واشنٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے محکمہ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ وہ دیگر جوہری طاقتوں کے مساوی سطح پر فوراً جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرے۔
جمعرات کو ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے جنوبی کوریا کو اپنی ایٹمی توانائی سے چلنے والی آبدوز تیار کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ جنوبی کوریائی صدر لی جے میونگ کے ساتھ کامیاب تجارتی مذاکرات کے بعد کیا گیا۔
ٹرمپ نے یہ بیان اپنے پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اُس وقت جاری کیا جب وہ جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں، تاہم چین آئندہ پانچ برسوں میں اس کے قریب پہنچ جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق، انہوں نے یہ فیصلہ دیگر ممالک کے جوہری تجرباتی پروگراموں کے جواب میں کیا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ میں نے محکمہ جنگ [محکمہ دفاع] کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہمارے جوہری ہتھیاروں کے تجربات مساوی بنیاد پر شروع کرے۔ یہ عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹرمپ کا اشارہ جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کے فلائٹ ٹیسٹ کی طرف تھا یا جوہری دھماکوں کے تجربات کی طرف، جن کی ذمہ داری قومی جوہری سلامتی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔o
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق، چین نے حالیہ برسوں میں تیزی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ بڑھایا ہے جو اب تقریباً 600 تک پہنچ چکا ہے، اور 2023 سے ہر سال 100 کے قریب نئے ہتھیار شامل کیے جا رہے ہیں۔
پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ 2030 تک چین کے پاس 1000 سے زائد فعال جوہری وارہیڈز ہوں گے۔
سینٹر فار آرمز کنٹرول اینڈ نان پروولیفریشن (CACNP) کے مطابق، روس کے پاس اس وقت 5,459 جوہری وارہیڈز ہیں جن میں سے 1,600 فعال ہیں۔
جبکہ امریکہ کے پاس تقریباً 5,550 وارہیڈز ہیں، جن میں سے 3,800 فعال ہیں۔
سرد جنگ کے عروج پر 1960 کی دہائی کے وسط میں امریکہ کے ذخائر میں 31,000 سے زائد فعال اور غیرفعال جوہری ہتھیار شامل تھے۔
سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد جوہری تجربات پر پابندی (moratorium) عائد کی تھی، اور امریکہ نے آخری بار 1992 میں جوہری دھماکہ کیا تھا۔
1996 میں جامع جوہری تجربہ بندی معاہدے (CTBT) کے کھلنے کے بعد سے صرف تین ممالک نے جوہری دھماکے کیے ہیں —
بھارت (1998)، پاکستان (دو مرتبہ 1998) اور شمالی کوریا (پانچ مرتبہ)۔
جمعرات کو ٹرمپ نے مزید اعلان کیا کہ انہوں نے جنوبی کوریا کو اپنی جوہری آبدوز تیار کرنے کے لیے امریکی حمایت کی منظوری دے دی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ قدم جنوبی کوریا کی پرانے طرز کی، کم رفتار ڈیزل آبدوزوں کی جگہ لے گا۔
انہوں نے بتایا کہ نئی آبدوز امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر فلاڈیلفیا میں تیار کی جائے گی، جہاں جنوبی کوریائی کمپنی ہنوا (Hanwha) کا شپ یارڈ موجود ہے۔
یہ اقدام جنوبی کوریا کو اُن چند ممالک کے کلب میں شامل کر دے گا جن کے پاس جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں ہیں، یعنی امریکہ، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور بھارت۔
بدھ کو ہونے والی ملاقات میں صدر لی جے میونگ نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے ایٹمی توانائی کے معاہدے میں ترمیم کریں تاکہ جنوبی کوریا کو خرچ شدہ ایندھن کی دوبارہ پراسیسنگ اور یورینیم افزودگی میں زیادہ لچک دی جا سکے۔
یہ دیرینہ معاہدہ جنوبی کوریا کو یورینیم کو 20 فیصد سے زیادہ افزودہ کرنے سے روکتا ہے، اور اسے امریکی اجازت کے بغیر خرچ شدہ ایندھن کی دوبارہ پراسیسنگ کی اجازت نہیں۔
صدر لی نے کہا کہ ان پابندیوں میں نرمی سے جنوبی کوریا کو اپنی آبدوزوں کے لیے ایندھن کی فراہمی ممکن ہو گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ایٹمی ہتھیار نہیں بلکہ صرف ایندھن حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایندھن کی فراہمی کی اجازت مل جائے تو ہم اپنی ٹیکنالوجی سے کئی روایتی ہتھیاروں سے لیس آبدوزیں تیار کر سکتے ہیں، جو جزیرہ نما کوریا کے سمندری علاقوں کے دفاع میں مددگار ہوں گی، اور اس طرح امریکی افواج کا بوجھ بھی کم ہوگا۔
ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ جنوبی کوریا کو ایٹمی آبدوز کی توانائی کے نظام (propulsion technology) کہاں سے فراہم کیا جائے گا۔
امریکہ نے یہ ٹیکنالوجی تاریخ میں صرف ایک بار — 1950 کی دہائی میں برطانیہ کے ساتھ — شیئر کی تھی۔

