مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – امریکا کی ثالثی سے اس ماہ کے آغاز میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے نے اگرچہ وقتی سکون فراہم کیا، تاہم اسرائیلی خلاف ورزیوں کے تسلسل نے فلسطینیوں کو مستقل خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ اپنی زندگیوں کو بحال کرنے سے قاصر ہیں، جو اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزہ پر نسل کشانہ جنگ کے آغاز سے تباہ ہو چکی ہیں۔
بدھ کے روز ہی جنوبی غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 100 سے زائد افراد جاں بحق اور 253 زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔ یہ جنگ بندی کی اب تک کی بدترین خلاف ورزی قرار دی جا رہی ہے۔
جمعرات کی صبح اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ کے شہر خان یونس پر کم از کم 10 فضائی حملے کیے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب اسرائیل نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ جنگ بندی بحال کر دی گئی ہے، حالانکہ اسی روز اس نے غزہ پر بڑے پیمانے پر بمباری کی تھی۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی حماس کے ہاتھوں ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے جواب میں کی گئی، تاہم حماس نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 211 فلسطینی شہید اور 597 زخمی ہو چکے ہیں۔
الجزیرہ کے نامہ نگار ہانی محمود نے غزہ شہر سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی بظاہر قائم ہے، لیکن دھماکوں کی آوازیں، مشرقی جانب سے فائرنگ، اور ڈرونز کی گونج پورے غزہ کی فضا میں اس جنگ بندی کی کمزوری کی مسلسل یاد دہانی کرواتی ہے۔ یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اس خطے میں امن ابھی بھی ایک دور خواب ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوگ مسلسل خوفزدہ ہیں، اور اکثر بات کرتے ہیں کہ یہ جنگ بندی کب تک برقرار رہ سکے گی، اور کب وہ صدمات اور خوف سے نجات پا سکیں گے۔
اسرائیل کے حملے اُس جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہیں جو 10 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے تحت نافذ ہوئی تھی۔
اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی قیدیوں کے بدلے تقریباً دو ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے، جبکہ بعد ازاں غزہ کی تعمیر نو اور حماس کے بغیر ایک نیا انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
’کہاں ہیں وہ بین الاقوامی ضمانتیں جو دی گئی تھیں؟‘
اسرائیل کی جنگ نے فلسطینیوں پر گہرے نفسیاتی اثرات چھوڑے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، اب تک 68,527 افراد شہید اور 170,395 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کے لیے یہ مسلسل اذیت اور ناقابلِ بیان دکھ ہے۔
غزہ کے رہائشی مازن شاہین نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی زندگیوں کو دوبارہ بسانے کے حقیقی موقع کے منتظر ہیں۔ جنگ کے بعد پہلے ایک دو ہفتے ہم نے کچھ بہتری محسوس کی، مگر پھر جنگ بندی ٹوٹ گئی۔ ابھی سانس بھی نہیں لے پائے تھے کہ دوسری خلاف ورزی ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں نے لوگوں کو مایوسی میں دھکیل دیا ہے۔
غزہ شہر کے ایک اور شہری حسن لبّاد نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد جب بمباری دوبارہ شروع ہوئی تو جو لوگ ابھی کچھ اطمینان محسوس کرنے لگے تھے، انہیں پھر خوف نے گھیر لیا، خاص طور پر بچوں اور خواتین کو۔
غزہ کی گلیوں میں لوگ بات کرتے ہیں کہ جنگ بندی نے نہ یقین دیا نہ امن، بلکہ صرف ایک سوال چھوڑا ہے — اگلا حملہ کب ہوگا؟
غزہ کے عوام اب دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کہاں ہیں وہ بین الاقوامی ضمانتیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا؟ وہ ثالث ممالک کہاں ہیں جنہوں نے جنگ بندی کرائی اور اس کے تسلسل کی یقین دہانی کرائی تھی؟
مازن شاہین نے کہا کہ ان کے ایک دوست بدھ کے حملوں میں زخمی ہوئے، جن کی حالت اب مستحکم ہے۔
غزہ شہر کی ایک رہائشی سہا عواد نے کہا کہ ہم جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں، ایک مکمل اور پائیدار جنگ بندی۔ ہم صرف محفوظ زندگی چاہتے ہیں، ایسی جنگ بندی نہیں جو ایک دو ہفتے چلے اور پھر حالات دوبارہ بربادی کی طرف لوٹ آئیں۔

