بیجنگ،(مشرق نامہ) 30 اکتوبر (اے پی پی): چین اور پاکستان نے منگل کے روز فنی و تکنیکی تعلیم و تربیت (TVET) کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ معاہدے چائنا اینوئل کانفرنس اینڈ ایکسپو برائے انٹرنیشنل ایجوکیشن کے دوران طے پائے۔
چین کے صوبوں جیانگ شی، سچوان، گانسو، انہوئی اور سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے آٹھ فنی اداروں نے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے معاہدے کیے۔ ان معاہدوں کا مقصد مینوفیکچرنگ، زراعت، ٹرانسپورٹ، اور تجارت سمیت مختلف صنعتوں میں تربیتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
تقریب کے دوران تین تربیتی مراکز کا افتتاح کیا گیا جو پاکستانی طلبہ کو چینی زبان اور فنی مہارتوں کی تربیت فراہم کریں گے۔ اسی موقع پر چائنا–پاکستان انڈسٹری–ایجوکیشن انٹیگریشن کمیونٹی کا قیام بھی عمل میں آیا، جس کا مقصد ریل ٹرانزٹ، الیکٹرک گاڑیاں، ٹیکسٹائل اور ملبوسات سازی جیسے شعبوں میں ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا ہے۔
مزید برآں، چائنا–پاکستان ٹی وی ای ٹی انڈسٹریل سینٹر آف ایکسیلنس کے تحت ایک اسمارٹ میٹرولوجی پروفیشنل کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ دونوں ممالک نے چینی زبان، تعلیم، توانائی، روایتی چینی طب، صحت، ڈرون ٹیکنالوجی، ای–کامرس، لائیوسٹاک، ریل ٹرانزٹ، مکینیکل مینوفیکچرنگ، اور اسمارٹ میٹرولوجی جیسے شعبوں میں مشترکہ پروگرام تشکیل دیے ہیں۔
پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت 20 سے زائد چینی ادارے درجنوں پاکستانی یونیورسٹیوں، تعلیمی محکموں، کاروباری اداروں اور سماجی تنظیموں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس تعاون کے تحت دو ویمن ایمپاورمنٹ مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں خواتین کو چائے سازی، پکوان، اور دیگر ہنر سکھائے جائیں گے تاکہ وہ فنی شعبوں میں زیادہ کردار ادا کر سکیں۔
مزید برآں، سندھ کی 20 جامعات میں چینی زبان کے معیار، تدریسی تربیت، اور نصاب کی اصلاح کے لیے ایک نیا پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے، جس سے تعلیمی و ثقافتی تبادلے کو فروغ ملے گا۔
خالد مقبول صدیقی نے یہ بھی یاد دلایا کہ گزشتہ ماہ دوسرے چائنا–پاکستان بی ٹو بی انویسٹمنٹ سمٹ کے دوران 12 دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے۔
چینی تعلیمی ادارے ٹینگ انٹرنیشنل ایجوکیشن گروپ کے صدر لی جن سونگ کے مطابق، چین کے بین الاقوامی منصوبوں میں مقامی ہنرمندوں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق، 2023 کے اختتام تک چینی کمپنیوں کے بیرونِ ملک اثاثے 9 ٹریلین ڈالر جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی تھی، اور بیرونی منصوبوں میں مقامی افرادی قوت کی ضرورت 27 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
پاکستانی سفارت خانے میں ایجوکیشن اتاشی سفیان احمد میاں نے چائنا اکنامک نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کے پاس 30 سال سے کم عمر کی 15 کروڑ آبادی ہے، جو اگر درست مہارتیں حاصل کرے تو ایک بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم اپنی نوجوان نسل کو خاص طور پر ڈیجیٹل معیشت کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکے۔”

