اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی پارلیمنٹ میں الحاق، سزائے موت اور انتخابات پر بحث کی تیاری

اسرائیلی پارلیمنٹ میں الحاق، سزائے موت اور انتخابات پر بحث کی تیاری
ا

تل ابیب (مشرق نامہ) – اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کا سرمائی اجلاس پیر کے روز شروع ہوا، جو اکتوبر 2026 میں طے شدہ عام انتخابات سے قبل آخری اجلاس ہے، اگرچہ یہ تاریخ تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔

اجلاس شدید سیاسی کشیدگی کے ماحول میں ہوا، جہاں حکومتی اتحاد کے ارکان نے سپریم کورٹ اور عدلیہ پر تنقید کی، جس پر اپوزیشن اراکین نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

مرکزی جماعت یش عتید کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر یائیر لاپیڈ نے پیر کو پارلیمانی مباحثے کے دوران کہا کہ اسرائیل اس وقت اپنی تاریخ کے "سب سے سنگین سیاسی بحران” سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب موجودہ حکومت نے حالات پر قابو کھو دیا ہے۔

اگلے چند مہینوں میں اراکینِ پارلیمان کے سامنے یہ اہم سوال ہوگا کہ آیا طے شدہ وقت پر انتخابات کرائے جائیں یا قبل از وقت الیکشن بلائے جائیں۔

عبرانی نیوز ویب سائٹ دی مارکر کے مطابق وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے تاحال ان دونوں آپشنز میں سے کسی ایک کا فیصلہ نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق سرمائی اجلاس کافی گرم ہونے کا امکان ہے کیونکہ اس میں کئی متنازع بل بحث کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ مڈل ایسٹ آئی نے ان اہم مجوزہ بلوں کا جائزہ پیش کیا ہے جن پر بحث غالب رہنے کی توقع ہے.

الحاق (Annexation)

پارلیمانی قانون ساز کمیٹی کے ایجنڈے میں، جو نئے قوانین کی تیاری و منظوری کی ذمہ دار ہے، دو بل ایسے شامل ہیں جو مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خودمختاری نافذ کرنے سے متعلق ہیں۔

ایک تجویز قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کی جماعت یہودی پاور پارٹی کی رکن لمور سون ہار میلیک نے پیش کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ریاستِ اسرائیل اپنے قوانین اور خودمختاری کو مغربی کنارے پر نافذ کرے تاکہ ان علاقوں کو اسرائیل کے ناقابلِ تقسیم حصے کے طور پر تسلیم کیا جا سکے۔

دوسرا بل اپوزیشن جماعت اسرائیل بیتنو کے سربراہ اویگڈور لیبرمین نے پیش کیا ہے، جو خاص طور پر مشرقی یروشلم کے قریب واقع اسرائیلی بستی معالیہ ادومیم پر اسرائیلی خودمختاری نافذ کرنے سے متعلق ہے۔

بل کے مطابق، "معالیہ ادومیم اس خطے میں واقع ہے جو ہمیشہ تاریخی سرزمینِ اسرائیل کا ناقابلِ تقسیم حصہ رہا ہے،” لہٰذا اسے بھی اسرائیل کا مستقل حصہ قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

سزائے موت

اس اجلاس میں پیش ہونے والے دیگر بلوں میں دہشت گردی کے الزام میں مجرم قرار دیے جانے والوں کے لیے سزائے موت کے نفاذ کی تجویز اور حماس کے ان جنگجوؤں کے خلاف مقدمہ چلانے کا بل شامل ہے جن پر اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

وزیر برائے جیل امور ایتمار بن گویر طویل عرصے سے فلسطینیوں کے لیے سزائے موت اور سخت قید شرائط کے حامی رہے ہیں۔

ان کے زیرِ نگرانی فلسطینی قیدیوں پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں تشدد، بھوک اور جنسی زیادتی کے واقعات شامل ہیں۔

بن گویر کے پیش کردہ سزائے موت کے بل کو گزشتہ ماہ ابتدائی منظوری مل چکی ہے، اگرچہ نیتن یاہو نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ہفتے کے روز اس انتہاپسند وزیر نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے لیے سزائے موت کا قانون – ابھی۔

فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے اداروں، بشمول کمیشن آف ڈیٹینیز اینڈ ایکس ڈیٹینیز افیئرز اور فلسطینی پرزنرز کلب نے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کے اس بل کو "بے مثال وحشیانہ اقدام” قرار دیا ہے۔

فوجی بھرتی سے مذہبی طبقات کی معافی

پارلیمنٹ کے ایجنڈے میں ایک اور اہم مسئلہ مذہبی یہودیوں کو فوجی بھرتی سے مستثنیٰ قرار دینے والا بل ہے، جو غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیلی عوامی مباحثے کا مرکزی موضوع بنا رہا ہے۔

یہ بل مذہبی جماعتوں کا دیرینہ مطالبہ ہے، اور رواں سال کے اوائل میں اس کی منظوری نہ ہونے کے باعث ان جماعتوں نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

اس اختلاف نے پارلیمنٹ کی خارجہ و دفاعی کمیٹی کے سربراہ یولی ایڈلشٹین کی جگہ نیتن یاہو کے حامی بوعاز بسمتھ کی تقرری کا بھی باعث بنا، تاکہ اس قانون کی منظوری میں آسانی ہو۔

عبرانی ویب سائٹ وائے نیٹ کے مطابق بسمتھ نے حکومت اور مذہبی نمائندوں کے درمیان بھرتی کے قواعد پر ایک مسودہ معاہدہ پیش کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ کا مستقبل اسی قانون پر منحصر ہے جو مذہبی طبقے کو فوجی سروس سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے، یہی حکومت کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے۔

حکومت لِکوڈ پارٹی کی رکن گالِت ڈسٹل اتبریان کے پیش کردہ ایک علیحدہ بل کو بھی آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا مقصد "مذہب مخالف جبری اقدامات کو روکنا” ہے۔

اس قانون کے تحت تمام سرکاری اداروں کو دروازوں پر مذہبی طومار (میزوزہ) نصب کرنے کا پابند بنایا جائے گا، جبکہ ججوں کے لیے یہودی قانون (ہلاخا) کے امتحان پاس کرنا لازمی ہوگا۔

پارلیمانی قانونی مشیروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات مذہبی آزادی اور جمہوری اصولوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل کے اختیارات میں کمی

حکومت کے ایجنڈے میں اس اجلاس کے دوران ایک اور بڑا ہدف اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان 11 کے مطابق سرمائی اجلاس میں پہلا بل اسی مقصد کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے تحت اٹارنی جنرل کے عہدے کو تقسیم کرنے کی تجویز ہے — جو نیتن یاہو کی حکومت کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔

یہ اقدام اسرائیل میں عدلیہ کو کمزور کرنے کی ایک وسیع تر کوشش کے حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

غزہ جنگ سے قبل بھی ایسے اقدامات کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور ان اقدامات کو "عدالتی بغاوت” قرار دیا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین