مانٹرئنگ ڈیسک (مشرق نامہ) منگل کی رات خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور راولپنڈی میں 5.3 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا۔ نیشنل سیسمولوجی سینٹر کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان کے ہندوکش علاقے میں تھا اور اس کی گہرائی 234 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں چارسدہ، رسالپور، نوشہرہ، رستم، بونیر اور نواحی قصبوں میں جھٹکے محسوس کیے گئے، جب کہ مالاکنڈ، چترال، سوات، دیر، تخت بھائی اور باجوڑ میں زلزلہ زیادہ شدت سے محسوس ہوا۔
ابتدائی طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کے مطابق صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ضلعی انتظامیہ سے معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
زلزلے کیوں آتے ہیں؟
زلزلے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب زمین کی پرتوں (tectonic plates) میں حرکت کے باعث دباؤ جمع ہو جاتا ہے۔ جب یہ پرتیں اچانک سرکتی یا ٹکراتی ہیں تو توانائی زلزلے کی لہروں (seismic waves) کی صورت میں خارج ہوتی ہے، جو زمین کو ہلا دیتی ہیں۔
ہندوکش کا علاقہ — جہاں سے پاکستان میں آنے والے اکثر زلزلے جنم لیتے ہیں — بھارتی اور یوریشیائی پلیٹوں کی سرحد پر واقع ہے۔ بھارتی پلیٹ کے شمال کی طرف دباؤ بڑھانے سے یہ رگڑ اور دباؤ اکثر درمیانے یا شدید زلزلوں کا باعث بنتے ہیں۔
اس خطے میں زلزلیاتی سرگرمی عام ہے، تاہم زلزلے کی گہرائی اس کے اثرات کو کم یا زیادہ کر سکتی ہے۔ گہرے زلزلے، جیسے کہ یہ والا (234 کلومیٹر)، عام طور پر سطح پر کم نقصان پہنچاتے ہیں، اگرچہ ان کے جھٹکے دور تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
اگست 2025 میں افغانستان کے مشرقی علاقے میں 6.0 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا تھا، جس نے دور دراز پہاڑی بستیوں کو تباہ کر دیا۔ اس میں 2,200 سے زائد افراد جاں بحق اور 3,600 زخمی ہوئے۔ زلزلے کا مرکز جلال آباد کے قریب تھا، جو پاکستان کی سرحد کے نزدیک ہے، اور اس کی گہرائی محض پانچ سے آٹھ کلومیٹر تھی، جس کے باعث تباہی زیادہ ہوئی۔
پہاڑی علاقوں میں بنے کچے اور غیر مستحکم مکانات زمین بوس ہو گئے، جس سے پورے دیہات ملبے کا ڈھیر بن گئے۔

