ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیکیا روسی تیل پر امریکی پابندیاں کارگر ہوں گی؟

کیا روسی تیل پر امریکی پابندیاں کارگر ہوں گی؟
ک

تحریر: کلا ئیڈ رسل

لانسیسٹن، آسٹریلیا – خام تیل کی عالمی منڈی میں ایک عام خیال یہ ہے کہ مغربی ممالک کی روسی برآمدات پر عائد پابندیاں زیادہ مؤثر نہیں رہتیں، کیونکہ منڈی جلد ہی ایسے طریقے ایجاد کر لیتی ہے جن سے تیل کی ترسیل بدستور جاری رہتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی نئی پابندیاں لگتی ہیں، ان سے تیل کی قیمتوں میں وقتی اضافہ ضرور ہوتا ہے، مگر جلد ہی یہ اثر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ رسد تقریباً بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہتی ہے۔

یہی صورتِ حال غالباً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ پابندیوں کے ساتھ بھی دہرائی جا رہی ہے، جو گزشتہ ہفتے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں لوک آئل (Lukoil) اور روس نیفٹ (Rosneft) پر عائد کی گئی ہیں۔

یہ دونوں کمپنیاں عالمی خام تیل کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 5 فیصد یعنی 53 لاکھ بیرل یومیہ پیدا کرتی ہیں، جن میں سے 35 لاکھ بیرل یومیہ برآمد کیے جاتے ہیں۔

نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد بین الاقوامی معیار کے مطابق برینٹ فیوچرز کی قیمتوں میں 8.9 فیصد اضافہ ہوا، اور 24 اکتوبر کے دوران تجارت میں یہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح 66.78 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں۔ تاہم پیر کے روز ایشیائی تجارت کے آغاز میں یہ قدرے کم ہو کر 66.37 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہیں۔

بظاہر یہ قیمتوں میں ایک نمایاں اضافہ معلوم ہوتا ہے، مگر یہ اس حد تک نہیں پہنچا جو اس صورت میں ہوتا اگر منڈی کو واقعی خدشہ ہوتا کہ 35 لاکھ بیرل یومیہ تیل سمندری راستے سے منڈی میں آنے سے رک جائے گا۔

جب روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا، تو صرف روسی برآمدات کے متاثر ہونے کے خدشے پر تیل کی قیمت تقریباً 140 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔

اب توقع کی جا رہی ہے کہ روسی برآمد کنندگان نئی پابندیوں سے بچنے کے لیے ڈارک فلیٹ یعنی غیر رجسٹرڈ ٹینکروں کے نیٹ ورک، درجنوں ثالثی کمپنیوں اور غیر امریکی مالیاتی چینلز کے ذریعے تیل برآمد کرتے رہیں گے۔

ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہی سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ ہے — یعنی روسی خام تیل کی ترسیل میں کوئی بڑی یا دیرپا رکاوٹ پیدا ہونے کے امکانات کم ہیں۔

کیا اس کا مطلب ہے کہ پابندیاں بیکار ہیں؟

یہ سوال دراصل اس بات پر منحصر ہے کہ ان پابندیوں سے حاصل کیا مقصد رکھا گیا ہے۔

اگر مقصد یہ ہے کہ روسی تیل کی برآمدات کو روک کر اس کے بڑے خریدار — چین اور بھارت — کو خریداری سے باز رکھا جائے، تو تازہ پابندیاں مؤثر ثابت ہونے کا امکان کم ہے۔

لیکن اگر مقصد یہ ہے کہ روسی تیل کی رسد عالمی منڈی میں جاری رہے مگر ماسکو کو اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کم ہو، تو یہ پابندیاں کسی حد تک کارگر ہو سکتی ہیں۔

نئی پابندیاں چین اور بھارت کے ریفائنرز کے لیے روس کے ساتھ لین دین کو زیادہ خطرناک بنا دیتی ہیں، کیونکہ یہ دونوں ممالک اب واحد بڑے خریدار رہ گئے ہیں۔ اس لیے ان خریداروں کے تیل درآمد جاری رکھنے کے لیے مزید بھاری رعایتوں کا مطالبہ کرنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

علاوہ ازیں، ڈارک فلیٹ اور درمیانی ٹریڈنگ کمپنیوں کے استعمال سے روسی خام تیل کی ترسیل پر لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

روسی تیل کمپنیوں کو عالمی امریکی ڈالر بینکنگ نظام سے باہر کرنا بھی ان کے مالیاتی عمل کو مزید مہنگا بنا دیتا ہے، کیونکہ جب ادائیگیاں کئی درمیانی کمپنیوں اور آف شور اکاؤنٹس کے ذریعے کی جاتی ہیں، تو ہر واسطہ اپنے حصے کا کمیشن لے لیتا ہے۔

کیا پابندیاں مؤثر ہیں؟

واضح طور پر مغربی پابندیاں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو یوکرین کی جنگ ختم کرنے پر آمادہ نہیں کر سکیں، اور یہ بھی بعید از قیاس ہے کہ ان سے روسی برآمدات میں کوئی خاطر خواہ کمی واقع ہو۔

تاہم ان سے روس کے لیے تیل بیچنا زیادہ مشکل ضرور ہو جاتا ہے، اور فی بیرل آمدنی میں کمی آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

اس کے علاوہ روسی تیل کے بہاؤ میں ایک بار پھر رد و بدل دیکھنے میں آ سکتا ہے کیونکہ بعض خریدار احتیاطاً پیچھے ہٹ جائیں گے۔

بھارتی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز اس ضمن میں ایک مثال ہو سکتی ہے۔

یہ کمپنی بھارت کے مغربی ساحل پر واقع جام نگر میں 12.4 لاکھ بیرل یومیہ کی گنجائش والا ریفائنری کمپلیکس چلاتی ہے، جو ملکی اور برآمدی دونوں منڈیوں کے لیے ایندھن تیار کرتا ہے۔

ریلائنس نے کہا ہے کہ وہ مغربی پابندیوں کی پابند رہے گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روس نیفٹ کے ساتھ اپنا 5 لاکھ بیرل یومیہ کا معاہدہ ختم کر سکتی ہے۔

یہ بھی امکان ہے کہ کمپنی کچھ روسی تیل اسپاٹ یعنی عارضی بنیادوں پر خریدتی ہو۔
کپلر نامی کموڈیٹی تجزیہ کار ادارے کے مطابق سِکّا پورٹ کے ذریعے، جو جام نگر ریفائنری کو تیل فراہم کرتا ہے، روسی خام تیل کی درآمدات اکتوبر میں 5.91 لاکھ بیرل یومیہ متوقع ہیں۔
یہ مقدار دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ ہونے والی اوسط 7.66 لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہے، لیکن پہلی سہ ماہی کی اوسط 5.63 لاکھ بیرل یومیہ کے قریب ہے۔

اگر ریلائنس واقعی روسی درآمدات روک دیتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ تقریباً 5 لاکھ بیرل یومیہ تیل دوسرے خریداروں کے لیے دستیاب ہو جائے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کی سرکاری ریفائنریاں اتنا خطرہ مول لینے کو تیار ہوں گی؟
یا پھر کیا چینی ریفائنرز روسی تیل کی خرید میں اضافہ کر سکیں گے؟

یہ سب کچھ اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ آیا صدر ٹرمپ بھارت اور چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں — اور کیا ان معاہدوں میں روسی تیل کا معاملہ شامل ہوتا ہے۔

امکان یہی ہے کہ نئی دہلی اور بیجنگ دونوں واشنگٹن سے نمایاں رعایتیں حاصل کیے بغیر روسی تیل کی خریداری میں کمی پر آمادہ نہیں ہوں گے۔

فی الحال روسی تیل کی برآمدات کے جاری رہنے کا امکان غالب ہے، مگر منڈی کے لیے اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ معاملہ صدر ٹرمپ کے زیرِ قیادت عالمی تجارت کی نئی سیاسی بساط میں ایک سیاسی ہتھیار کی شکل اختیار کر لے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین