ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومپاکستانپاکستان نے آئی ایم ایف کو 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکس...

پاکستان نے آئی ایم ایف کو 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات کی یقین دہانی کرائی
پ

اسلام آباد(مشرق نامہ): پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دلایا ہے کہ اگر مالی سال کی پہلی ششماہی میں محصولات ہدف سے کم رہیں یا اخراجات طے شدہ حد سے بڑھ جائیں، تو حکومت 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات نافذ کرے گی۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدامات جنوری 2026 میں متحرک کیے جائیں گے اور ان میں بینکوں سے نقد رقم نکالنے، موبائل اور لینڈ لائن فون کالز پر ٹیکس میں اضافہ شامل ہے۔

متبادل تجاویز میں شمسی پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے اور کنفیکشنری و بسکٹ پر 16 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس سے سالانہ 70 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کیش ودڈراول پر ودہولڈنگ ٹیکس 0.8 فیصد سے بڑھا کر 1.5 فیصد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے 30 ارب روپے سالانہ حاصل ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح لینڈ لائن فونز پر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد اور موبائل کالز پر 15 سے بڑھا کر 17.5 فیصد کرنے سے بالترتیب 20 ارب اور 24 ارب روپے اضافی حاصل ہونے کی توقع ہے۔

یہ اقدامات ایف بی آر کی آمدنی میں کمی کو پورا کرنے اور آئی ایم ایف پروگرام کو پٹری پر رکھنے کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت دوسری جائزہ رپورٹ مکمل کرنے کے لیے عملے کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔

تاہم، ایف بی آر کو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 198 ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے، جو اکتوبر کے اختتام تک مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اگر آئی ایم ایف 1.6 فیصد جی ڈی پی پر مبنی 2.1 کھرب روپے کے بنیادی بجٹ سرپلس کے ہدف میں نرمی پر آمادہ نہ ہوا، تو حکومت کو یا تو یہ ٹیکس اقدامات نافذ کرنے ہوں گے یا اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین