اسلام آباد (مشرق نامہ) الیکشن کمیشن کو ملک کی تین غیر مقبول سیاسی جماعتوں کی جانب سے "تحریک تحفظ آئین پاکستان” کے نام سے سیاسی اتحاد بنانے کی درخواست موصول ہوئی ہے، جبکہ مذکورہ جماعتوں نے ایسی کوئی بھی درخواست جمع کرنے سے لاعلمی اور لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں پہلے سے ہی "تحریک تحفظ آئین پاکستان” کے نام سے اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
پاکستانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق پاکستان امن تحریک کے چیئرمین علی شیر یوسف زئی، پاکستان فلاحی تحریک کے چیئرمین فضل امان خان اور پاکستان ویلفیئر پارٹی کے چیئرمین محمد فاروق کی جانب سے الیکشن کمیشن کو درخواست موصول ہوئی ہے کہ وہ سیاسی اتحاد بنانا چاہتے ہیں۔ جسے "تحریک تحفظ آئین پاکستان” کے نام سے رجسٹر کیا جائے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق مذکورہ جماعتیں الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں، تو انہوں نے بتایا کہ ان کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں دی گئی۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے الیکشن کمیشن کو تین جماعتوں کی جانب سے سیاسی اتحاد کیلئے "تحریک تحفظ آئین پاکستان” کا نام حاصل کرنے کیلئے دی جانیوالی درخواست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی عملداری کمزور پڑ چکی ہے اور اپوزیشن کے لیے سیاسی گنجائش مزید تنگ کی جا رہی ہے۔
اپنے مرکزی بیان میں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پیش ہونے پر پتہ چلا کہ ایک درخواست نامعلوم جماعتوں کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ "تحریک تحفظ آئین” کے نام سے ایک نیا اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے انتخابی نشان الاٹ کیا جائے۔
اسی نام سے ایک فعال اتحاد پہلے سے موجود ہے، جو گزشتہ دو برسوں سے اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں پر مشتمل ہے اور آئینی جدوجہد میں سرگرم عمل ہے۔ اس کے باوجود اس نوعیت کی درخواست کا آنا باعث حیرت اور شکوک و شبہات پیدا کرنے والا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ بعد ازاں جن جماعتوں کے نام سے درخواست دی گئی تھی، انہوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے حلفاً بیان دیا کہ یہ درخواست انہوں نے نہیں دی۔ درخواست پر موجود دستخط بھی ان کے نہیں تھے۔ کمیشن نے انہیں حکم دیا کہ وہ درخواست واپس لیں، جس پر انہوں نے موقع پر ہی "Withdrawal Application” لکھ کر جمع کرا دی۔
بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی عملداری کمزور پڑ چکی ہے اور اپوزیشن کے لیے سیاسی گنجائش مزید تنگ کی جا رہی ہے۔ اس طرح کی درخواست بازی اور نام چرانے کی کوششیں اسی کھیل کا حصہ معلوم ہوتی ہیں، جس کا مقصد اپوزیشن اتحاد کو بدنام کرنا یا اس کے کردار کو مشکوک بنانا ہے۔ لیکن یہ ایک بچکانہ سوچ ہے۔
انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کافی عرصے سے سرگرم ہے۔ اس میں ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں، جن میں پاکستان تحریک انصاف، مجلس وحدت المسلمین، بلوچستان نیشنل پارٹی (اختر مینگل) و دیگر سیاسی جماعتیں اور متعدد معروف شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔
"ایسی حرکات نے ہمیں وہ وقت یاد دلا دیا جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھیننے کی کارروائی کی گئی تھی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ ملک آئین، قانون اور شفافیت کے مطابق چلے تو ہمیں اس طرح کی مصنوعی درخواستوں اور سیاسی کھیلوں سے اجتناب کرنا ہوگا۔”
بیان میں کہا گیا ہم اپنے آئینی و جمہوری حق، یعنی اپوزیشن کی سیاست کرنے کے حق، کا دفاع کرتے رہیں گے اور اس کی مضبوطی کے لیے کوشاں رہیں گے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اتحاد کوئی انتخابی اتحاد نہیں، بلکہ یہ ایک آئینی و قومی تحریک ہے جس کے اہداف ہم نے ایک آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے قوم کے سامنے رکھے تھے۔
"یہ اہداف صرف ہمارے نہیں بلکہ ہر اس پاکستانی کے ہیں جو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کے تحفظ، اور ایک کھلی، آزاد معاشرتی فضا چاہتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد اپنے اتحادی قائدین کے ساتھ مشاورت کریں گے تاکہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
"ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ایسی سازشوں، درخواست بازیوں اور جعلی حرکات سے ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ ہم اپنی آئینی جدوجہد کو بھرپور انداز میں جاری رکھیں گے۔”

