ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی افواج کی قنیطرہ میں نئی دراندازیاں، چوکیاں قائم

اسرائیلی افواج کی قنیطرہ میں نئی دراندازیاں، چوکیاں قائم
ا

دمشق (مشرق نامہ) – اسرائیلی افواج نے شام کے جنوب مغربی صوبے قنیطرہ کے متعدد دیہاتوں اور قصبوں میں نئی دراندازیاں کی ہیں، جہاں انہوں نے چوکیاں قائم کر کے عام شہریوں کی تلاشی لی، حالانکہ تل ابیب اور شام کے زیرِ اقتدار گروہ تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے درمیان مبینہ "سکیورٹی معاہدے” پر مذاکرات جاری ہیں۔

نام نہاد شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق (SOHR) کے مطابق، اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز قنیطرہ کے شمالی دیہی علاقے میں ترنجہ اور حضر قصبوں کو ملانے والی سڑک کو بند کر کے وہاں ایک موبائل چوکی قائم کی۔

مقامی ذرائع نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹر علاقے کی فضاؤں میں گشت کرتے رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ دو فوجی گاڑیاں جن میں متعدد اہلکار سوار تھے، جنوبی قنیطرہ میں تل احمر اڈے کی جانب روانہ ہوئیں، جو شامی سرحدی محاذ پر اسرائیلی فوجی سرگرمیوں میں واضح اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

اسی طرح تین ٹینک اور متعدد گاڑیاں السقری چوکی کے قریب تعینات کی گئیں، جب کہ مزید چار ٹینک اور کئی فوجی گاڑیاں السمضانیہ قصبے کی سمت بڑھ گئیں۔

اسرائیلی افواج نے جبہ گاؤں اور خان ارنَبہ قصبے کے درمیان سڑک پر بھی ایک موبائل چوکی قائم کی اور راہگیروں کی تلاشی لی۔ تاہم گرفتاریوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

مزید برآں، اسرائیل کے دو ٹینک قنیطرہ کے مرکزی علاقے میں واقع الحمیدیہ قصبے میں داخل ہوئے۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران، اسرائیلی حکام اور شامی گروہ ایچ ٹی ایس کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوئے ہیں، جن میں تل ابیب کی عرب ملک پر جارحانہ کارروائیاں روکنے اور ایک نام نہاد سکیورٹی معاہدے کے حصول پر بات چیت جاری ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل شام کے مختلف علاقوں میں بارہا جارحیت کر چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق، اسرائیلی وزیرِ اعظم بین یامین نیتن یاہو نے اپنی افواج کو شام کے اندر مزید پیش قدمی اور ملک کے کئی اسٹریٹجک مقامات پر قبضے کی ہدایت دی ہے۔

اسرائیل نے شام کے اندر اپنی قبضہ گیری کو مزید وسعت دیتے ہوئے اس نام نہاد "بفر زون” پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے جو مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں کو شام کے بقیہ حصے سے جدا کرتا ہے، یوں اس نے 1974 میں طے پانے والے غیر جارحیت معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔

ماہرین کے مطابق، ایچ ٹی ایس حکومت کی بے عملی اور تل ابیب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے اشاروں نے اسرائیل کو مزید حوصلہ دیا ہے کہ وہ شام کی زمین پر اپنا قبضہ وسیع کرے اور ملک پر فضائی حملوں میں شدت لائے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین