اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی حکومت کی بندش، 60 ہزار فضائی عملہ تنخواہوں سے محروم

امریکی حکومت کی بندش، 60 ہزار فضائی عملہ تنخواہوں سے محروم
ا

واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی فضاؤں کو محفوظ رکھنے والے تقریباً 60 ہزار سرکاری ملازمین حکومت کی طویل بندش کے دوران مسلسل تنخواہوں سے محروم ہیں۔ اگر جلد فنڈنگ معاہدہ نہ ہوا تو ان میں سے بیشتر کو اپنی بچت خرچ کرنا، کریڈٹ کارڈ پر قرض لینا یا گزر بسر کے لیے جزوقتی ملازمتیں اختیار کرنا پڑیں گی، متعدد وفاقی اہلکاروں نے بتایا۔

یہ بندش اب تین ہفتوں سے جاری ہے، اور وہ وقت قریب آ رہا ہے جب سکیورٹی لائنیں فعال رکھنے اور فضائی ٹریفک کو محفوظ بنانے والے ہزاروں سرکاری ملازمین اپنی پوری تنخواہ سے محروم رہیں گے۔ ان اہلکاروں کو آخری ادائیگی اکتوبر کے وسط میں ملی تھی، جس میں دو دن کی تنخواہ بھی غائب تھی۔

امریکن فیڈریشن آف گورنمنٹ ایمپلائزز لوکل 899 کے خزانچی نیل گوزمین، جو منی سوٹا میں ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA) کے اہلکاروں کی نمائندہ یونین سے وابستہ ہیں، نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ جب میں اپنی شفٹ ختم کروں گا تو اُوبر، ڈور ڈیش یا لفٹ کے لیے کام کروں گا، کیونکہ مجھے کھانے کے پیسے چاہئیں اور گھر میں بچہ بھی ہے۔

گوزمین، جو یونین کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ خود بھی جزوقتی طور پر TSA میں کام کرتے ہیں، نے بتایا کہ انہیں آخری تنخواہ میں صرف 60 فیصد معاوضہ ملا، جبکہ ایک ساتھی کو محض 6.34 ڈالر کی ادائیگی ہوئی۔

جمعرات کے روز بہت سے فضائی کنٹرولرز کو اگلے ہفتے منگل کی متوقع تنخواہ کی اطلاع ملے گی — اکثر کو امید ہے کہ انہیں کچھ نہیں ملے گا۔
مینیاپولس-سینٹ پال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ وفاقی ملازمین کے لیے خشک خوراک کی فراہمی کے لیے ایک شیلف قائم کرے گی، جیسا کہ 2018-19 کی بندش کے دوران کیا گیا تھا۔ اگر موجودہ تعطل نومبر تک جاری رہا، تو انتظامیہ پیک شدہ لنچ بھی فراہم کرنے پر غور کر رہی ہے۔

مگر یہ بھی ناکافی ہے۔ ڈلاس-فورٹ ورتھ ایئرپورٹ کے ایک TSA افسر، جنہوں نے صرف اپنے ابتدائی نام "ایم” کے ذریعے شناخت ظاہر کرنے کی اجازت دی، نے بتایا کہ وہ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے 3,000 ڈالر کا قرض لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قرض گاڑی کی قسطوں اور نئے اپارٹمنٹ کے کرائے کے لیے ہوگا، کیونکہ موجودہ فلیٹ اب برداشت کے قابل نہیں رہا۔

2019 کی 35 روزہ بندش کے دوران جب ملازمین کو مسلسل تنخواہیں نہ ملیں تو ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور TSA اہلکاروں کی غیر حاضریوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی قطاریں لمبی ہو گئیں۔ بالآخر نیویارک میں فضائی ٹریفک کی رفتار کم کرنی پڑی، جس سے قانون سازوں پر دباؤ بڑھا کہ وہ بحران جلد ختم کریں۔
اس وقت بندش کے 31ویں روز، TSA کے غیر حاضر ملازمین کی شرح 10 فیصد تک پہنچ گئی — جو معمول سے تین گنا زیادہ تھی۔

گزشتہ ہفتے امریکی محکمۂ ٹرانسپورٹیشن نے 50 ہزار سے زائد TSA اہلکاروں کے لیے خوراک، کپڑے یا دیگر اشیاء کے عطیات دینے کے طریقہ کار کی تفصیل جاری کی۔ ان اہلکاروں کی اوسط سالانہ تنخواہ 40 ہزار ڈالر ہے۔
رہنما خطوط کے مطابق ڈونٹس، پیزا اور کافی جیسی چیزیں عطیہ کی جا سکتی ہیں، لیکن نقد رقم نہیں — اور یہ عطیات کسی چیک پوائنٹ پر نہیں دیے جانے چاہییں۔

ریپبلکن پارٹی، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اتحادی ہے، کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھتی ہے، لیکن سینیٹ میں فنڈنگ بل کی منظوری کے لیے کم از کم سات ڈیموکریٹس کی حمایت درکار ہے۔
ڈیموکریٹس اصرار کر رہے ہیں کہ قانون میں ان لوگوں کے لیے صحت انشورنس سبسڈی کو جاری رکھا جائے اور اس میں توسیع کی جائے جو "افورڈیبل کیئر ایکٹ” کے تحت بیمہ خریدتے ہیں۔ حکومت کے اخراجاتی بل پر اگلا ووٹ جمعرات کو متوقع ہے۔

اوہائیو کے شہر ڈیٹن میں ایک اور TSA افسر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھ نہیں پاتے کہ کانگریس ان کی تنخواہ کے ساتھ "سیاسی شطرنج” کیوں کھیل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں زیادہ مایوس اس لیے ہوں کہ کوئی حقیقی مذاکرات ہو ہی نہیں رہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین