اتوار, فروری 15, 2026
ہومپاکستانوردی جو کبھی نہیں سوتی

وردی جو کبھی نہیں سوتی
و

تحریر: منزر زیدی

مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)ایک اور پولیس افسر نے خودکشی کر لی۔ ہم حیرت کا اظہار کریں گے، “افسوس” اور “صدمے” کے بیانات جاری ہوں گے، لیکن جو لوگ اس نظام کا حصہ رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سانحے اچانک نہیں ہوتے — یہ ایک طویل، خاموش نفسیاتی جنگ کے نتائج ہیں۔ ایس پی عدیل اکبر کی خودکشی کوئی انوکھا واقعہ نہیں، بلکہ اس نظامی بیماری کی علامت ہے جو برسوں سے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں پولیس کا پیشہ ’’انتہائی مردانگی‘‘ (hyper-masculinity) کے تصور پر کھڑا ہے۔ یہاں مثالی افسر وہ سمجھا جاتا ہے جو جذبات سے عاری ہو، کبھی نہ تھکے، نہ جھکے، نہ کمزوری دکھائے۔ کمزوری کا اظہار جرم ہے، اور ذہنی دباؤ کو تسلیم کرنا شرمناک سمجھا جاتا ہے۔ پولیس افسر اگر بتائے کہ وہ ڈپریشن یا بے بسی کا شکار ہے تو ادارہ اس کی مدد نہیں کرتا — بلکہ اسے مشکوک سمجھتا ہے۔

پولیس کا کام چوبیس گھنٹے کا ہے — نہ کوئی وقفہ، نہ نیند، نہ ذاتی زندگی۔ سپاہی سے لے کر ایس پی تک، سب ایک نہ ختم ہونے والے دباؤ میں جیتے ہیں۔ کانسٹیبل عوام کی بے ادبی سہتے ہیں، افسران سیاسی دباؤ اور عوامی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔ اوپر سے نیچے تک ایک ایسا نظام ہے جو ’’انسان‘‘ نہیں بلکہ ’’مشین‘‘ مانگتا ہے۔

جب کوئی افسر خودکشی کرتا ہے تو ادارہ چند دن کے لیے جاگ اٹھتا ہے، پھر سب بھول جاتے ہیں۔ کتنے افسروں کی اچانک ’’طبی موت‘‘ دراصل نفسیاتی دباؤ کا نتیجہ ہوتی ہے؟ کتنے دل کمزوری سے نہیں بلکہ اندرونی تھکن اور خاموش اذیت سے ٹوٹتے ہیں؟

پاکستانی پولیس کے لیے نہ نفسیاتی مشاورت موجود ہے، نہ مناسب آرام کے اوقات، نہ ہی انسانیت پر مبنی انتظامی ہمدردی۔ صرف ایک نعرہ سنائی دیتا ہے: ’’مضبوط بنو، برداشت کرو، آگے بڑھو۔‘‘

تحقیقات، کمیٹیاں، تجاویز — سب وقتی ردِعمل ہیں۔ کوئی ڈھانچہ جاتی اصلاح نہیں ہوتی۔ بہتر اوقاتِ کار، مناسب تنخواہیں، لازمی آرام، ذہنی صحت کے انتباہی نظام — سب کاغذوں کی حد تک ہیں۔

اصل سوال یہ ہے: اگر ایک ایسا ادارہ جو دوسروں کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ہے، اپنے اہلکاروں کے ذہن و دل کی حفاظت نہ کر سکے، تو یہ ہمارے معاشرے اور ریاست کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

پولیس کے لیے یہ صرف ایک وردی نہیں — یہ ایک قید خانہ ہے جو خاموشی میں جلتا رہتا ہے۔ اور ہم سب، بطور معاشرہ، اس خاموشی کے شریک مجرم ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین