مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)پاکستان میں ٹماٹر کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا جو 600 سے 700 روپے فی کلو تک پہنچ گیا تھا، تاہم ایران سے درآمد کے بعد قیمتوں میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔ اس وقت کراچی میں ایرانی ٹماٹر 200 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جس سے صارفین کو کچھ ریلیف ملا ہے۔
تاجروں کے مطابق پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے ٹماٹر کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ سوات سے آنے والی فراہمی بھی کم ہو گئی ہے۔ دوسری جانب سندھ سے نئی فصل کی آمد شروع ہو چکی ہے، مگر زیادہ تر ٹماٹر ابھی کچے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو آئندہ سال مارچ تا اپریل کے دوران ٹماٹروں کی سپلائی میں واضح کمی ہو سکتی ہے، جس سے ایک بار پھر قیمتوں میں تیزی کا خدشہ ہے۔ پنجاب اس وقت سوات اور ایران سے آنے والے ٹماٹروں پر انحصار کر رہا ہے، جہاں سے روزانہ 70 سے 90 ٹرک ٹماٹر پہنچ رہے ہیں۔
پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ وحید احمد کے مطابق بارشوں اور سیلاب نے پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے کچھ حصوں میں ٹماٹر کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ افغانستان سے درآمد سرحدی کشیدگی کے باعث بند ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹماٹر کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹیز میں کمی کرے تاکہ اگلے بحران سے بچا جا سکے۔ ماضی میں بھارت، ایران اور افغانستان سے ٹماٹر کی درآمد نے قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارشوں اور فصلوں کی تباہی کے اثرات برقرار رہے تو آئندہ بہار میں ٹماٹر ایک بار پھر "نایاب اور مہنگا” ہو سکتا ہے۔

