بیجنگ (مشرق نامہ) – چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی مختلف کیمیائی مصنوعات کی چین کو برآمدات میں 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران نمایاں اضافہ ہوا، جو 20.72 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ حجم گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 6.68 ملین ڈالر کے مقابلے میں 210 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
اہم زمروں میں کیمیائی یا متعلقہ صنعتوں کی مصنوعات و تیاریات (HS Code: 38249999) سرفہرست رہیں، جن کی برآمدات 10.20 ملین ڈالر کی مالیت اور 9.92 ملین کلوگرام کے حجم کے ساتھ ریکارڈ کی گئیں۔ 2024 کی اسی مدت میں ان مصنوعات کی برآمدات 5.25 ملین ڈالر تھیں، جس کا حجم 5.38 ملین کلوگرام تھا۔ اس طرح برآمدی حجم اور قدر دونوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو پاکستان کے کیمیائی پراسیسنگ شعبے کی ترقی کا مظہر ہے۔
ایک اور بڑا معاون عنصر صنعتی مونوکاربوسیلک فیٹی ایسڈز اور ریفائننگ سے حاصل شدہ ایسڈ آئلز (HS Code: 38231900) کی برآمدات تھیں، جن کی مجموعی مالیت 9.93 ملین ڈالر اور برآمدی حجم 11.29 ملین کلوگرام رہا، جبکہ فی کلو اوسط قیمت 0.88 ڈالر رہی۔ یہ اضافہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں محض 0.90 ملین ڈالر کے مقابلے میں ایک نمایاں پیش رفت ہے، جو چین میں ان اشیاء کی بڑھتی ہوئی صنعتی و پیداواری طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈائنامک انجینئرنگ اینڈ آٹومیشن (ڈی ای اے) گروپ آف کمپنیز کے بانی و چیف ایگزیکٹو اویس میر نے گوادر پرو سے گفتگو میں کہا کہ برآمدات میں اس تیز رفتاری کا تعلق پاکستان کی بہتر صنعتی استعداد اور جدید کیمیائی پراسیسنگ ٹیکنالوجی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ویلیو ایڈیڈ پروڈکشن پر توجہ اور چین کے ساتھ تجارتی سہولت کاری کے بہتر نظام نے برآمدی شرح میں نمایاں اضافہ ممکن بنایا ہے۔

