اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامینیویارک سٹی کے میئرل مباحثے میں پھر اسرائیل اور حماس پر زہران...

نیویارک سٹی کے میئرل مباحثے میں پھر اسرائیل اور حماس پر زہران ممدانی سے سوالات
ن

نیویارک (مشرق نامہ) – ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی اخبار نیویارک ٹائمز سے لے کر دائیں بازو کے وال اسٹریٹ جرنل اور نسبتاً معتدل پولیٹیکو میگزین تک، سب نے اتفاق کیا کہ نیویارک سٹی اسمبلی کے رکن زہران ممدانی بہترین مقرر اور مؤثر پیغام رسان ہیں۔

جمعرات کو ہونے والے عام میئرل مباحثے میں کوئی امیدوار ایسا نہ تھا جو ممدانی جتنی وضاحت سے اپنے مؤقف کو پیش کر سکے۔ تاہم یہ سوال ابھی باقی ہے کہ کیا یہ کامیاب کارکردگی آئندہ تین ہفتوں میں ان کی جیت کی ضمانت بن پائے گی یا نہیں۔

تینتیس سالہ یہ نوجوان سیاست دان — جو اس دوڑ میں حیران کن طور پر سبقت لیے ہوئے ہیں اور جن کی مہم عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے — نے اس مباحثے میں بھی اپنا توازن برقرار رکھا، خاص طور پر ان دو موضوعات پر جنہوں نے ان کی شناخت کو نمایاں کیا ہے: امریکہ میں طبقاتی خلیج اور فلسطین۔

جمعہ کو جاری ہونے والے فاکس نیوز کے ایک سروے (جو مباحثے سے قبل کیا گیا تھا) میں مامدانی کی حمایت 50 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ ان کے دو بڑے حریفوں، آزاد امیدوار اور سابق گورنر اینڈریو کومو اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا کے مقابلے میں وہ نمایاں برتری پر ہیں۔
امکان ظاہر کیا گیا کہ مامدانی کو 52 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں، جب کہ کومو کو 28 فیصد اور سلیوا صرف 14 فیصد پر ہیں۔

کومو، جنہوں نے 2020 میں بدنامی کے باعث گورنری سے استعفیٰ دیا، جون میں ہونے والے ڈیموکریٹک پرائمری میں مامدانی سے شکست کھانے کے بعد آزاد حیثیت میں دوبارہ انتخابی دوڑ میں شامل ہوئے۔
وہ ممدانی کے بالکل برعکس تصور کیے جاتے ہیں — ایک امیر، اثر و رسوخ رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھنے والے سیاست دان، جنہیں اسرائیل نواز لابیوں کی مالی معاونت حاصل ہے۔

اسرائیل کا سوال

مباحثے میں اسرائیل کے حوالے سے گفتگو تند و تیز رہی۔
کومو، جنہیں طویل عرصے سے امریکی اسرائیلی لابنگ گروپ ایپیک کی حمایت حاصل ہے، نے مامدانی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو بطور ’’یہودی ریاست‘‘ تسلیم کریں اور نعرے ’’گلوبلائز دا انتفاضہ‘‘ سے لاتعلقی ظاہر کریں، جسے کومو نے غلط طور پر ’’تمام یہودیوں کو قتل کرنے‘‘ کا مفہوم دیا۔

’’انتفاضہ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’’بغاوت‘‘ یا ’’اٹھ کھڑا ہونا‘‘ ہے، اور یہ فلسطینی تحریکوں میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

کومو نے کہا کہ یہ اسمبلی ممبر حماس کی مذمت نہیں کرتے، نہ ہی حسن پائکر کی، جنہوں نے کہا کہ امریکہ کو 9/11 کا مستحق تھا۔ ان کے بہت سے مؤقف تو خود ان کے مذہب کے مطابق بھی نہیں۔

اس پر ممدانی نے بھرپور جواب دیا کہ اینڈریو کومو کو شکست کھانے کے بعد پہلی بار کسی مسلمان امیدوار نے انہیں مسجد کا رخ کرنے پر مجبور کیا۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ انہوں نے کسی مسجد کا نام تک نہیں لیا۔ انہیں شکست دینی پڑی تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ مسلمان بھی اس شہر کا حصہ ہیں، اور یہی بات ان کے لیے شرمناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ حماس کی متعدد بار مذمت کر چکے ہیں، لیکن اینڈریو کومو جیسے لوگ کبھی مطمئن نہیں ہوں گے، کیونکہ درحقیقت وہ مجھے، جو اس شہر کی قیادت کے دہانے پر پہلا مسلمان امیدوار ہوں، دہشت گردوں کا ہمدرد کہنا چاہتے ہیں۔

ممدانی نے کہا کہ وہ اسرائیل کے بطور ریاست وجود کو تسلیم کرتے ہیں، مگر کسی ایسی ریاست کے وجود کے حق کو نہیں مانتے جو نسل یا مذہب کی بنیاد پر امتیازی نظام قائم کرے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کومو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی — یعنی اسرائیلی قبضے — کو کبھی سمجھ نہیں سکتے کیونکہ وہ خود اسرائیلی وزیر اعظم کے دفاعی قانونی ٹیم کا حصہ رہے ہیں جو عالمی فوجداری عدالت (ICC) میں جنگی جرائم کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے غزہ سے متعلق ’’20 نکاتی امن منصوبے‘‘ پر بات کرتے ہوئے مامدانی نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حماس کو ہتھیار رکھ دینے چاہییں، مگر جنگ بندی کا مطلب ہے کہ تمام فریق فائرنگ بند کریں۔

جب تمام امیدواروں سے پوچھا گیا کہ اگر وہ میئر بن گئے تو پہلا غیر ملکی دورہ کہاں کریں گے، تو زیادہ تر، بشمول کومو، نے اسرائیل کا نام لیا۔
ممدانی نے جواب دیا کہ وہ شہر میں ہی رہیں گے تاکہ اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دیں۔
جب ان سے بار بار پوچھا گیا کہ کیا وہ بطور میئر کبھی اسرائیل جائیں گے؟
تو انہوں نے کہا کہ یہودی نیویارک والوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے اسرائیل جانا ضروری نہیں۔ میں ان سے ان کی عبادت گاہوں اور مندروں میں ملاقات کروں گا۔

نیویارک شہر میں تقریباً ایک ملین یہودی اور اتنی ہی تعداد میں مسلمان بستے ہیں۔

ٹرمپ پر تبصرہ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ممدانی جیت گئے تو وہ نیویارک سٹی اور اس کے میئر کے خلاف سخت اقدامات کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس ایک کمیونسٹ ہے، 33 سال کا، جسے کچھ نہیں آتا، شاید زندگی میں ایک دن بھی کام نہیں کیا، اور کسی طرح اسے شہرت مل گئی۔ میں نیویارک کو زیادہ پیسہ نہیں بھیجنے والا.

کومو نے جواب میں کہا کہ وہ ٹرمپ سے نمٹنا جانتے ہیں کیونکہ وہ پہلے بھی ان سے معاملات کر چکے ہیں، جبکہ مامدانی نے کہا کہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا بدترین خواب ہوں — ایک ترقی پسند مسلمان تارکِ وطن جو اپنے نظریات پر ڈٹا رہتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ میری مہم ان ہی ارب پتیوں کے پیسوں سے نہیں چلتی جنہوں نے ٹرمپ کو واشنگٹن پہنچایا۔

معاشی بحران اور رہائش

ممدانی نے کہا کہ ہم اس وقت امریکہ کے سب سے مہنگے شہر میں رہ رہے ہیں، جہاں ہر چار میں سے ایک نیویارکر غربت میں زندگی گزار رہا ہے۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ دو ملین سے زائد کرایہ داروں کے لیے کرایوں میں اضافہ روکیں گے، پبلک ٹرانسپورٹ مفت اور تیز کریں گے، اور تمام بچوں کے لیے یونیورسل چائلڈ کیئر فراہم کریں گے۔ ان کے مطابق یہ سب امیروں اور کارپوریٹ کمپنیوں پر ٹیکس بڑھا کر ممکن بنایا جائے گا۔

کومو نے جواب دیا کہ شہر میں انتظامی، مالیاتی اور سماجی بحران ہے۔ مہنگائی کم کرنے کے لیے اجرت بڑھانی چاہیے اور زیادہ سستی رہائش گاہیں بنانی چاہییں۔

مانہٹن میں ایک فرد کے لیے اوسط ماہانہ کرایہ ساڑھے چار ہزار ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
ممدانی نے یاد دلایا کہ جب وہ پہلی بار ریاستی اسمبلی کے رکن بنے تو گورنر کومو نے امیروں پر ٹیکس لگانے سے انکار کیا تھا، مگر انہوں نے اپنی جماعت کے ساتھ مل کر اس رکاوٹ کو توڑا، چار ارب ڈالر کی اضافی آمدن پیدا کی اور پبلک اسکولوں کی فنڈنگ بڑھائی۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ اس شہر کا مسئلہ یہ ہے کہ میرا کرایہ بہت کم ہے تو کومو کو ووٹ دیں۔ لیکن اگر آپ جانتے ہیں کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کا کرایہ بہت زیادہ ہے تو ووٹ مجھے دیں۔

نیویارک سٹی کے میئر کے انتخاب کا حتمی مرحلہ 4 نومبر کو ہوگا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین