ہفتہ, فروری 14, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی پابندیوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ

امریکی پابندیوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ
ا

لندن (مشرق نامہ) – جمعرات کے روز خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا جب امریکا نے یوکرین جنگ کے باعث روس کے دو بڑے تیل فراہم کنندگان روس نیفٹ (Rosneft) اور لوک آئل (Lukoil) پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، جس سے گزشتہ سیشن کے اضافے کا تسلسل برقرار رہا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 3.39 ڈالر یا 5.4 فیصد اضافے کے ساتھ فی بیرل 65.98 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 3.31 ڈالر یا 5.7 فیصد بڑھ کر 61.81 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن کے مطابق، امریکی پابندیوں کے بعد چین اور بھارت کی ریفائنریز، جو روسی تیل کی بڑی خریدار ہیں، کو مغربی بینکاری نظام سے خارج ہونے سے بچنے کے لیے متبادل سپلائرز تلاش کرنا ہوں گے۔

امریکا نے کہا ہے کہ وہ مزید اقدامات کے لیے تیار ہے اور ماسکو سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر یوکرین میں جنگ بندی پر آمادہ ہو۔ برطانیہ نے گزشتہ ہفتے ہی روس نیفٹ اور لوک آئل پر پابندیاں عائد کر دی تھیں، جبکہ یورپی یونین کے رکن ممالک نے روس پر انیسویں پیکج کی منظوری دی ہے، جس میں روسی مائع قدرتی گیس (LNG) کی درآمد پر پابندی بھی شامل ہے۔

پابندیوں کے اعلان کے فوراً بعد برینٹ اور WTI فیوچرز میں فی بیرل دو ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی ایک وجہ امریکی تیل کے ذخائر میں غیر متوقع کمی بھی تھی۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوفو نے کہا کہ پابندیوں کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہے کہ بھارت کس ردِعمل کا مظاہرہ کرتا ہے اور روس اپنے لیے متبادل خریدار تلاش کر پاتا ہے یا نہیں۔

ماسکو کی جنگ کے بعد بھارت رعایتی نرخوں پر روسی سمندری خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔

صنعتی ذرائع کے مطابق، نئی امریکی پابندیوں کے بعد بھارتی ریفائنریز روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں کمی کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ نجی کمپنی رلائنس انڈسٹریز، جو روسی تیل کی سب سے بڑی بھارتی خریدار ہے، اپنی درآمدات میں کمی یا مکمل بندش پر غور کر رہی ہے۔

تاہم مارکیٹ میں اب بھی شکوک پائے جاتے ہیں کہ آیا امریکی پابندیاں واقعی رسد و طلب کے توازن میں بنیادی تبدیلی لا سکیں گی۔

رِسٹاد انرجی کے تجزیہ کار کلاڈیو گالِمبریتی نے کہا کہ “گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں روس پر عائد تقریباً تمام پابندیاں نہ تو اس کی پیداوار میں کمی لا سکیں اور نہ ہی اس کی تیل کی آمدنی پر کوئی بڑا اثر ڈال سکیں۔”

دوسری جانب، اوپیک پلس ممالک کی پیداوار میں اضافے سے متعلق خدشات نے جمعرات کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافے کو محدود رکھا۔ یو بی ایس کے مطابق، برینٹ کی قیمتیں 60 سے 70 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

طلب کے حوالے سے امریکی توانائی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) نے بدھ کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل، پٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی، کیونکہ ریفائننگ سرگرمیوں اور مانگ میں اضافہ دیکھا گیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین