بیجنگ (مشرق نامہ) — چین نے آسٹریلیا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنوبی بحیرہ چین میں اپنی فضائی خلاف ورزی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ کینبرا نے دعویٰ کیا تھا کہ چینی طیارے نے آسٹریلوی فوجی جہاز کے قریب فلیئرز چھوڑے۔
چینی وزارتِ دفاع کے ترجمان جیانگ بن نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ چین نے آسٹریلیا کے ساتھ ایک “سخت سفارتی احتجاج” درج کرایا ہے، جو کہ آسٹریلیا کی جانب سے اپنی فوجی فضائیہ کی “غیر قانونی دراندازی” کو چھپانے کی کوشش ہے۔
جیانگ کے مطابق، آسٹریلوی وزارتِ دفاع کی جانب سے پیر کو جاری کردہ بیان “ذمہ داری چین پر ڈالنے کی کوشش” ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا پر زور دیا کہ وہ اپنی بحری اور فضائی افواج کے فرنٹ لائن اقدامات پر قابو رکھے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان نہ پہنچے۔
چینی وزارتِ دفاع کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب آسٹریلوی وزارتِ دفاع نے اتوار کے واقعے کو “غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ” قرار دیا تھا۔ آسٹریلیا کے مطابق، ایک چینی جنگی طیارے نے جنوبی بحیرہ چین میں گشت کے دوران ایک آسٹریلوی طیارے کے قریب “فلیئرز چھوڑے”، جب کہ آسٹریلیا نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کے مطابق معمول کی سمندری نگرانی قرار دیا۔
تاہم، آسٹریلیا نے واقعے کی درست جگہ ظاہر نہیں کی، جب کہ جیانگ بن نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ “چین کے شی شا جزائر” (جنہیں پارا سیل جزائر بھی کہا جاتا ہے) کی فضائی حدود میں پیش آیا۔ ان جزیروں پر ویتنام اور تائیوان بھی دعویٰ رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، چین اور آسٹریلیا کے درمیان رواں سال فروری میں بھی اسی نوعیت کا تنازع پیش آ چکا ہے۔
چین تقریباً پورے جنوبی بحیرہ چین پر اپنا دعویٰ برقرار رکھتا ہے، اگرچہ 2016 میں دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت نے اس مؤقف کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
یہ مصروف آبی گزرگاہ چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے اہم نکات میں سے ایک ہے، جہاں تجارتی جنگ، امریکی پابندیاں، ہانگ کانگ اور تائیوان کے معاملات بھی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔ جنوبی بحیرہ چین ہی وہ خطہ ہے جہاں چین کے متعدد ہمسایہ ممالک بھی مختلف حصوں پر دعویٰ کرتے ہیں۔
آسٹریلیا کے تازہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے دُرَل دھاتوں اور اہم معدنیات کی فراہمی پر معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ چین کی جانب سے اپنی برآمدات پر پابندیوں کے بعد عمل میں آیا۔
اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے AUKUS سیکیورٹی معاہدے کے تحت آسٹریلیا کے لیے ایٹمی آبدوزوں کی تیاری اور فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ آسٹریلیا کے لیے ہم جو آبدوزیں تیار کر رہے ہیں، وہ تیزی سے تکمیل کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال کے اوائل میں واشنگٹن نے اعلان کیا تھا کہ وہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں طے پانے والے تین ورجینیا کلاس ایٹمی حملہ آور آبدوزوں کے معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے۔
دریں اثنا، بیجنگ میں چینی وزارتِ خارجہ نے البانیز اور ٹرمپ کی ملاقات کے بعد ایک بار پھر AUKUS معاہدے کی مخالفت دہراتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ بلاک سیاست، جوہری پھیلاؤ کے خطرات، اور ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافے کی مخالفت کرتے ہیں۔

