اتوار, فروری 15, 2026
ہومپاکستاناستاد کے پیشے کی حالتِ زار

استاد کے پیشے کی حالتِ زار
ا

مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ)شہلا نے گزشتہ سال اکنامکس میں ماسٹرز کیا اور اپنے محلے کے ایک نجی اسکول میں تدریس شروع کی، مگر وہ سمجھتی ہے کہ یہ کام زیادہ دیر تک نہیں چلے گا۔ ان کی تنخواہ صرف 20 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ شادی کے بعد شاید نوکری جاری نہ رکھ سکیں، یا اگر رکھنی بھی پڑی تو ایسی تلاش کریں گی جس میں آمدن بہتر ہو۔ پاکستان کے کم تا درمیانی فیس والے نجی اسکولوں میں اساتذہ کی اوسط تنخواہ 18 سے 24 ہزار روپے ہے، جبکہ غیر ہنر مند مزدور کی کم از کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر ہے۔

دردانہ ایک اعلیٰ فیس والے نجی اسکول میں پڑھاتی ہیں اور 60 ہزار روپے ماہانہ لیتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ بھی ناکافی ہے، مگر ان کے بچوں کو اسکول کی فیس میں نصف رعایت ملتی ہے، اسی لیے وہ تدریس جاری رکھیں گی جب تک بچے اسکول سے فارغ نہیں ہو جاتے۔

سرکاری اسکولوں میں تنخواہیں نجی شعبے سے کچھ بہتر ہیں۔ گریڈ 17 یا اس سے اوپر کے اساتذہ ایک لاکھ روپے سے زائد لیتے ہیں، لیکن اتنی رقم بھی کئی نوجوانوں کے لیے پرکشش نہیں۔ بیشتر نجی اسکول کم از کم اجرت کے قانون پر عمل نہیں کرتے، جبکہ حکومت اس کی نگرانی سے قاصر ہے۔ پنجاب کے وزیرِ تعلیم کا مؤقف ہے کہ اساتذہ کے کام کے گھنٹے کم ہیں، اس لیے تنخواہیں بھی نسبتاً کم ہیں — مگر حقیقت یہ ہے کہ اساتذہ روزانہ 7.5 سے 10 گھنٹے کام کرتے ہیں، جن میں اسکول کے بعد گھر پر تیاری اور اسائنمنٹس چیک کرنا شامل ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب اساتذہ کو اتنی کم اجرت دی جائے تو بہترین دماغ تدریس کا پیشہ کیوں اختیار کریں گے؟

20 سے 40 ہزار روپے میں کوئی بھی گھر نہیں چل سکتا۔ اگر اساتذہ شام میں ٹیوشن یا کوچنگ دیں تو والدین اسے ناپسند کرتے ہیں، اور سرکاری اساتذہ کے لیے تو حکومت نے اس پر پابندی بھی لگا رکھی ہے۔ دوسری نوکری کہاں ملے گی جب ملک میں بے روزگاری تاریخی سطح پر ہے؟

یہ مسئلہ صنفی پہلو بھی رکھتا ہے۔ تدریس پاکستان کا وہ واحد پیشہ ہے جہاں خواتین اکثریت میں ہیں۔ چونکہ سماجی طور پر عورتوں کے لیے تدریس ہی "قابلِ قبول” روزگار سمجھا جاتا ہے، اس لیے نجی اسکول انہیں کم اجرت پر کام پر رکھتے ہیں۔ یوں پڑھی لکھی خواتین کا استحصال ایک "قابلِ قبول” روایت بن چکا ہے۔

اگر تدریس میں کم از کم اجرت بھی نہ ملے تو باصلاحیت نوجوان اس پیشے میں کیوں آئیں گے؟ جب اچھے دماغ اساتذہ نہیں بنیں گے تو آئندہ نسلوں کی تربیت کون کرے گا؟ حکومت ایک طرف اساتذہ کو لائسنس دینے کی بات کرتی ہے تاکہ معیار بہتر ہو، مگر دوسری طرف ان کی اجرت بڑھانے میں دلچسپی نہیں لیتی۔

نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت تدریس پاکستان میں کم اجرت، کم وقعت اور زیادہ استحصال والا پیشہ بن چکی ہے۔ حکومت اور اسکول مالکان دونوں کو وقتی سکون تو حاصل ہے، مگر اساتذہ — خصوصاً خواتین — قربانی کا اصل ایندھن بنے ہوئے ہیں، اور مستقبل قریب میں ان کی حالت بہتر ہونے کے آثار نہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین