مانیڑنگ ڈیسک (مشرق نامہ) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان نے زور دیا کہ عالمی قوانین کے مطابق دہشت گردی اور غیر ملکی تسلط کے خلاف عوام کی جائز مزاحمتی جدوجہد میں واضح فرق کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی مندوب اجمل نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جنرل اسمبلی کی قرارداد 46/51 بھی اس اصول کی تائید کرتی ہے۔ انہوں نے بھارت کے زیر قبضہ کشمیر اور فلسطین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ قابض قوتیں انسدادِ دہشت گردی کے نام پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، جن میں جبری نقل مکانی، گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے نظام میں بدقسمتی سے ایک مخصوص مذہب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جب کہ اسلاموفوبک اور دائیں بازو کے انتہا پسند گروہ نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کی پابندیوں کا نظام شفاف اور انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے، اور 1267 پابندیوں سے متعلق محتسب کے دفتر کو مزید بااختیار بنایا جائے۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے مئی میں پاکستانی شہری علاقوں پر حملے کی بھی مذمت کی، جس میں 54 بے گناہ شہری، بشمول خواتین اور بچے، شہید ہوئے۔ اجمل نے کہا کہ ایسے ریاستی دہشت گردی کے اقدامات کی عالمی سطح پر مذمت ضروری ہے۔

