اسلام آباد،(مشرق نامہ) 27 اکتوبر (ایکسپریس ٹریبیون):سعودی عرب نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر مالیت کی تیل کی فراہمی کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو موجودہ مالی سال 2025-26 کے دوران دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی 5 ارب ڈالر کے موجودہ ڈپازٹس کو بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق، یہ آئل فنانسنگ سہولت پاکستان کی توانائی کی درآمدات کے اخراجات پورے کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے گی۔ ان کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالر دسمبر اور 3 ارب ڈالر جون 2026 میں ری فنانس کیے جائیں گے۔
پہلی سہ ماہی میں پاکستان نے اس سہولت کے تحت تقریباً 85 ارب روپے (300 ملین ڈالر) مالیت کا تیل حاصل کیا، جو ماہانہ 100 ملین ڈالر کے قریب بنتا ہے۔ یہ سہولت 4 فیصد سالانہ شرحِ سود پر دی جا رہی ہے اور اسے ہر سال پاکستان کے بیرونی کھاتے کے استحکام کے لیے تجدید کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب، وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے تین روزہ دورے پر ریاض پہنچ گئے، جہاں وہ نومیں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کانفرنس (FII9) میں شرکت کر رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹریٹجک مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت "کسی بھی ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا”۔ اس معاہدے کے بعد وزیرِ اعظم کی ہدایت پر ایک 18 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو پاکستان-سعودی اقتصادی فریم ورک کے تحت دفاع، توانائی، ماحولیات اور موسمیاتی استحکام سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر مذاکرات کی نگرانی کرے گی۔

