پشاور (مشرق نامہ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پنجاب حکومت کی جانب سے گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی کو آئین کی خلاف ورزی اور خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے محکمہ خوراک کو ہدایت دی کہ پنجاب حکومت کو خط لکھ کر تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائے اور صوبائی سرحدوں کے درمیان گندم و آٹے کی آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی اختلافات کی آڑ میں عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم کرنا ناقابلِ قبول ہے اور یہ قومی یکجہتی کے جذبے کے منافی ہے۔ انہوں نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی، اشیائے ضروریہ کی مقررہ نرخوں پر فراہمی اور صوبے بھر کے گوداموں کی فوری رجسٹریشن کے احکامات دیے۔
محکمہ خوراک کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں گندم و آٹے کی سالانہ کھپت تقریباً 53 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جس میں سے 15 لاکھ میٹرک ٹن مقامی طور پر پیدا ہوتی ہے، جبکہ باقی ضرورت پنجاب اور دیگر صوبوں سے پوری کی جاتی ہے۔ اس وقت صوبے کے گوداموں میں 2.73 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔
حالیہ دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ پنجاب کی جانب سے گندم اور آٹے کی ترسیل پر عائد پابندیاں بتائی گئیں۔ اسی طرح صوبے میں چینی کی سالانہ طلب 10 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جس میں سے 30 فیصد گھریلو استعمال اور 70 فیصد تجارتی مقاصد کے لیے درکار ہوتی ہے۔ فی الوقت 4.8 لاکھ میٹرک ٹن چینی صوبے میں دستیاب ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ عوام کے حقوق اور خوراک کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی سیاسی رکاوٹ کو صوبے کی غذائی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

