مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – عرب ممالک نے اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے بدھ کے روز مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں معالیہ ادومیم کے غیر قانونی صیہونی بلاک کے الحاق سے متعلق دو بلوں کی ابتدائی منظوری کو ’’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ یہ خبر انادولو ایجنسی نے دی ہے۔
بدھ کے روز کنیسٹ نے دونوں بلوں کو ابتدائی مرحلے میں منظور کیا، تاہم ان کے قانون بننے کے لیے اب بھی تین اضافی مراحل میں منظوری درکار ہے۔
اردن کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان فواد المجالی نے اس اقدام کو ’’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور دو ریاستی حل پر براہِ راست حملہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام فلسطینی عوام کے اس ناقابلِ تنسیخ حق کو بھی نقصان پہنچاتا ہے جس کے تحت انہیں 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق اپنی آزاد و خودمختار ریاست قائم کرنے اور مقبوضہ بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کا حق حاصل ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی بلوں کو ’’فلسطینی عوام کے تاریخی حقوق پر کھلا حملہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سمیت بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی اسرائیلی قبضے کے حکام کی تمام ’’توسیع پسندانہ اور غیر قانونی بستیوں سے متعلق اقدامات‘‘ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے اس تاریخی اور ناقابلِ تنسیخ حق کی مکمل حمایت کرتا ہے جس کے تحت وہ 1967ء کی سرحدوں پر مشرقی بیت المقدس کے دارالحکومت کے ساتھ اپنی آزاد ریاست قائم کر سکتے ہیں، جیسا کہ بین الاقوامی قراردادوں میں واضح کیا گیا ہے۔
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے بھی اسرائیلی بلوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے سمیت بیت المقدس پر مشتمل تمام مقبوضہ علاقے ایک واحد جغرافیائی اکائی ہیں جن پر اسرائیل کو کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ خودمختاری صرف فلسطینی عوام اور ان کی نمائندہ قیادت، یعنی تنظیمِ آزادیِ فلسطین (PLO) کو حاصل ہے، جو اپنے تاریخی، فطری اور قانونی حقوق کی بنیاد پر اپنے وطن، فلسطین، میں یہ حق رکھتی ہے۔ یہ اصول بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہم آہنگ ہیں۔
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے بھی اسرائیلی منصوبوں کو ’’باطل اور غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قبضے کے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی کوششیں ’’غیر قانونی، غیر مؤثر اور ناقابلِ قبول‘‘ ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ قبضے کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق کی دیوانہ وار کوششیں نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ تاریخ، بین الاقوامی قانون اور 2024ء میں عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کے مطابق یہ زمین فلسطینی ملکیت ہے۔
یہ ووٹ اس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ واضح طور پر کہا تھا کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسرائیل کے دورے پر موجود ہیں۔
مغربی کنارے کا الحاق، اقوام متحدہ کی قراردادوں میں درج دو ریاستی حل کے امکان کو عملاً ختم کر دے گا۔
اکتوبر 2023 سے مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں میں شدت آئی ہے، جن میں فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق 1,056 سے زائد فلسطینی شہید، 10,300 زخمی اور 20,000 سے زیادہ گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
گزشتہ جولائی میں عالمی عدالتِ انصاف نے اپنے تاریخی فیصلے میں اسرائیل کے فلسطینی سرزمین پر قبضے کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا تھا اور مغربی کنارے و مشرقی بیت المقدس کی تمام صیہونی بستیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔

