اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیتورخم سرحد بند، پھلوں کی تجارت متاثر، تاجروں کو نقصان

تورخم سرحد بند، پھلوں کی تجارت متاثر، تاجروں کو نقصان
ت

مانٹرئنگ ڈیسک (مشرق نامہ) افغانستان کے تازہ پھل برآمد کرنے والے تاجروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان کے ساتھ زمینی راستے تورخم سرحد کی بندش کے باعث دو سو سے زائد ٹرک ٹماٹر، پیاز، انگور اور سیب سے لدے ہوئے سرحد پر پھنس گئے ہیں، جس سے جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت معطل ہو گئی ہے۔

خشک میوہ جات برآمد کرنے والی یونین کے مطابق تازہ پھلوں کی برآمدات تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہیں، جبکہ محدود مقدار میں خشک میوہ جات فضائی راستے سے بھیجے جا رہے ہیں۔ یونین کے ترجمان نے بتایا کہ "یہ سیب کا سیزن ہے اور پاکستان ہی وہ واحد قریبی اور موزوں منڈی تھی، مگر اب یہ راستہ بھی بند ہو گیا ہے۔”

تاجروں کا کہنا ہے کہ سرحدی بندش کے بعد افغانستان کی پھلوں کی برآمدات میں 60 سے 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اب ان کے پاس صرف فضائی راستہ ہی باقی رہ گیا ہے، لیکن فضائی مال برداری کے زیادہ اخراجات اور مہنگے پھلوں کی کم طلب کے باعث یہ طریقہ کار معاشی طور پر غیر پائیدار ثابت ہو رہا ہے۔

ایک افغان برآمدکنندہ نے بتایا کہ ان کے ٹماٹر دو دن تک سرحد پر رکے رہے اور بعد میں انہیں واپس جلال آباد بھیجنا پڑا، جہاں خراب ہونے کے خدشے کے باعث انہیں کم قیمت پر فروخت کرنا پڑا۔ مسلسل تجارتی تعطل کے نتیجے میں کئی برآمدکنندگان قرضوں میں ڈوب چکے ہیں اور دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔

جبکہ تورخم سرحد بھارت اور پاکستان جانے والی افغان برآمدات کے لیے بند ہے، خرلاچی اور غلام خان کے راستوں پر صرف کوئلے کی محدود ترسیل کی اجازت دی گئی، تاہم تازہ پھلوں کی برآمد دوبارہ معطل کر دی گئی۔

صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب ایران کی چاہ بہار اور بندر عباس بندرگاہوں تک رسائی بھی بین الاقوامی پابندیوں کے باعث محدود ہو گئی، جس سے افغان تاجروں کے پاس برآمدات کے لیے کوئی مؤثر راستہ نہیں بچا۔

افغان برآمدکنندگان نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تجارت کو سیاست سے الگ رکھا جائے اور زمینی راستے دوبارہ کھولے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں کولڈ اسٹوریج، پیکجنگ اور ترسیلی نظام میں سرمایہ کاری کی جائے تو یہ نہ صرف منڈیوں کو مستحکم کرے گا بلکہ ہزاروں روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

تجارتی راستوں کی مسلسل بندش نے افغان کسانوں اور پھل برآمد کرنے والے کاروباروں کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تازہ پیداوار کی برآمدات کا شعبہ طویل معاشی بحران سے دوچار ہو سکتا ہے، جس سے روزگار، زرعی سرمایہ کاری اور علاقائی تجارتی روابط بری طرح متاثر ہوں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین