کراچی(مشرق نامہ) بین الاقوامی منڈی میں نمایاں کمی کے بعد مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتیں بدھ کو مزید گر گئیں ہیں۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن (APSGJA) کے مطابق، دس گرام سونا 6,463 روپے کمی کے بعد 374,967 روپے جبکہ فی تولہ سونا 7,538 روپے کمی کے ساتھ 437,362 روپے پر آ گیا۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 85 ڈالر کمی کے بعد فی اونس 4,150 ڈالر ہو گئی، جو گزشتہ جمعہ سے اب تک 208 ڈالر فی اونس کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا مجموعی طور پر 19,538 روپے سستا ہوا ہے۔
تاہم، قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود طلب میں اضافہ نہیں ہوا۔ آل پاکستان جیولری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ارشد کے مطابق، شادیوں کے موسم کے باوجود خریداروں کی واپسی نہ ہونے کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب سونا 4 لاکھ روپے فی تولہ سے اوپر گیا تو خریدار کم ہونا شروع ہو گئے، اور اب بھی زیادہ تر لوگ سونا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایک تولہ کا جیولری سیٹ اب بھی تقریباً 4.5 لاکھ روپے کا پڑتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، عالمی منڈی میں بدھ کو سونے کی قیمت دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ منگل کو پانچ سال میں سب سے زیادہ یومیہ کمی ریکارڈ کی گئی — سرمایہ کار امریکی افراطِ زر (inflation) کے اعداد و شمار سے قبل منافع سمیٹنے میں مصروف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، رواں سال سونا 54 فیصد مہنگا ہو چکا ہے، جس کی وجہ جغرافیائی کشیدگی، معاشی غیر یقینی صورت حال، امریکی شرحِ سود میں کمی کی توقعات اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی ہے۔
محمد ارشد نے بتایا کہ سونے کی مسلسل بلند قیمتوں اور کمزور طلب نے جیولری مینوفیکچرنگ یونٹس کو بھی متاثر کیا ہے — تقریباً 60 فیصد یونٹس اپنے آپریشن برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں جبکہ دیگر نے افرادی قوت کم کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کار جو پہلے سونا خرید رہے تھے، اب انتظار اور مشاہدے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں، کیونکہ مستقبل کی قیمتوں کا انحصار عالمی سیاسی و معاشی حالات پر ہوگا۔

