لندن (مشرق نامہ) – فلسطین ایکشن سے وابستہ سرگرمیوں کے الزامات میں قید درجنوں کارکنان نے اپنے جیل حالات کے خلاف "تاریخی” بھوک ہڑتال شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔
اس سلسلے میں ’پرزنرز فار فلسطین‘ (PFP) نامی مہم گروپ نے برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کے نام ایک خط میں ان 33 افراد کی جانب سے مطالبات پیش کیے ہیں، جنہیں فلسطین میں نسل کشی روکنے کے لیے اقدام کرنے کے باعث ناجائز طور پر قید کیا گیا ہے۔
ان قیدیوں میں "فلٹن 24” کے ارکان شامل ہیں — وہ کارکن جنہیں اگست 2024 میں برسٹل میں الاسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی ایل بٹ سسٹمز کے فیکٹری پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اسی طرح "برائز نارٹن 5” کے کارکن بھی ان میں شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک برطانوی فضائی اڈے (RAF) میں داخل ہو کر دو طیاروں پر رنگ اور لوہے کی سلاخوں سے حملہ کیا، یہ کہہ کر کہ یہ طیارے غزہ اور مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔
تمام افراد کو ضمانت سے محروم رکھا گیا ہے، اور بعض ایک سال سے زائد عرصے سے مقدمے کے بغیر قید ہیں، ان پر کریمنل ڈیمیج اور ایگریویٹڈ برگلری جیسے الزامات عائد ہیں۔
جولائی میں اُس وقت کی وزیر داخلہ ایویٹ کوپر نے فلسطین ایکشن پر پابندی عائد کر کے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ اس فیصلے کے تحت فلسطین ایکشن کو برطانوی قانون میں داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کے ہم پلہ قرار دیا گیا، اور اس کی حمایت یا رکنیت کا اظہار 14 سال قید تک کی سزا کا موجب بن سکتا ہے۔
حالاتِ قید مزید خراب
تنظیم پر پابندی کے بعد سے فلسطین ایکشن سے وابستہ قیدیوں نے جیل عملے کی جانب سے بڑھتی ہوئی پابندیوں اور خراب سلوک کی شکایات کی ہیں۔
"فلٹن 24” کی ایک رکن، ٹی ہوژا، نے اگست میں جیل انتظامیہ کی جانب سے اس کی تفریحی سرگرمیاں معطل کرنے، لائبریری میں کام سے روکنے اور ڈاک روکنے کے بعد پیٹربرو جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔
پرزنرز فار فلسطین کی نمائندہ آڈری کورنو اور فرانسیسکا نادین نے کہا کہ قیدیوں کے پاس اپنی حکومت کے رویے کے باعث اب کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔
خط میں خبردار کیا گیا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو 33 قیدی 2 نومبر سے بھوک ہڑتال شروع کریں گے — یہ وہی دن ہے جب 1917 میں برطانیہ نے اعلانِ بالفور کے ذریعے فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
کورنو اور نادین، جو ماضی میں خود بھی فلسطین ایکشن کی سرگرمیوں پر قید رہ چکی ہیں، نے پیر کے روز یہ خط وزارتِ داخلہ میں جمع کرایا۔
کورنو نے مڈل ایسٹ آئی سے گفتگو میں کہا کہ اگر یہ بھوک ہڑتال شروع ہوتی ہے تو یہ تاریخی نوعیت کی ہوگی، کیونکہ یہ 1981 میں بوبی سینڈز کی قیادت میں ہونے والی آئرش بھوک ہڑتال کے بعد سب سے بڑی مشترکہ قیدی احتجاجی ہڑتال ہوگی۔
نادین کے مطابق قیدیوں نے بارہا عدالتی اور جیل شکایتی نظام کے ذریعے اپنے مطالبات پیش کیے، مگر ہر سطح پر مایوس کیا گیا۔
"قید میں اظہار پر پابندی ایک کنٹرول کا ہتھیار”
قیدیوں کے مطالبات میں سب سے اہم مطالبہ "تمام سنسرشپ کے خاتمے” کا ہے، جس کے تحت ذاتی خطوط، فون کالز اور ابلاغ پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ جیلوں کے اندر سنسرشپ مزاحمت کو دبانے کا ایک ہتھیار ہے۔ خطوط، فون کالز، سیاسی بیانات، کتابیں اور اظہار کی تمام شکلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
مڈل ایسٹ آئی نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ فلسطین ایکشن سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کی ڈاک، فون کالز اور ملاقاتوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
پرزنرز فار فلسطین کے مطابق "فلٹن 24” کے قیدیوں کو ان کی حراست کے آغاز سے ہی ڈاک کے حوالے سے پابندیوں کا سامنا ہے۔
اسی طرح گروپ نے بتایا کہ "فلٹن 24” کے ایک رکن، معیز ابراہیم، جو فی الحال لیوس جیل میں قید ہیں، ان کے فون سسٹم سے اہلِ خانہ اور دوستوں کے رابطہ نمبرز حذف کر دیے گئے ہیں، جس سے وہ کسی سے بات نہیں کر پا رہے۔
خط میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ فلسطین ایکشن سے تعلق رکھنے والے زیرِ سماعت قیدیوں کو فوراً ضمانت دی جائے، کیونکہ ضمانت سے انکار ان کے منصفانہ مقدمے کے حق کو متاثر کرتا ہے۔
اس میں کہا گیا کہ منصفانہ مقدمے کا حق اسی وقت ممکن ہے جب ملزم کو آزادی میں رہ کر اپنی تیاری کا حق حاصل ہو، نہ کہ سلاخوں کے پیچھے۔
قیدیوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان کے مقدمات سے متعلق تمام دستاویزات مکمل طور پر جاری کی جائیں، جن میں برطانوی اور اسرائیلی حکام، پولیس، اٹارنی جنرل، ایل بٹ سسٹمز اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے ریکارڈ شامل ہوں۔
مڈل ایسٹ آئی کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی اس وقت کی وزیر برائے پولیس، ڈیانا جانسن، نے جون 2025 میں فلسطین ایکشن پر پابندی سے صرف چند ہفتے قبل اس کمپنی کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی جسے فلسطین ایکشن نے نشانہ بنایا تھا۔
مزید برآں، مئی میں سامنے آنے والے فریڈم آف انفارمیشن کے انکشافات سے معلوم ہوا تھا کہ برطانیہ نے فلسطین ایکشن کے کارکنوں سے متعلق تحقیقات کے دوران انسدادِ دہشت گردی پولیس کے رابطہ نمبرز اسرائیلی سفارتخانے کے ساتھ شیئر کیے تھے۔
کورنو اور نادین کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ دیگر قیدی بھی اس بھوک ہڑتال میں یکجہتی کے طور پر شامل ہوں گے۔
کورنو نے کہا کہ میں نے اس سال کے اوائل میں برونزفیلڈ جیل میں کچھ فلٹن 24 ارکان کے ساتھ وقت گزارا، اور میں ذاتی طور پر جانتی ہوں کہ جیل کے اندر کئی قیدی فلسطین کی حمایت کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے جو قدم اٹھایا وہ کیوں ضروری تھا۔
مڈل ایسٹ آئی نے وزارتِ انصاف، جیل و پروبیشن سروس، اور وزارتِ داخلہ سے اس حوالے سے رابطہ کیا ہے۔

