تحریر : رامونا وادی
دنیا کے وہ تمام رہنما جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے کی تیزی سے توثیق کی، ایک ایسے جھوٹ پر متفق ہو گئے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے — یہ کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی نہیں کر رہا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس 60 منٹس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کے الزام کی تردید کی۔ وٹکوف کے مطابق “نہیں، نہیں، یہ تو ایک جنگ تھی جو لڑی جا رہی تھی۔” اسرائیل، امریکہ، اور تقریباً پوری دنیا اسرائیل کے سکیورٹی بیانیے کی حفاظت کرتے ہوئے انسانی امداد پر اخلاقی خطبات دینے میں مصروف ہیں۔
اسی سال ستمبر میں یورپی کمیشن کی ایگزیکٹو نائب صدر تیریسا ریبیرا نے تاخیر سے ہی سہی، مگر یہ اعتراف کیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، اور انہوں نے یورپی یونین پر اجتماعی طور پر عمل نہ کرنے پر تنقید بھی کی۔ تاہم یورپی یونین نے فوری طور پر خود کو اس بیان سے الگ کر لیا۔ کمیشن کی چیف ترجمان پاؤلا پنہو نے کہا، “یہ کمیشن کا کام نہیں کہ اس سوال یا تعریف پر کوئی فیصلہ دے، بلکہ یہ عدالتی دائرہ کار میں آتا ہے، اور اس حوالے سے کمیشن کے کالج نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔”
اس کے برعکس، جب ٹرمپ کا منصوبہ سامنے آیا تو یورپی کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی منصوبے میں وہ تمام عناصر شامل ہیں جو طویل عرصے سے یورپی یونین کی بنیادی پالیسیوں کا حصہ رہے ہیں۔ ان میں شامل ہیں: غزہ کو غیر مسلح کرنا، انسانی امداد کی فراہمی، حماس کے زیرِ قبضہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، مزاحمتی تحریک کو سیاسی عمل سے خارج کرنا، اور شاید سب سے زیادہ منافقانہ نکتہ یہ کہ “غزہ پر قبضہ نہیں کیا جائے گا اور فلسطینیوں کو بے دخل نہیں کیا جائے گا۔”
اگر یورپی یونین کو یہ بات اب تک محسوس نہیں ہوئی تو یاد رہے کہ غزہ کی آبادی بارہا بے گھر کی جا چکی ہے — حتیٰ کہ اس نسل کشی سے قبل بھی۔ آج بھی آبادی کی اکثریت 1948 کی نکبہ کے نتیجے میں اپنے اندر جبری بے دخلی کا زخم لیے ہوئے ہے۔ جہاں تک “غزہ پر قبضہ نہیں کیا جائے گا” کا تعلق ہے، شاید یورپی یونین نے یہ نظرانداز کر دیا ہے کہ فوجی قبضہ نوآبادیاتی نظام کی ایک شاخ ہے۔ اسرائیلی آبادکار تحریک کے اندر اتنی طاقت جمع ہو چکی ہے کہ وہ غزہ کی نازک صورتحال کو آبادکاری کے مزید پھیلاؤ کی سمت دھکیل سکتی ہے — ایسی نسل کشی کے بیچ جسے یورپی یونین بہرحال تسلیم نہیں کرے گا۔ کیا یورپی یونین نے یہ نہیں دیکھا کہ جو فلسطینی اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں، وہ ملبے کے ڈھیروں میں واپس آ رہے ہیں اور اب بھی بے گھر ہیں؟
جنگ بندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے — جسے اسرائیل نے ایک بار پھر پامال کیا ہے اور گزشتہ روز تقریباً 100 فلسطینیوں کو شہید جبکہ 230 کو زخمی کیا — کشنر نے کہا: “ہمیں انسانی امداد کو لوگوں تک پہنچانے کا کوئی راستہ نکالنا تھا، اور پھر ہمیں پچاس سالوں کے ان احمقانہ الفاظی کھیلوں سے نمٹنے کے لیے ان تمام پیچیدہ جملوں کو لکھنا پڑا جن کے لوگ اس خطے میں عادی ہو چکے ہیں۔”
اگر فلسطینی ان تمام “احمقانہ لفظی کھیلوں” کو گننے بیٹھ جائیں جو اسرائیل اور بین الاقوامی برادری نے کھیلے ہیں تو آج بھی گنتی ختم نہ ہو۔ بلاشبہ، اس بیانیے کو بھی شامل کرنا ہوگا جو صہیونی رہنماؤں اور ان کے اتحادیوں نے اسرائیل کے قیام سے قبل ہی اپنی نسلی تطہیر کی مہم کو جواز دینے کے لیے اپنایا۔ البتہ فلسطینی ان لفظی کھیلوں کو احمقانہ نہیں بلکہ غداری سے تعبیر کرتے ہیں۔ 1947 کا تقسیمِ فلسطین منصوبہ ایک ایسا کھیل تھا، اور خود اسرائیل کی ریاست کا قیام دوسرا۔ انسانی امداد کو بھی اسی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے؛ جنگ بندی کو بھی۔ انسانی حقوق، فلسطینی ریاست، تسلیم شدہ حیثیت — یہ تمام الفاظ انہی خطرناک کھیلوں کا حصہ ہیں۔ نسل کشی صرف اسرائیل کے غزہ میں کیے گئے اقدامات سے نہیں بنتی، بلکہ ان زہریلے لفظی کھیلوں سے بھی تشکیل پاتی ہے جو اس کے گرد ایک جعلی اخلاقی پردہ کھینچتے ہیں۔

