واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کے درمیان زبانی جنگ کا نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے جنوبی امریکی ہم منصب کو "ٹھگ” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ "منشیات تیار کر رہا ہے”، جب کہ پیٹرو نے ٹرمپ کے الزامات کے خلاف امریکی عدالتوں میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واشنگٹن اور بوگوٹا کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی بدھ کے روز اس وقت نئی سطح پر پہنچ گئی جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کولمبیا کو دی جانے والی تمام فوجی امداد معطل کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کولمبیا بین الاقوامی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہے اور پیٹرو کو "خبردار” کیا کہ وہ محتاط رہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک ٹھگ ہے اور بہت بُرا آدمی ہے، اور اس نے اپنے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کولمبیا بہت بری حالت میں ہے۔ وہ کوکین تیار کرتے ہیں، ان کے پاس کوکین کی فیکٹریاں ہیں… اور اگر وہ باز نہ آئے تو ہم اس کے اور اس کے ملک کے خلاف انتہائی سنجیدہ کارروائی کریں گے۔
ٹرمپ کے مطابق، اس نے اپنے ملک کو ایک موت کے جال میں دھکیل دیا ہے۔
ٹرمپ کے ان بیانات کے جواب میں کولمبیائی صدر پیٹرو نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ ان "بدنام کن الزامات” کے خلاف امریکی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کریں گے۔
انہوں نے لکھا کہ امریکی سرزمین پر اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے مجھ پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کے خلاف، میں امریکی وکلاء کے ذریعے امریکی عدالتی نظام میں اپنا دفاع کروں گا۔
پیٹرو نے مزید کہا کہ میں ہمیشہ ان لوگوں کے خلاف کھڑا رہوں گا جو کیریبین میں نسل کشی اور قتل کے مرتکب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب منشیات کے خلاف جنگ میں کولمبیا کی مدد درکار ہوگی، تو "امریکی معاشرہ یہ مدد حاصل کرے گا۔”
پیٹرو نے کہا کہ ہم ان ریاستوں کے ساتھ مل کر منشیات فروشوں کے خلاف لڑیں گے جو ہماری مدد چاہتی ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں، ٹرمپ نے پیٹرو کو "منشیات کی اسمگلنگ کا رہنما” قرار دیا تھا اور کولمبیائی برآمدات پر محصولات بڑھانے کی دھمکی دی تھی۔
پیٹرو نے جواباً امریکی صدر پر بین الاقوامی تجارتی معاہدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ لاطینی امریکہ میں بادشاہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے واشنگٹن میں کولمبیا کے سفیر کو واپس بلا لیا اور اعلان کیا کہ کولمبیائی فوج امریکہ کی جانب سے ممکنہ طور پر وینیزویلا پر حملے کی کسی کارروائی میں حصہ نہیں لے گی۔
پیٹرو نے کہا کہ کون سا کولمبیائی اپنے ہی خاندان کے رہنے والے ملک پر حملے میں مدد کرے گا، صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ غزہ کی طرح مارے جائیں؟
امریکہ۔کولمبیا اتحاد خطرے میں
کولمبیا کے امریکہ میں سفیر، ڈینیئل گارسیا پینا، جو اس وقت بوگوٹا میں واپس ہیں، نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں ٹرمپ کے تازہ بیانات کو "ناقابلِ قبول” قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت میں ایسی دھمکیوں اور بے بنیاد الزامات کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پینا نے خبردار کیا کہ امریکہ اور کولمبیا کے درمیان 200 سال پرانی شراکت خطرے میں پڑ چکی ہے۔
ٹرمپ اور پیٹرو کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ، واشنگٹن کی جانب سے ستمبر میں کولمبیا کی انسدادِ منشیات کی کوششوں کو غیر موثر قرار دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ کولمبیا منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف بھی دھمکیاں بڑھا دی ہیں اور کیریبین میں امریکی فوجی نقل و حرکت میں تیزی آ گئی ہے، جس میں بظاہر "منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث” جہازوں پر حملے بھی شامل ہیں — اگرچہ ان الزامات کے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
بدھ کے روز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے تصدیق کی کہ امریکی افواج نے پہلی بار مشرقی بحرالکاہل میں بین الاقوامی پانیوں میں ایک جہاز پر حملہ کیا، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔
ہیگستھ نے کہا کہ ہلاک ہونے والے "نارکو ٹیررسٹ” تھے، مگر اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
بعد ازاں، انہوں نے ایک اور تیز رفتار کشتی پر حملے اور تین مزید افراد کی ہلاکت کا اعلان کیا۔
امریکی فوج کے مطابق اب تک آٹھ کشتیوں اور ایک نیم آبدوز پر حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں 37 افراد مارے گئے ہیں۔
امریکہ نے ان کشتیوں کی اصل شناخت ظاہر نہیں کی، لیکن کچھ وینیزویلا کے ساحل کے قریب تباہ کی گئیں، جب کہ کم از کم ایک ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو سے اور ایک کولمبیا سے روانہ ہوئی تھی۔ ہلاک شدگان کے اہل خانہ نے اے ایف پی کو یہ معلومات فراہم کیں۔
بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی پانیوں میں لوگوں کی ہلاکتیں غیر قانونی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ہلاک ہونے والے واقعی منشیات فروش بھی ہوں، تو انہیں عدالتی کارروائی اور قانونی دفاع کا حق حاصل ہے۔
اگرچہ کولمبیا دنیا کا سب سے بڑا کوکین تیار کرنے والا ملک ہے، لیکن بوگوٹا کی متواتر حکومتیں منشیات کی پیداوار کو روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون کرتی رہی ہیں۔
یہ صنعت دراصل منظم جرائم پیشہ کارٹیلوں، مسلح نیم فوجی گروہوں اور باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔
بدھ کے روز ایک تازہ بیان میں، پیٹرو نے کہا کہ ان کی حکومت کے دوران 17 ہزار کوکین فیکٹریاں تباہ کی گئی ہیں۔

