اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامینتن یاہو کا بیان: اسرائیل خود طے کرے گا کہ غزہ میں...

نتن یاہو کا بیان: اسرائیل خود طے کرے گا کہ غزہ میں امن کے لیے کن غیر ملکی افواج کو اجازت دی جائے گی
ن

یروشلم، 26 اکتوبر (مشرق نامہ)(رائٹرز) — اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے اتوار کے روز کہا کہ اسرائیل خود فیصلہ کرے گا کہ غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی امن فورس میں کون سی غیر ملکی افواج قابلِ قبول ہوں گی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے تحت جنگ بندی کو مستحکم بنانے کے لیے تعینات کی جائیں گی۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ عرب یا دیگر ممالک اس فورس میں فوج بھیجنے کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں، کیونکہ فلسطینی تنظیم حماس نے اب تک ٹرمپ کے منصوبے میں شامل غیر مسلح ہونے (disarmament) کی شرط کو تسلیم نہیں کیا ہے، جبکہ اسرائیل کو بھی فورس کے ممکنہ ڈھانچے پر تحفظات ہیں۔

امریکہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے فوجی غزہ نہیں بھیجے گا، تاہم اس نے انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر، قطر، ترکی اور آذربائیجان سے اس کثیرالقومی فورس میں شمولیت پر بات چیت کی ہے۔

نتن یاہو نے کہا:“ہم اپنی سکیورٹی کے خود ذمے دار ہیں، اور ہم نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ بین الاقوامی فورسز کے معاملے میں اسرائیل طے کرے گا کہ کون سی افواج ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ ہم اسی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ یہ موقف امریکہ کے لیے بھی قابلِ قبول ہے اور واشنگٹن کے اعلیٰ حکام نے حالیہ دنوں میں اس کی توثیق کی ہے۔

اسرائیل نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے سرحد پار حملے کے بعد دو سال تک غزہ پر محاصرہ اور فضائی و زمینی جنگ جاری رکھی، اور آج بھی علاقے کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر اسرائیلی کنٹرول برقرار ہے۔


ترکی کے کردار کی مخالفت

گزشتہ ہفتے نتن یاہو نے اشارہ دیا کہ وہ غزہ میں کسی ترک سکیورٹی کردار کے سخت مخالف ہیں۔ غزہ جنگ کے دوران ترکی-اسرائیل تعلقات شدید طور پر خراب ہوئے، اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کی تباہ کن کارروائیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کے دورے کے دوران کہا کہ بین الاقوامی فورس میں صرف وہ ممالک شامل ہوں گے “جن کے ساتھ اسرائیل کو اطمینان ہو۔” انہوں نے ترکی کے ممکنہ کردار پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

روبیو نے مزید کہا کہ غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر اسرائیل اور اس کے شراکت دار ممالک کو بات چیت کرنی ہوگی، مگر اس میں حماس کو کوئی کردار نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ ایک ممکنہ اقوام متحدہ کی قرارداد یا بین الاقوامی معاہدے کے ذریعے اس فورس کو قانونی حیثیت دینے کے لیے رائے لے رہا ہے، اور اس سلسلے میں اتوار کو قطر میں مذاکرات ہوں گے، جو غزہ تنازعے میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔


ٹرمپ کے منصوبے کو درپیش بڑی رکاوٹ — حماس کا ہتھیار نہ ڈالنا

ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے طور پر دو ہفتے قبل نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا ہے، بلکہ اس نے ان قبیلوں پر سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے جو اس کے اقتدار کو چیلنج کر رہے تھے۔


اسرائیل: حماس کو یرغمالیوں کی باقی لاشوں کی جگہ معلوم ہے

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حماس کے پاس اب بھی 13 جاں بحق یرغمالیوں کی لاشیں موجود ہیں۔ “ہمیں معلوم ہے کہ حماس کو علم ہے کہ ہمارے مقتول یرغمالی کہاں دفن ہیں۔ اگر وہ سنجیدگی سے کوشش کرے تو ان کی باقیات برآمد کی جا سکتی ہیں،”
ترجمان نے کہا۔

اسرائیل نے مصری ماہرین کی ایک تکنیکی ٹیم کو ریڈ کراس کے ساتھ مل کر لاشوں کی تلاش کی اجازت دی ہے۔ یہ ٹیم کھدائی کی مشینوں اور ٹرکوں کے ذریعے اس علاقے میں کام کرے گی جو غزہ کے اندر “پیلی لائن” کے پار واقع ہے — وہ حد جس کے پیچھے اسرائیلی فوج ٹرمپ منصوبے کے تحت عارضی طور پر پیچھے ہٹ گئی ہے۔


نتن یاہو نے کابینہ اجلاس کے آغاز میں کہا کہ اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ “امریکی حکومت مجھے کنٹرول کرتی ہے یا اسرائیل کی سکیورٹی پالیسی طے کرتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ ایک “شراکت داری” کے تعلق میں ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے نتن یاہو کو عالمی دباؤ کے باوجود جنگ بندی قبول کرنے پر آمادہ کیا اور یہاں تک کہ اسے قطر کے امیر سے ایک ناکام فضائی حملے پر معافی مانگنے پر مجبور کیا، جو مبینہ طور پر حماس کے مذاکرات کاروں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے عرب ریاستوں کو بھی قائل کیا کہ وہ حماس پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے — جو اس جنگ میں اسرائیل کے لیے سب سے بڑا سفارتی کارڈ بن گیا تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین