نئی دہلی/ بیجنگ (مشرق نامہ) – بھارت اور چین کے درمیان براہِ راست پروازیں پانچ سال کے وقفے کے بعد اتوار کے روز باضابطہ طور پر بحال ہو گئیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کئی برسوں کی کشیدگی کے بعد یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب گزشتہ اکتوبر میں قازان میں منعقدہ برکس (BRICS) سربراہی اجلاس کے دوران بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات میں فضائی رابطے کی بحالی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
پہلی پرواز، جو نجی بھارتی فضائی کمپنی انڈیگو (IndiGo) کے اے-۳۲۰ نیو طیارے کے ذریعے کولکتہ سے گوانگژو روانہ ہوئی، میں ۱۷۶ مسافر سوار تھے۔
ایئرپورٹ پر ایک مختصر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ایک مسافر نے روایتی چراغ روشن کیا — جو بھارت اور چین کے درمیان تجدیدِ دوستی اور تعاون کی علامت تھا۔
ایک مسافر عبدال نے بتایا کہ میری پرواز ہانگ کانگ جانے والی تھی، لیکن اب براہِ راست کولکتہ سے گوانگژو جا رہی ہے۔ یہ ایک بہترین موقع ہے، اور میں امید کرتا ہوں کہ جلد ہی دہلی سے بھی براہِ راست پروازیں شروع ہوں گی۔
بھارت میں چینی سفارت خانے کی ترجمان یو جِنگ (Yu Jing) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی-نئی دہلی فضائی روٹ ۹ نومبر سے شروع ہوگا، جس کے تحت ہفتے میں تین پروازیں چلائی جائیں گی۔
بھارت اور چین کے درمیان براہِ راست پروازیں سنہ ۲۰۲۰ میں کووِڈ-۱۹ وبا کے آغاز پر معطل کر دی گئی تھیں۔ اسی سال جون میں سرحدی جھڑپ نے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا تھا۔
جولائی ۲۰۲۵ میں بھارت نے پانچ سال کے وقفے کے بعد چینی شہریوں کو سیاحتی ویزے جاری کرنے کا عمل دوبارہ شروع کیا۔ اس کے بعد وزیرِ اعظم مودی نے ۲۰۱۸ کے بعد پہلی مرتبہ چین کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس کے موقع پر صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ مودی نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے تعلقات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں، سرحدوں پر امن اور استحکام قائم ہے۔
بھارت میں چینی سفیر شو فے ہونگ (Xu Feihong) نے اتوار کے روز اپنے بیان میں کہا کہ مالی سال ۲۰۲۵-۲۶ کے پہلے نصف حصے میں بھارت کی چین کو برآمدات میں تقریباً ۲۲ فیصد اضافہ ہوا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں ہے۔
انہوں نے لکھا کہ چین اپنے بازار میں بھارتی مصنوعات کا خیرمقدم کرتا ہے اور بھارت کی تجارت پر امریکی ٹیرف کے اثرات کو کم کرنے کے لیے تعاون کا خواہاں ہے۔
براہِ راست پروازوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں نے سرحدی انتظامات کو بہتر بنانے اور سرحد پار تجارت کو دوبارہ شروع کرنے کے اقدامات پر بھی اتفاق کیا ہے۔

