کوئٹہ (مشرق نامہ) حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے چاغی اور سبی اضلاع میں مختلف آپریشنز کے دوران کم از کم 11 دہشتگرد ہلاک ہوگئے، جبکہ نوشکی میں دو پولیس اہلکار فائرنگ سے اور کچھی میں ایک سیکورٹی اہلکار بارودی سرنگ دھماکے میں جانبحق ہوگیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق چاغی کے پہاڑی علاقے دالبندین میں خفیہ اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا تو دہشتگردوں نے شدید فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں ایک گھنٹے تک مقابلہ جاری رہا۔ فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشتگرد مارے گئے۔
حکام کے مطابق ہلاک افراد کا تعلق "فتنہ الہندستان” گروپ سے تھا، جن کی نشاندہی فضائی نگرانی کے ذریعے کی گئی۔ کارروائی میں دہشتگردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
اسی دوران، کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (CTD) نے سبی میں کارروائی کی جہاں ایک کالعدم تنظیم کے شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔
سی ٹی ڈی اہلکاروں نے مشتبہ کمپاؤنڈ کو گھیرے میں لیا تو دہشتگردوں نے فائرنگ کر دی۔ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے تصادم میں پانچ دہشتگرد مارے گئے۔
موقع سے اسلحہ، نقشے اور ایسے دستاویزات برآمد ہوئے جن میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس پر حملوں کی منصوبہ بندی کا ذکر تھا۔
نوشکی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں دو پولیس اہلکار جانبحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق اہلکار عبدالرازق اور عبیداللہ پولیس لائن جا رہے تھے جب موٹرسائیکل سوار حملہ آوروں نے غریب آباد بائی پاس کے قریب ان پر فائرنگ کر دی۔ دونوں اہلکار موقع پر ہی جانبحق ہوگئے۔
لاشوں کو ضلعی اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
ادھر کچھی کے علاقے سنی شوران میں ایک سیکیورٹی اہلکار اس وقت جانبحق ہوگیا جب سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ فورسز کی گشتی گاڑی کے قریب پھٹ گئی۔ دھماکے سے گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق بلوچستان میں حالیہ کارروائیاں سیکیورٹی فورسز کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کے جواب میں تیز کی گئی ہیں تاکہ دہشتگردوں کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

