اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی عوام کی اکثریت فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے حامی،...

امریکی عوام کی اکثریت فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے حامی، سروے رپورٹ
ا

واشنگٹن (مشرق نامہ) – زیادہ تر امریکی جن میں ۸۰ فیصد ڈیموکریٹس اور ۴۱ فیصد ری پبلکنز شامل ہیں — سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہیے۔ رائٹرز/ایپسوس کے تازہ ترین سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس اقدام کی مخالفت عوامی رائے سے ہم آہنگ نہیں۔

چھ روزہ سروے، جو پیر کو مکمل ہوا، میں ۵۹ فیصد شرکاء نے فلسطینی ریاست کے امریکی اعتراف کی حمایت کی، جبکہ ۳۳ فیصد نے مخالفت کی، اور باقی یا تو غیر یقینی تھے یا انہوں نے جواب نہیں دیا۔

سروے میں بتایا گیا کہ ۵۳ فیصد ری پبلکنز اس اقدام کے مخالف ہیں، تاہم ۴۱ فیصد نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کی۔

حالیہ ہفتوں میں کئی ممالک — بشمول امریکہ کے اتحادی برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور آسٹریلیا — نے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے، جس پر اسرائیل نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اسرائیل کے قیام ۱۹۴۸ میں فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور دہائیوں پر محیط تنازعے کا آغاز ہوا تھا۔

اکتوبر ۲۰۲۳ میں حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد سے اسرائیلی بمباری نے غزہ کے وسیع فلسطینی علاقوں کو تباہ کر دیا ہے۔
سروے میں شامل تقریباً ۶۰ فیصد افراد نے کہا کہ اسرائیل کا ردعمل ضرورت سے زیادہ تھا، جبکہ ۳۲ فیصد نے اس سے اختلاف کیا۔

صدر ٹرمپ، جو جنوری میں دوبارہ وائٹ ہاؤس لوٹے، جنگ میں زیادہ تر اسرائیل کے حامی رہے ہیں۔ رواں ماہ انہوں نے ایک جنگ بندی معاہدہ کرایا، جس سے پائیدار امن کی امیدیں پیدا ہوئیں۔

سروے کے مطابق، اگر یہ امن منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو امریکی عوام ٹرمپ کو کریڈٹ دینے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔
شرکاء میں سے ۵۱ فیصد نے اس بیان سے اتفاق کیا کہ اگر امن قائم رہتا ہے تو ٹرمپ ’’نمایاں کریڈٹ کے مستحق‘‘ ہوں گے، جبکہ ۴۲ فیصد نے اس سے اختلاف کیا۔

دلچسپ طور پر، اگرچہ صرف ۲۰ میں سے ایک ڈیموکریٹ نے صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کو سراہا، لیکن چار میں سے ایک ڈیموکریٹ کا کہنا تھا کہ اگر امن قائم رہا تو وہ ٹرمپ کو نمایاں کریڈٹ کے مستحق سمجھیں گے۔

تاہم، امن کے امکانات ابھی غیر یقینی ہیں۔
اختتامِ ہفتہ پر پرتشدد واقعات کے ایک نئے سلسلے نے ایک ہفتہ پرانے جنگ بندی معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا، جس کے بعد امریکی سفارت کاروں نے اسرائیل اور حماس پر دباؤ بڑھایا کہ وہ ٹرمپ کے امن منصوبے کو دوبارہ پٹڑی پر لائیں۔

اہم مسائل — جن میں حماس کے ہتھیار ڈالنے، اسرائیلی فوج کے انخلا اور غزہ کی آئندہ حکمرانی سے متعلق نکات — تاحال حل طلب ہیں۔

خارجہ پالیسی کے محاذ پر ٹرمپ کی منظوری کی شرح میں معمولی بہتری بھی دیکھی گئی، جو تازہ سروے میں ۳۸ فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ اکتوبر کے اوائل میں جنگ بندی سے قبل کیے گئے سروے میں یہ ۳۳ فیصد تھی۔
یہ ریٹنگ جولائی کے بعد ٹرمپ کی سب سے زیادہ شرح تائید ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین