوبائی کابینہ کا اعلان کر دیا، جس میں 10 وزراء، دو مشیر اور ایک معاونِ خصوصی شامل ہیں۔ گورنر ہاؤس کے ذرائع کے مطابق کابینہ کی تشکیل کا خلاصہ گورنر فیصل کریم کنڈی کو بھجوایا گیا، جس پر انہوں نے دستخط کر دیے۔ حلف برداری کی تقریب آج (جمعہ) دوپہر 3 بجے گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوگی۔

اعلان کے مطابق کابینہ میں مینا آفریدی، ارشد ایوب خان، امجد علی، آفتاب عالم خان، فضل شکور خان، خالق الرحمن، ریاض خان، سید فخر جہان اور عاقب اللہ خان شامل ہیں۔
جبکہ مزمل اسلم اور تاج محمد وزیرِ اعلیٰ کے مشیر مقرر کیے گئے ہیں، اور شفی جان معاونِ خصوصی کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ انہیں پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ "پولیس نے مجھے دھگال چیک پوسٹ پر روک لیا اور ملاقات کے مقررہ وقت کے بعد ہی جانے کی اجازت دی گئی، یہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔”

انہوں نے وفاقی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت کیوں دی گئی؟” اور مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کو قومی سلامتی پالیسی میں شامل کیا جائے۔ ان کے مطابق، "اگر ہمیں قومی پالیسی میں شامل کیا گیا تو ہم وفاق اور سیکیورٹی اداروں کا احترام کریں گے۔”

سہیل آفریدی نے وفاقی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے اور آڈیٹر جنرل کے دفتر پر بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات لگائے۔ انہوں نے اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے فوری بھرتیوں کا مطالبہ کیا اور کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کا اجلاس نہ بلانا صوبے کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ "کے پی کے عوام تجرباتی پالیسیوں کے لیے کوئی لیبارٹری نہیں۔ پالیسی سازی دو تین افراد کے بند کمروں میں نہیں ہونی چاہیے۔ صوبائی وزیرِ اعلیٰ کو نظرانداز کر کے قومی فیصلے کیسے کیے جا سکتے ہیں؟”

انہوں نے کہا کہ "اگر فوجی شہید ہو رہے ہیں تو وہ بھی اس قوم کے بیٹے ہیں، اور اگر غلط پالیسیوں کی وجہ سے شہری مارے جا رہے ہیں تو ان کا دکھ بھی اتنا ہی ہے۔”

آفریدی نے اعلان کیا کہ انہیں کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے عمران خان کی ہدایات ملی تھیں اور ابتدائی طور پر دس اراکین کے ساتھ کابینہ تشکیل دی گئی ہے، جسے وقت کے ساتھ وسعت دی جائے گی۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان فنڈز، سیکیورٹی پالیسی، اور اختیارات کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین