اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامینیٹو یورپ روس سے جنگ کی تیاری میں مصروف، روسی انٹیلی جنس...

نیٹو یورپ روس سے جنگ کی تیاری میں مصروف، روسی انٹیلی جنس کے سربراہ
ن

ماسکو (مشرق نامہ) – روس کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس (ایس وی آر) کے سربراہ سرگئی ناریشکن نے یورپی نیٹو ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ماسکو کے خلاف عسکری تصادم کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اتحاد اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہا ہے اور دفاعی صنعت میں توسیع کی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ جنگ کے لیے تیاری مکمل ہو سکے۔

ناریشکن نے ازبکستان کے شہر سمرقند میں دولتِ مشترکہ (سی آئی ایس) کے رکن ممالک کے سیکیورٹی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپی نیٹو ممالک کو فوری طور پر اس بلاک کی "الائیڈ ری ایکشن فورس” کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ یورپی نیٹو اتحادی ہمارے ملک کے ساتھ جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے الائیڈ ری ایکشن فورس کو تمام ضروری وسائل فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یورپی دفاعی صنعت کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ عوام کے درمیان روس کی جانب سے مبینہ جارحیت کے حوالے سے باقاعدہ پروپیگنڈا مہمات اور متحرک مشقیں معمول بن چکی ہیں۔

یورپ میں ہتھیاروں میں اضافہ

ناریشکن کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پورے یورپ میں مغربی عسکری سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں نیٹو نے اپنی سالانہ "اسٹیڈفاسٹ نون” جوہری مشقوں کا آغاز کیا، جو نیدرلینڈز، بیلجیم، برطانیہ اور ڈنمارک میں بیک وقت منعقد ہو رہی ہیں۔ ان مشقوں میں 14 رکن ممالک شامل ہیں اور ان کا مقصد جوہری بازدار ی صلاحیت کا عملی مظاہرہ ہے۔ اس دوران امریکی طیارے بھی حصہ لے رہے ہیں جو B61-12 ٹیکٹیکل نیوکلیئر بم لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگرچہ نیٹو حکام نے ان مشقوں کو معمول کی کارروائی قرار دیا ہے، تاہم روس کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور یورپ میں امریکی عسکری موجودگی کے مستقبل پر جاری مباحثے کے باعث ان کی ٹائمنگ خاص توجہ کا باعث بنی ہے۔

دوسری جانب، جرمنی نے امریکہ کی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن سے مزید 15 F-35A اسٹیلتھ لڑاکا طیارے خریدنے پر غور شروع کر دیا ہے، جو اس کے پہلے سے آرڈر کیے گئے 35 طیاروں کے علاوہ ہوں گے۔ اس اقدام سے جرمنی کی نیٹو کے جوہری شیئرنگ پروگرام میں کردار مزید مضبوط ہوگا، اور پرانے ٹورنیڈو طیاروں کی جگہ امریکی ساختہ B61-12 بم لے جانے کی صلاحیت برقرار رہے گی۔ عسکری ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نیٹو کی تیاری اور بازدار ی کو تقویت دے گا، تاہم ماسکو اس عمل کو نیٹو کی "جنگی عسکریت پسندی” کے تسلسل کے طور پر دیکھتا ہے۔

برطانیہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج کو فضائی اڈوں کے اوپر پرواز کرنے والے نامعلوم ڈرونز کو گرانے کے نئے اختیارات دیے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ شمالی یورپ میں حالیہ ڈرون داخلوں کے بعد کیا گیا ہے جنہیں حکومتوں نے روس سے منسلک قرار دیا ہے۔ برطانوی وزیرِ دفاع جان ہیلی نے کہا کہ یہ اقدام ’’بڑھتی ہوئی روسی جارحیت‘‘ کے مقابلے کے لیے ضروری ہے اور یورپ ’’خطرات کے ایک نئے دور‘‘ میں داخل ہو چکا ہے۔

نیٹو کی بڑھتی ہوئی جارحیت

ماسکو کے نزدیک یہ تمام اقدامات اس کے دیرینہ موقف کی تصدیق کرتے ہیں کہ نیٹو کی توسیع اور ہتھیاروں میں اضافہ روس کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔

ناریشکن نے مزید دعویٰ کیا کہ کئی یورپی حکومتیں نجی طور پر اس بات پر شکوک رکھتی ہیں کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو امریکہ نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 5 کے تحت اپنے اتحادیوں کا دفاع کرے گا یا نہیں۔ ان کے بقول یورپ کا روس پر ’’اسٹریٹجک برتری‘‘ حاصل کرنے کا خواب واشنگٹن کی مکمل شمولیت کے بغیر حقیقت میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔

ان کے بیانات روس کے اس بڑھتے ہوئے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ نیٹو کی فوجی مشقیں، جوہری تیاری کے مظاہرے اور دفاعی نظام کی جدید کاری دراصل دفاعی نہیں بلکہ ایک وسیع تر جنگی تصادم کی تیاری ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین