ہفتہ, فروری 14, 2026
ہوممضامینخوفناک فصل: اسرائیل کا فلسطینی شہداء کے اعضا چرانے کا سلسلہ جاری

خوفناک فصل: اسرائیل کا فلسطینی شہداء کے اعضا چرانے کا سلسلہ جاری
خ

مریم قریہ‌گزلو

غزہ کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی قابض افواج نے دو سالہ نسل کشی کی جنگ کے دوران شہید فلسطینیوں کی لاشوں سے اعضا چوری کیے۔

حال ہی میں اسرائیل نے 10 اکتوبر کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے تحت 120 مسخ شدہ فلسطینی لاشیں واپس کیں، جن کے طبی معائنے سے انکشاف ہوا کہ قابض افواج نے کئی شہداء کے جسموں سے مختلف اعضا، بشمول قرنیہ، گردے اور جگر، نکال لیے تھے۔

غزہ کے میڈیا آفس کے مطابق یہ لاشیں نہایت عبرتناک حالت میں واپس کی گئیں — بہت سے شہداء کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں، ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے، انہیں پھانسی دی گئی تھی، قریب سے گولیاں ماری گئی تھیں، یا تشدد کے نشانات سے واضح تھا کہ موت اذیت کے نتیجے میں واقع ہوئی۔

کچھ لاشیں ایسی بھی واپس کی گئیں جن کے سر، اعضا یا اندرونی اعضاء غائب تھے، جب کہ کچھ کو جلا دیا گیا یا وہ ناقابلِ شناخت حالت میں تھیں۔

غزہ میں فرانزک ٹیموں نے کئی لاشوں پر ٹینک کے نشانات بھی ریکارڈ کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض متاثرین کو فوجی گاڑیوں تلے کچلا گیا۔

غزہ میڈیا آفس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسماعیل الثوابتی نے جمعہ کے روز براہِ راست خطاب میں کہا کہ یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسرائیلی قابض افواج منظم طور پر اعضا کی چوری میں ملوث ہیں — ایسے جرائم جنہیں دستاویزی شکل دے کر بین الاقوامی عدالتوں میں پیش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا، “یہ لاشیں نہایت افسوسناک حالت میں پہنچیں۔ اسرائیلی قبضے نے ان میں سے بہت سے افراد کو بے دردی سے قتل کیا۔ بڑی تعداد میں شہداء کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی تھیں، ہاتھ اور پاؤں بندھے ہوئے تھے، جب کہ کئی لاشوں پر پھانسی یا قریب سے فائرنگ کے نشانات ملے۔”

انہوں نے مزید کہا، “ہم نے کئی ایسی لاشیں بھی دیکھی ہیں جن پر موت سے پہلے شدید تشدد کے واضح آثار موجود تھے۔”

الثوابتی نے کہا کہ غزہ کا میڈیا آفس شہداء کے اعضا کی چوری کا ذمہ دار اسرائیلی فوج کو ٹھہراتا ہے اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ اس “تشدد، مسخ کاری اور اعضا کی چوری” کے جرائم کو بے نقاب کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے متاثرین کے نام دینے سے انکار کر دیا، جس کے باعث غزہ کی فرانزک ٹیموں کے لیے شناخت کا عمل نہایت مشکل ہو گیا۔

لاشوں کی واپسی کے بعد لاپتہ فلسطینیوں کے اہلِ خانہ اسپتالوں، بالخصوص جنوبی غزہ کے ناصر اسپتال، کی طرف دوڑ پڑے تاکہ اپنے پیاروں کی شناخت کر سکیں۔

تاہم متعدد لاشیں اب بھی ناقابلِ شناخت ہیں، جنہیں بے نام قبروں میں دفنانا پڑے گا۔

الثوابتی نے کہا، “غزہ کا صحت کا نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ ہمارے پاس ڈی این اے ٹیسٹنگ اور فرانزک تجزیے کے آلات نہیں ہیں۔ کچھ خاندانوں نے صرف ذاتی اشیاء یا کپڑوں سے اپنے عزیزوں کی شناخت کی۔ اگر باقی لاشوں کی شناخت ممکن نہ ہوئی تو ہمیں مجبوری کے طور پر انہیں انسانی وقار کے تقاضوں کے تحت بے نام دفنانا پڑے گا۔”

میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 9,500 فلسطینی اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں سے بیشتر تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

الثوابتی نے کہا، “پوری کی پوری فیملیاں — والد، والدہ اور بچے — تقریباً دو سال سے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔” ان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ کی بھاری مشینری، بلڈوزر اور ایکسکیویٹرز کی تباہی نے امدادی کاموں کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، “آج بھی جنگ بندی کے باوجود تمام سرحدی راستے بند ہیں، اور اسرائیل امدادی مشینری کی آمد کو روکے ہوئے ہے۔ یہ جدید تاریخ کی ایک بے مثال انسانی تباہی ہے — 3,000 سے زائد خاندان مکمل طور پر مٹ چکے ہیں، جب کہ 6,000 خاندان ایسے ہیں جن میں صرف ایک ہی زندہ بچا ہے۔”

7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کے آغاز کے دو سال بعد غزہ مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے — اس کے لوگ تباہی اور بھوک کے درمیان پسے ہوئے ہیں۔ اب تک 76,000 سے زائد فلسطینی، جن میں 20,000 بچے اور 12,500 خواتین شامل ہیں، شہید یا لاپتہ ہیں۔

اسرائیل اب تک 200,000 ٹن سے زیادہ دھماکہ خیز مواد گرا چکا ہے — جو تیرہ ہیروشیما بموں کے برابر ہے — جس سے 95 فیصد اسکول، 38 اسپتال، 96 طبی مراکز اور تقریباً 2,70,000 مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔

زرعی زمینیں اور ماہی گیری کا شعبہ بھی مکمل طور پر مٹ چکا ہے، جس کے باعث 6,50,000 بچے بھوک کے دہانے پر ہیں اور پانچ لاکھ سے زیادہ افراد قحط جیسی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں۔

لاکھوں فلسطینیوں کو بار بار جبراً بے دخل کیا جا رہا ہے، جسے اسرائیل “انخلا” کا نام دیتا ہے۔


اسرائیل کی اعضا چوری کی تاریخ

یہ انکشافات کہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں اور جنگ کے متاثرین کے اعضا چوری کر کے انہیں بین الاقوامی اعضا کی منڈی میں فروخت کرتا رہا ہے، کئی دہائیوں سے سامنے آتے رہے ہیں۔

یہ شواہد صرف جنگی ادوار تک محدود نہیں بلکہ پرامن اوقات میں بھی فلسطینی اجسام کی تجارتی حیثیت کی ایک ہولناک تصویر پیش کرتے ہیں، جو اسرائیلی مظالم کے تسلسل کو واضح کرتی ہے۔

اس پس منظر میں مذہبی و ثقافتی عوامل بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق بعض یہودی مذہبی حلقے اعضا عطیہ کرنے کو مسترد کرتے ہیں، کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ دماغی طور پر مردہ شخص بھی زندہ ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے اسرائیلی زیرِ قبضہ علاقوں میں اعضا عطیہ کرنے کی شرح نہایت کم ہے۔ جہاں مغربی ممالک میں تقریباً 30 فیصد افراد کے پاس اعضا عطیہ کارڈ ہوتے ہیں، وہاں اسرائیل میں یہ شرح محض 14 فیصد کے قریب بتائی جاتی ہے — جسے کارکنان فلسطینیوں سے اعضا کے غیر اخلاقی حصول کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔

1996 میں صہیونی انتہا پسند تنظیم چاباد لوباوِچ کے رہنما ربی اِتسحاق گنزبرگ نے ایک متنازع بیان میں کہا کہ غیر یہودیوں سے اعضا لینا جائز ہے کیونکہ “یہودی زندگی زیادہ قیمتی ہے۔”

انہوں نے کہا، “اگر کسی یہودی کو جگر کی ضرورت ہو، تو کیا ایک بے گناہ غیر یہودی سے وہ جگر لے کر اسے بچایا جا سکتا ہے؟ تورات غالباً اس کی اجازت دیتی ہے۔ یہودی زندگی لامحدود قدر رکھتی ہے۔ یہودی زندگی میں ایک ایسی تقدیس اور انفرادیت ہے جو غیر یہودی زندگی میں نہیں پائی جاتی۔”

اعضا کی اسمگلنگ سے متعلق اسرائیل پر پہلا بڑا الزام پہلی فلسطینی انتفاضہ (1980 اور 1990 کی دہائی) کے دوران سامنے آیا۔

1990 میں مغربی کنارے کے سابقہ محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر حاتم ابو غزالہ نے کہا تھا کہ پہلی انتفاضہ کے ابتدائی ایک سال کے دوران “لاشوں سے اعضا، خصوصاً آنکھیں اور گردے، نکالے گئے۔”

2009 میں سویڈش صحافی ڈونالڈ بوسٹروم نے اخبار آفٹن بلڈیٹ میں “ہمارے بیٹے ان کے اعضا سے لوٹے جا رہے ہیں” کے عنوان سے تحقیقی رپورٹ شائع کی، جس میں فلسطینی خاندانوں کی گواہی شامل تھی جن کے بیٹوں کو اغوا کیا گیا، خفیہ حراست میں رکھا گیا، پوسٹ مارٹم کیا گیا اور پھر ان کے جسموں پر اعضا چوری کے واضح نشانات کے ساتھ واپس کیا گیا۔

ان میں ایک مثال بلال احمد غنان کی تھی، جو پتھر پھینکنے والا ایک نوجوان فلسطینی تھا۔ اسے اسرائیلی فوج نے گولی ماری، اغوا کیا، اور پانچ دن بعد اس کی لاش واپس ملی جس پر پیٹ سے تھوڑی تک ایک لمبی چیر موجود تھی۔ اس کے اہلِ خانہ نے کہا، “ہمارے بیٹے زبردستی اعضا کے عطیہ دہندگان بنا دیے گئے۔”

بوسٹروم نے ان واقعات کو اسرائیل سے منسلک عالمی اعضا اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورک سے جوڑا۔ انہوں نے 2009 میں امریکی ریاست نیو جرسی میں لیوی اِزحاک روزن بام کی گرفتاری کا حوالہ دیا، جس نے انسانی گردے خریدنے اور بیچنے کے بڑے کاروبار کا اعتراف کیا۔

رپورٹ میں اسرائیلی طبی حکام پر بھی الزام لگایا گیا کہ وہ ایسے جرائم سے دانستہ چشم پوشی کرتے ہیں اور ملوث افراد کو سزا نہیں دیتے۔

اسی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا ٹرانسپلانٹ نظام طویل عرصے سے غیر قانونی اعضا کی پیوندکاری میں ملوث ہے، جنہیں غیر ملکی یا مجبور عطیہ دہندگان سے حاصل کیا جاتا رہا ہے۔

بعد ازاں خود اسرائیل نے تسلیم کیا کہ اس کا “ابو کبیر فرانزک انسٹیٹیوٹ” 1990 کی دہائی میں خاندانوں کی اجازت کے بغیر اعضا — بشمول قرنیہ، جلد، ہڈیاں اور دل کے والوز — نکالتا رہا۔

یہ اعتراف اس وقت سامنے آیا جب ادارے کے اُس وقت کے سربراہ ڈاکٹر یہودا ہِس کا انٹرویو منظر عام پر آیا۔

ہِس نے جولائی 2000 میں امریکی محقق نینسی شیپر ہیوز کو بتایا کہ “جو کچھ کیا جاتا تھا وہ غیر رسمی طریقے سے ہوتا تھا۔ خاندان سے کبھی اجازت نہیں لی جاتی تھی۔” اس نے بتایا کہ پیتھالوجسٹ قرنیہ نکالنے کے بعد پلکوں کو چپکا دیتے تھے تاکہ غائب آنکھیں ظاہر نہ ہوں۔

اگرچہ اسرائیلی فوج نے اس عمل کی موجودگی کی تصدیق کی، لیکن دعویٰ کیا کہ “یہ سلسلہ ایک دہائی قبل ختم کر دیا گیا تھا۔”

واضح شواہد کے باوجود ہِس کے خلاف کبھی کارروائی نہیں کی گئی، اور وہ ادارے میں کام کرتا رہا، جو فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی استثنائی رویے کی علامت ہے۔

2002 میں اسرائیلی معالج میرا ویس نے اپنی کتاب اوور دیئر ڈیڈ باڈیز میں تفصیل سے لکھا کہ 1996 سے 2002 کے درمیان مردہ فلسطینیوں کے اعضا طبی تحقیق اور ٹرانسپلانٹ کے لیے باقاعدہ طور پر نکالے گئے۔

2008 میں سی این این کی ایک تحقیق میں اسرائیل کو انسانی اعضا کی عالمی غیر قانونی تجارت کے بڑے مراکز میں شمار کیا گیا۔

2014 میں ایک اسرائیلی ٹی وی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ فلسطینی اور افریقی مزدوروں کی لاشوں سے نکالی گئی جلد اسرائیلی مریضوں کے علاج میں استعمال کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے “اسکن بینک” کے پاس انسانی جلد کا ذخیرہ 17 مربع میٹر تک پہنچ گیا تھا — جو آبادی کے لحاظ سے غیر متناسب حد تک زیادہ تھا۔

اسی طرح اسرائیل طویل عرصے سے اعضا کی سیاحت (Organ Transplant Tourism) کا مرکز رہا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کی 2015 کی رپورٹ Trafficking in Human Organs میں اسرائیل کو اس تجارت کا بڑا درآمد کنندہ قرار دیا گیا، اور بتایا گیا کہ اس نے 2008 کے استنبول اعلامیے پر دستخط سے انکار کر دیا، جو اعضا کی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے بنایا گیا تھا۔

1949 کا چوتھا جنیوا کنونشن — جس کی توثیق اسرائیل نے نہیں کی — جنگی فریقین کو پابند کرتا ہے کہ وہ مردوں کے احترام کو یقینی بنائیں اور ان کی لاشوں کے ساتھ توہین یا مسخ کاری کا سلوک نہ کریں۔


اسرائیل کی اعضا چوری پر نئے خدشات

جنیوا میں قائم “یورو-بحرِ متوسط انسانی حقوق مانیٹر” نے نومبر 2023 میں — اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کے آغاز کے محض ایک ماہ بعد — مردہ فلسطینیوں کے اعضا چوری کیے جانے کے الزامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

یہ ردعمل ان رپورٹوں کے بعد آیا جن میں غزہ کے طبی ماہرین نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے واپس کی گئی بعض لاشوں کے اعضا غائب تھے۔

تنظیم نے کہا کہ اس نے شواہد جمع کیے ہیں جن کے مطابق اسرائیلی افواج نے شمالی غزہ کے الشفا اور انڈونیشین اسپتالوں سمیت دیگر مراکز سے درجنوں لاشیں قبضے میں لے لی تھیں۔

واپس کی گئی لاشوں کے طبی معائنے میں جگر، گردے، دل، کان کے اندرونی حصے اور قرنیہ غائب پائے گئے — جنہیں تنظیم نے “اعضا کی چوری کے شواہد” قرار دیا۔

یورو-میڈ نے اس معاملے کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسرائیل دنیا کے “سب سے بڑے غیر قانونی اعضا کے مراکز میں سے ایک ہے، جو اسے ‘سکیورٹی روک تھام’ کے نام پر انجام دیتا ہے۔”

مزید رپورٹوں کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد، اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں کے اسپتالوں میں اعضا کی پیوندکاری سے متعلق گوگل سرچز میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

گوگل ٹرینڈز کے مطابق “Kidney in Israel” اور “Sheba Medical Center”، “Soroka Medical Center” اور “Rambam Health Campus” جیسے اسپتالوں کے ناموں پر سرچز کا انڈیکس اس مہینے صفر سے بڑھ کر 100 تک پہنچ گیا، جب کہ ایسے اسپتال جہاں پیوندکاری کے یونٹ نہیں تھے، ان کی سرچ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تل ابیب انتظامیہ کو ان جرائم — بشمول اعضا کی چوری — پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت تحقیقات اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو ایسے جرائم پر دائرہ اختیار حاصل ہے۔ اگرچہ اسرائیل آئی سی سی کا رکن نہیں، لیکن فلسطین کی رکنیت ان کارروائیوں کے لیے قانونی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

لاشوں کی بے حرمتی، مسخ کاری اور اعضا کی چوری سے متعلق بار بار سامنے آنے والی رپورٹس نہ صرف سنگین انسانی المیہ اجاگر کرتی ہیں بلکہ اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتی ہیں جسے انسانی حقوق کے کارکن “غزہ کی جاری المیہ کہانی میں اسرائیل کی مستقل جواب دہی سے انکار” قرار دیتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین