ماسکو (مشرق نامہ) – روسی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے یوکرین کے علاقوں کوپیانسک اور کراسنوآرمیسک میں 10 ہزار سے زائد یوکرینی فوجیوں کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اتوار کے روز فوجی کمانڈ پوسٹ کے دورے کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تقریباً 10 ہزار 500 یوکرینی فوجی ان دو محاذوں پر روسی افواج کے محاصرے میں ہیں۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ صدر پیوٹن نے چیف آف جنرل اسٹاف والیری گیراسیموف اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں سے ملاقات کی، جنہوں نے محاذِ جنگ کی تازہ صورتِ حال سے آگاہ کیا۔
پیسکوف کے مطابق، دو مختلف سمتوں میں 10 ہزار سے زائد یوکرینی فوجی روسی افواج کے محاصرے میں آ چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کوپیانسک کے محاذ پر تقریباً 5 ہزار اور کراسنوآرمیسک کے محاذ پر تقریباً 5 ہزار 500 یوکرینی فوجی گھیرے میں ہیں۔
روسی افواج نے اوسکول دریا پر ایک اہم گزرگاہ بھی آزاد کر لی ہے، جس کے بعد یوکرینی افواج کی نقل و حرکت منقطع ہو گئی ہے، جب کہ روسی فوج اس وقت یامپول کے مکمل کنٹرول کے قریب ہے اور قریبی شہر وولچانسک کا 70 فیصد علاقہ آزاد کرا لیا گیا ہے۔
روسی فوج کے مطابق، کراسنوآرمیسک اور دیمتروف کے علاقوں میں کل 31 یوکرینی بٹالینیں محاصرے میں ہیں۔
پیسکوف نے بتایا کہ صدر پیوٹن نے اپنی افواج کو یوکرین کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں پر مبارک باد دی اور انہیں ہدایت کی کہ گھیرے میں آئے یوکرینی فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جائے اور جانی نقصان کم سے کم رکھا جائے۔
پیوٹن نے کہا کہ روسی فوج ہمیشہ اپنے دشمنوں کے ساتھ رحم و شفقت کا برتاؤ کرتی ہے اور اس روایت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ روسی فوجیوں کی جانوں کا تحفظ کریملن کی اولین ترجیح ہے۔
صدر پیوٹن نے کمانڈروں کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ ان علاقوں کے عام شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔
پیوٹن نے الزام لگایا کہ یوکرینی افواج مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
انہوں نے روسی فوج کو ہدایت دی کہ وہ مشرقی یوکرین میں کارروائیاں جنرل اسٹاف کے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رکھے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیوٹن پر اظہارِ مایوسی کرتے ہوئے کہا کہ وہ روسی صدر کے رویے سے "مایوس” ہیں۔
ٹرمپ نے نیٹو کے کردار کو کم اہم قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ روس جنگ کو طول دے رہا ہے۔
پیوٹن نے اس کے برعکس مغربی طاقتوں کو موردِ الزام ٹھہرایا کہ وہ روس کی سرحدوں میں مداخلت کے ذریعے جنگ کو طول دے رہی ہیں اور اس سے جانی و مالی نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کریملن نے الزام عائد کیا کہ امریکا کی سربراہی میں نیٹو ممالک مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ روس کی مغربی سرحدوں تک اپنی رسائی بڑھائیں۔

