اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیاقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 33ویں سال بھی امریکہ سے کیوبا...

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 33ویں سال بھی امریکہ سے کیوبا پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا
ا

اقوامِ متحدہ(مشرق نامہ)، 29 اکتوبر (اے پی پی): اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کے روز بھاری اکثریت سے ایک قرار داد منظور کی، جس میں امریکہ سے کیوبا پر عائد اقتصادی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا — یہ مسلسل 33واں سال ہے جب عالمی برادری نے واشنگٹن کی اس پالیسی کو مسترد کیا ہے۔

193 رکنی اسمبلی میں 167 ممالک نے حق میں، 7 نے مخالفت میں اور 12 نے غیر جانب داری اختیار کی۔ گزشتہ سال ووٹنگ 187-2 رہی تھی، جس میں صرف امریکہ اور اسرائیل نے مخالفت کی تھی۔ اس بار امریکہ نے ارجنٹینا، ہنگری، شمالی مقدونیہ، پیراگوئے اور یوکرین کو بھی اپنے ساتھ ووٹ دینے پر آمادہ کیا۔

غیر جانب دار رہنے والے ممالک میں البانیا، بوسنیا و ہرزیگووینا، کوسٹاریکا، چیکیا، ایکواڈور، ایسٹونیا، لٹویا، لتھوانیا، مراکش، پولینڈ، مالدووا اور رومانیہ شامل تھے۔

ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جب کیوبا سمندری طوفان میلیسا سے متاثر تھا۔

اقوامِ متحدہ میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکی پابندیاں کیوبا کے عوام کی روزمرہ زندگی، انسانی حقوق اور معیشت پر شدید منفی اثرات ڈال رہی ہیں۔

پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے ووٹنگ سے قبل اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کیوبا کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے اور اس معاشی و تجارتی ناکہ بندی کے انسانی اثرات پر گہری تشویش رکھتا ہے۔

پولینڈ نے، جو چیکیا، ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا کی نمائندگی بھی کر رہا تھا، اپنی غیر جانب داری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقف "اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے انتخابی اطلاق” کے خلاف ہے، کیونکہ کیوبا نے یوکرین پر روس کے حملے کی حمایت جاری رکھی ہے۔

رومانیہ نے بھی یہی مؤقف اپنایا کہ اگرچہ وہ پہلے اس قرارداد کی حمایت کرتا رہا ہے، مگر "غیر قانونی جارحیت کی جنگ میں غیر ملکی مداخلت” اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے منافی ہے۔

کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو روڈریگیز پاریلا نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ کیوبن فوجی روس کے ساتھ یوکرین میں لڑ رہے ہیں۔

اگرچہ یہ قرارداد غیر پابند (non-binding) ہے، تاہم اس کی منظوری ایک بار پھر یہ ظاہر کرتی ہے کہ عالمی برادری یکطرفہ اقتصادی دباؤ اور زبردستی کے اقدامات کی مخالفت کرتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین