اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیاستنبول مذاکرات میں تعطل — افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے...

استنبول مذاکرات میں تعطل — افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے گریز، پاکستان کا دوٹوک مؤقف
ا

مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات دوسرے روز بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے کیونکہ افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرنے سے گریز کیا۔ قطری اور ترک ثالثوں کی موجودگی میں ہونے والے یہ مذاکرات نو گھنٹے سے زائد جاری رہے جن میں پاکستانی وفد نے واضح طور پر کہا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے اور طالبان حکومت کو ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے ہوں گے۔

پاکستانی وفد نے ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہوں کی افغانستان میں موجودگی کے تصویری اور دستاویزی شواہد پیش کیے۔ پاکستانی عہدیداروں کے مطابق طالبان کا ردعمل "غیر منطقی اور زمینی حقائق کے منافی” تھا۔ افغان وفد نے کوئی تحریری یقین دہانی دینے سے انکار کیا اور براہِ راست ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی تجویز پیش کی جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروہ سے بات چیت نہیں کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق طالبان وفد کو کابل اور قندھار سے ہدایات دی جا رہی تھیں اور ان کے پاس خود فیصلے کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ پاکستان نے خبردار کیا کہ اگر طالبان نے دہشت گردوں کی سرپرستی ختم نہ کی تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ انہی مذاکرات کے دوران پاکستان کے فوجی حکام نے کرم اور شمالی وزیرستان میں افغان سرحد سے دراندازی کی کوششوں کی اطلاع دی، جس سے طالبان کے عزائم پر مزید شکوک پیدا ہوئے۔

یہ مذاکرات دوحہ میں 19 اکتوبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد ترکی کی میزبانی میں جاری سلسلے کا حصہ تھے، جس میں قطر ضامن اور ثالث کے طور پر شامل تھا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین