سیئول (مشرق نامہ) – جنوبی کوریا کے مشترکہ اسٹاف کے مطابق شمالی کوریا نے بدھ کی صبح کئی بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔
سیئول کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل شمالی ہوانگھے صوبے کے جنوبی حصے سے فائر کیے گئے اور تقریباً ۳۵۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ملک کے شمال مشرقی علاقے نارتھ ہام گیونگ صوبے میں جا گرے۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر وہی نوعیت کے میزائل ہیں جو پیونگ یانگ نے ستمبر ۲۰۲۴ میں آزمائے تھے۔
جاپان کی نئی مقررہ وزیرِاعظم سانائے تاکائچی نے کہا کہ میزائل تجربات کے بعد ٹوکیو، واشنگٹن اور سیئول کے ساتھ ریئل ٹائم ٹریکنگ اور وارننگ ڈیٹا کا تبادلہ کر رہا ہے۔
پیونگ یانگ نے ان تجربات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا، جو اس سال کیے جانے والے میزائل تجربات کی تازہ قسط ہیں۔ اس سے قبل مئی کے اوائل میں آخری میزائل تجربات ہوئے تھے۔
کچھ ذرائع ابلاغ نے اشارہ دیا ہے کہ شمالی کوریا کا تازہ لانچ ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوبی کوریا کے مجوزہ دورے سے قبل ایک علامتی اقدام ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ آئندہ ہفتے جنوبی کوریا کے ساحلی شہر گیونگ جو میں منعقد ہونے والے ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن (APEC) اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچنے والے ہیں۔
جنوبی کوریا اور جاپان کے ذرائع ابلاغ میں یہ قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اس موقع پر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کے درمیان ملاقات ممکن ہے — جو ان دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کی یاد دلا سکتی ہے۔

