اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیٹرمپ کا آئندہ سال کے آغاز میں چین کے دورے کا اعلان

ٹرمپ کا آئندہ سال کے آغاز میں چین کے دورے کا اعلان
ٹ

واشنگٹن (مشرق نامہ) – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ سال کے اوائل میں چین کا دورہ کریں گے، جو بیجنگ کی جانب سے موصولہ دعوت کے جواب میں کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے چین آنے کی دعوت دی گئی ہے اور میں اگلے سال کے آغاز میں وہاں جاؤں گا۔ ہم نے اس کا ابتدائی طور پر تعین کر لیا ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ رواں ماہ جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی توقع رکھتے ہیں تاکہ ایک ’’منصفانہ‘‘ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے، اگرچہ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان محصولات کے معاملے پر کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

گزشتہ ہفتے تک تجارتی جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کے آثار نمایاں تھے، جب چین نے اپنی نایاب ارضی معدنیات کی برآمدات پر نئی پابندیاں عائد کیں اور ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر محصولات کو 100 فیصد تک بڑھانے کی دھمکی دی تھی۔

اس قدر تناؤ تھا کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے چین پر الزام لگایا کہ وہ ’’پوری آزاد دنیا کی سپلائی چین اور صنعتی بنیاد پر راکٹ فائر کرنے‘‘ کے مترادف اقدامات کر رہا ہے۔

پیر کے روز ٹرمپ نے ان اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے لیے ایک ساتھ ترقی کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ چین امریکی سویابین دوبارہ خریدنا شروع کرے، جو تجارتی جنگ کے باعث بری طرح متاثر ہوا اور امریکی مڈویسٹ کے کسان اپنے سب سے بڑے خریدار سے محروم ہو گئے۔

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد شکاگو بورڈ آف ٹریڈ میں سویابین کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، کیونکہ مارکیٹ میں یہ امید پیدا ہوئی کہ چین ایک بار پھر یہ اجناس خریدنا شروع کرے گا۔

ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات پر اعتماد کا اظہار کیا اور اس اندازے کی تردید کی جو حال ہی میں امریکی محکمۂ دفاع نے پیش کیا تھا کہ چین 2027 میں تائیوان پر قبضے کی تیاری کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہم چین کے ساتھ بالکل ٹھیک رہیں گے۔ چین ایسا نہیں چاہتا۔ یہ بیان انہوں نے آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز کے ساتھ ملاقات کے دوران دیا۔

اگرچہ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ تائیوان شی جن پنگ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ چین اس کے حملے سے باز رہے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ہر لحاظ سے بہترین صلاحیت ہے، اور کوئی بھی اس سے الجھنے کی جرات نہیں کرے گا۔

تاہم ٹرمپ نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا کہ آیا وہ شی کے ساتھ کسی معاہدے کے تحت تائیوان کی امریکی حمایت ترک کر دیں گے یا نہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال جون میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے سنگاپور میں شینگری-لا ڈائیلاگ کے موقع پر چین کو ’’خطے کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیا تھا۔

چینی وزارتِ خارجہ نے اس بیان کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ تائیوان کے مسئلے کو چین کو روکنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، اور نہ ہی اسے آگ سے کھیلنا چاہیے۔

’دشمنانہ خطرات‘

چین طویل عرصے سے خودمختار جزیرہ تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ قرار دیتا آیا ہے۔ یہ جزیرہ 1949 میں اس وقت چین سے الگ ہوا جب خانہ جنگی کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی نے اقتدار سنبھالا۔ چین نے اسے اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے طاقت کے استعمال کو کبھی خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

چینی فوج باقاعدگی سے تائیوان کے اردگرد فضائی اور سمندری گشت کرتی ہے اور حالیہ برسوں میں اس علاقے میں بڑی فوجی مشقیں بھی کر چکی ہے۔

امریکہ، دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح، تائیوان کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، لیکن وہ اس کی جمہوریت اور ٹیکنالوجی کے مرکز کی حیثیت سے اہم ترین بین الاقوامی پشت پناہی کرتا ہے۔

امریکی قانون کے تحت واشنگٹن پر لازم ہے کہ وہ تائیوان کو دفاعی ہتھیار فراہم کرے، تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر چین نے حملہ کیا تو امریکہ براہِ راست فوجی مداخلت کرے گا یا نہیں۔

ٹرمپ کے پیش رو جو بائیڈن کئی مواقع پر یہ اشارہ دے چکے تھے کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو وہ امریکی فوجی کارروائی کا حکم دیں گے۔

اسی ماہ کے آغاز میں تائیوان کے صدر ولیم لائی چِنگ-تے نے اعلان کیا کہ وہ ’’دشمنانہ خطرات‘‘ کے پیش نظر ایک گنبد نما فضائی دفاعی نظام تعمیر کریں گے اور دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں گے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین