ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیسوڈان کے شہر الفاشر میں ہولناک قتلِ عام

سوڈان کے شہر الفاشر میں ہولناک قتلِ عام
س

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – علاقائی ممالک نے سوڈان کے مغربی دارفور کے شہر الفاشر میں نیم فوجی فورس ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ نئے شواہد اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ یہاں منظم قتلِ عام کیا گیا۔

طبی ماہرین اور محققین کے مطابق، آر ایس ایف نے حال ہی میں الفاشر پر قبضے کے دوران درجنوں شہریوں کو ہلاک کر دیا۔ سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بدھ کو کہا کہ محصور شہر سے فرار کی کوشش کرنے والے شہریوں پر حملوں میں گزشتہ تین دنوں کے دوران کم از کم 1,500 افراد مارے گئے۔ اس تنظیم نے صورتحال کو ’’ایک حقیقی نسل کشی‘‘ قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ قتلِ عام اُس سلسلے کی توسیع ہے جو ڈیڑھ سال قبل الفاشر میں ہوا تھا، جب بمباری، بھوک اور ماورائے عدالت قتل کے ذریعے 14,000 سے زائد شہری مارے گئے۔‘‘
تنظیم کے مطابق یہ حملے ’’سوچی سمجھی اور منظم قتل و صفایا مہم‘‘ کا حصہ ہیں۔

ماسی قتلِ عام کے نئے شواہد

ییل یونیورسٹی کے ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب (HRL) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں الفاشر کے مختلف مقامات پر انسانی جسامت کے برابر اجسام کے جھرمٹ اور زمین پر سرخی مائل بڑے دھبے دیکھے گئے ہیں، جو اجتماعی قتل و غارت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

آر ایس ایف اور سوڈانی فوج کے درمیان 2023 سے جاری خونریز خانہ جنگی میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔

آر ایس ایف نے 17 ماہ کے محاصرے کے بعد اتوار کو دارفور میں فوج کے آخری گڑھ الفاشر پر قبضہ کر لیا۔
سوڈانی حکومت کے مطابق بدھ تک شہر میں کم از کم 2,000 افراد مارے جا چکے ہیں۔

امدادی اداروں نے ماورائے عدالت قتل، شہریوں پر راستوں میں حملوں، گھروں میں چھاپوں اور اجتماعی ہلاکتوں کی مصدقہ اطلاعات موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

الفاشر کے سقوط کے بعد آر ایس ایف نے دارفور کے وسیع علاقے پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس سے ماہرین کو خدشہ ہے کہ سوڈان ایک بار پھر تقسیم کی طرف جا سکتا ہے — جنوبی سوڈان کی علیحدگی کے ایک دہائی بعد۔

مساجد اور اسپتالوں میں قتلِ عام

سوڈان کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے شہر میں مساجد میں پناہ لینے والے شہریوں کو نشانہ بنایا۔

انسانی امداد کی افسر مونا نورالدائم کے مطابق، ملیشیا کے حملے کے دوران 2,000 سے زائد شہری مارے گئے، جن میں رضاکار، مسجدوں میں پناہ لینے والے افراد اور ریڈ کریسنٹ کے کارکن شامل تھے۔

الجزیرہ کی نامہ نگار ہیبا مورگن کے مطابق، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی آر ایس ایف کی ویڈیوز میں جنگجوؤں کو بھاگتے ہوئے شہریوں پر فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تازہ ترین اور سب سے ہولناک ویڈیو میں جنگجوؤں کو سعودی اسپتال کے اندر مریضوں کو گولیاں مارتے دیکھا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق، اس اسپتال میں تقریباً 500 افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔
مارے جانے والوں میں طبی عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایدہانوم گیبرییسس نے تصدیق کی کہ سعودی میٹرنٹی اسپتال میں 460 سے زائد افراد مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ ان رپورٹوں سے گہرا صدمہ اور غم محسوس کر رہا ہے۔

سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک کے مطابق، آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے منگل کو سعودی اسپتال میں موجود تمام مریضوں، ان کے لواحقین اور عملے کو بے دردی سے قتل کر دیا۔

عرب ممالک کا شدید ردعمل

سعودی عرب، مصر، قطر، ترکیہ اور اردن نے سوڈان میں آر ایس ایف کے مظالم کی سخت مذمت کی ہے۔

سعودی عرب نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ پر زور دیا۔
مصر نے فوری انسانی جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور سوڈان کی بحالی میں تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
ترکیہ نے الفاشر میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے، انسانی امداد کے محفوظ راستے اور مکالمے کے ذریعے حل پر زور دیا۔
قطر نے ’’ہولناک خلاف ورزیوں‘‘ کی مذمت کرتے ہوئے فوری مذاکرات کی اپیل کی۔
اردن نے بھی تشدد کے خاتمے، تحمل اور فوری جنگ بندی پر زور دیا تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں۔

آر ایس ایف نے ان الزامات پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

پس منظر: ’جنجوید‘ سے آر ایس ایف تک

یہ نیم فوجی تنظیم دراصل اُس بدنامِ زمانہ جنجوید ملیشیا سے ابھری ہے، جس نے 2000 کی دہائی میں دارفور میں نسل کشی کی تھی۔امریکہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ موجودہ جنگ میں آر ایس ایف اور اس کے اتحادیوں نے نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

ییل ریسرچ لیب کی رپورٹ: ’’ناقابلِ تصور پیمانے کی ہلاکتیں‘‘

منگل کو ییل یونیورسٹی کی HRL نے سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی رپورٹ میں کہا کہ آر ایس ایف فورسز نے الفاشر پر قبضے کے بعد اجتماعی قتلِ عام کیے ہیں۔

لیب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیتھینیل ریمونڈ نے کہا کہ یہ تشدد اپنی نوعیت میں بے مثال ہے۔ شہر کے اردگرد بنے مٹی کے بند سے لے کر داراجہ اولیٰ جیسے محلوں، اسپتالوں اور امدادی مراکز تک — ہر جگہ انسانی لاشوں کے سائز کے اجسام زمین پر بکھرے دکھائی دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اجسام 36 سے 48 گھنٹے قبل وہاں موجود نہیں تھے، اب پورا شہر ان سے اٹا ہوا ہے۔

ریسرچر نے خبردار کیا کہ یہ قتلِ عام محض آغاز ہے، اور دارفور اور شمالی کردفان کے دیگر علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے، جیسے جیسے آر ایس ایف مشرقی سوڈان کی طرف بڑھ رہی ہے۔

جنگ کی جڑیں: سیاسی و جغرافیائی عوامل

سابق سرکاری اہلکار احمد ابراہیم نے بتایا کہ آر ایس ایف کو قومی فوج میں ضم کیا جانا تھا، لیکن ’’اندرونی سیاست اور جغرافیائی مفادات‘‘ کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔
ان کے مطابق، بعض قوتیں چاہتی تھیں کہ آر ایس ایف ملک کے وسائل پر قابض ہو کر قومی فوج کی جگہ لے اور پورے سوڈان پر کنٹرول حاصل کرے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران سوڈان کے نایاب معدنی وسائل اور بحیرہ احمر کی تجارتی راہداری کا استعمال مشرقی افریقہ کی منڈیوں میں برآمدات کے لیے کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد سوڈان کو اس کے قومی وسائل سے محروم کرنا ہے۔

احمد ابراہیم کے بقول: یہ محض دو جنرلوں کی طاقت کی جنگ نہیں، بلکہ خطے کی جغرافیائی ازسرنو تشکیل کی ایک بڑی کوشش ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین