اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیپاکستان نیوی کی کارروائی میں 972 ملین ڈالر کی منشیات برآمد —...

پاکستان نیوی کی کارروائی میں 972 ملین ڈالر کی منشیات برآمد — آئس افغانستان سے اسمگل شدہ
پ

مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)پاکستان نیوی کے جہاز یَرموک نے 48 گھنٹوں کے اندر بحرِ عرب میں دو کشتیوں کو روک کر تقریباً ڈھائی ٹن کرسٹل میتھ (آئس) اور 50 کلو گرام کوکین برآمد کر لی، جو دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی سمندری منشیات برآمدگیوں میں سے ایک ہے۔ ان منشیات کی عالمی منڈی میں مالیت تقریباً 972 ملین ڈالر بنتی ہے، جو مئی میں پاکستان کو ملنے والے آئی ایم ایف کے ایک ارب ڈالر کے قسط سے صرف معمولی کم ہے۔

یہ گرفتاری دو وجوہات سے غیر معمولی ہے: اول، بحرِ عرب عموماً منشیات کی ترسیل کے روایتی راستوں میں شامل نہیں، اور دوم، ’آئس‘ کی اتنی بڑی مقدار عام طور پر جنوب مشرقی ایشیا — خصوصاً لاؤس، کمبوڈیا اور میانمار — میں دیکھی جاتی ہے، جو تاریخی طور پر میتھ کی پیداوار کے مرکز رہے ہیں۔

گزشتہ دہائی میں پاکستان میں آئس کے استعمال میں خطرناک اضافہ ہوا ہے، اور اب یہ ہیروئن کی جگہ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی منشیات بن چکی ہے۔ بحالی مراکز کے مطابق، سندھ میں تقریباً 70 فیصد مریض آئس کے عادی ہیں۔

پاکستان اب صرف صارف ملک نہیں بلکہ ترسیلی راستے کا حصہ بھی بن چکا ہے۔ 2020 میں پسنی کے ساحلی علاقے میں 100 کلو گرام آئس اور بعد ازاں ایک اور کارروائی میں 200 کلو گرام آئس اور 227 کلو ہیروئن برآمد ہوئی۔ یہی راستہ منشیات کو سری لنکا اور دیگر ممالک تک پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) نے 2023 میں متنبہ کیا کہ افغانستان ایک نئے میتھامفیٹامین پیدا کرنے والے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انکشاف ہوا کہ افغانستان میں مقامی پودا ایفیڈرا استعمال کر کے سستی اور مؤثر آئس تیار کی جا رہی ہے، حالانکہ ملک میں کوئی فارماسیوٹیکل صنعت موجود نہیں۔

افغان طالبان نے ہیروئن مارکیٹ پر قبضے کے بعد تیزی سے آئس کی پیداوار کی طرف رخ کیا، جو زیادہ منافع بخش اور آسان ہے۔ 2021 میں صرف فراہ صوبے کے بَکوا ضلع میں آئس کی تجارت کی مالیت تقریباً 240 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

یہ منشیات زیادہ تر پاکستان کے راستے سمندری راستوں سے بیرونِ ملک اسمگل کی جاتی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا تناؤ پیدا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغان طالبان کی بارڈر فینسنگ کی مخالفت اور ’’آزادانہ نقل و حرکت‘‘ پر اصرار کے پیچھے اس منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والے مالی مفادات بھی شامل ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین