تحریر: عبدالباری عطوان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز فاکس بزنس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’’ابراہیم معاہدوں‘‘ کے تحت تعلقات کی بحالی کا عمل غزہ میں جنگ بندی کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے والا ہے، اور انہوں نے سعودی عرب اور انڈونیشیا کے اس عمل میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی — یہ ان کے ان رابطوں کے بعد ہے جو انہوں نے دونوں ممالک کے حکام سے کیے۔
ٹرمپ کی یہ ’’خواہش‘‘ نہ نئی ہے اور نہ ہی حیران کن۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی وہ یہی دعوے کرتے رہے، اور اب دوبارہ اقتدار میں آ کر بھی وہی بات دہرا رہے ہیں۔ تاہم، اس کے جواب میں سعودی قیادت کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ قابض ریاست کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہ آ جائے۔ سوال یہ ہے کہ اب نیا کیا ہے؟ کیا سعودی مؤقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟
سعودی حکام نے تاحال صدر ٹرمپ کے ان بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی حالیہ شرم الشیخ سربراہی اجلاس میں عدم شرکت، اور سعودی وزیرِ خارجہ کی ’’امن دستاویز‘‘ پر دستخطی تقریب سے غیر موجودگی، اس امر کا عندیہ دیتی ہے کہ سعودی مؤقف میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ اس تقریب میں صرف میزبان ملک مصر کے صدر، امریکی صدر ٹرمپ، اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے — مصر اور ترکی دونوں اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی دو ریاستی حل کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ وہ سعودی عرب اور فرانس کی مشترکہ سرپرستی میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے بھی سخت مخالف تھے، جس میں تقریباً 150 ممالک نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی تھی۔ ٹرمپ نے اس کانفرنس کو ناکام بنانے کی بھی کوشش کی۔
یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا آئندہ نومبر میں متوقع دورۂ واشنگٹن اس حوالے سے کئی سوالوں کے جوابات فراہم کرے گا۔ اس دوران سعودی اور امریکی قیادت کے درمیان ممکنہ معاہدوں اور دفاعی شراکت پر بات ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں جب یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ دونوں ممالک ایک ایسے دفاعی معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں جو قطر-امریکا دفاعی معاہدے سے مشابہ ہو، جس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ قطر پر کسی بھی حملے کو امریکا پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں، جو انہوں نے صہیونی پارلیمان ’’کنیسٹ‘‘ میں دیا، اسرائیلی نژاد امریکی ارب پتی میرِیم ایڈلسن کی خاص طور پر تعریف کی — جو امریکہ میں جُوا بازی کے عالمی کاروبار کے بانی مرحوم شیلڈن ایڈلسن کی بیوہ ہیں۔ میرِیم ایڈلسن اسرائیل کی پُرجوش حمایتی سمجھی جاتی ہیں اور اپنے اربوں ڈالر اسرائیلی مفادات کے فروغ میں استعمال کرتی ہیں۔ اگر شیلڈن ایڈلسن نے ٹرمپ کی پہلی انتخابی مہم کے لیے 100 ملین ڈالر کا عطیہ دے کر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کروانے اور امریکی سفارتخانے کی منتقلی کا سودا کیا تھا، تو ان کی بیوہ میرِیم نے اس رقم کو چار گنا بڑھا کر شاید اس کے بدلے میں ٹرمپ سے یہ وعدہ لیا ہو کہ وہ غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کی مکمل حمایت کریں گے اور اسرائیل کے خطے میں پھیلاؤ کے منصوبوں کی غیر مشروط پشت پناہی کریں گے — جس میں ’’ابراہیم معاہدوں‘‘ کے دائرے میں مزید عرب اور مسلم ممالک کو شامل کرنا بھی شامل ہے۔
’’ابراہیم معاہدوں‘‘ کے دائرے کو وسیع کر کے نئے عرب و اسلامی ممالک کو شامل کرنا دراصل، ہماری رائے میں، اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے لیے ایک انعام ہے — اس کے بدلے میں جو اس نے غزہ میں نسل کشی، بھوک، اور نسلی صفائی کی جنگ کے دوران انجام دیا، جس کے نتیجے میں اب تک 70 ہزار فلسطینی شہید اور 2 لاکھ 50 ہزار زخمی ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ 95 فیصد مکانات، عمارتیں اور بلند و بالا ٹاورز 24 ماہ سے جاری اس جارحیت میں تباہ کر دیے گئے ہیں۔ نیتن یاہو کو ان تمام مظالم سے ’’بری الذمہ‘‘ قرار دینے کا سرٹیفکیٹ اس وقت دیا گیا جب اس نے جنگ بندی اور ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کو قبول کیا — جس کا پہلا مرحلہ صرف اسرائیلی قیدیوں (زندہ اور مردہ) کی رہائی تک محدود رہا۔
جنگ درحقیقت ختم نہیں ہوئی۔ قابض افواج اب بھی غزہ کے تقریباً نصف علاقے میں موجود ہیں۔ انہوں نے جنگ بندی معاہدے کی 50 سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی ہے، اور ان کی تعداد ممکنہ طور پر ہزاروں تک پہنچ چکی ہے — بالکل ویسا ہی منظرنامہ جیسا لبنان میں دیکھا گیا تھا۔
ہم امید کرتے ہیں کہ ہم — بطورِ عرب اور مسلمان — امریکی جال کے دوسرے مرحلے میں نہ پھنسیں، جو معمول کے تعلقات کے پھیلاؤ اور نیتن یاہو کو انعام دینے کے مترادف ہے۔ مزاحمتی قوت اب بھی مضبوط ہے، زمین پر بھی اور زمین کے نیچے موجود سرنگوں میں بھی۔ وہ اپنے ہتھیار کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑے گی — نہ مذاکرات کے ذریعے اور نہ ہی دباؤ کے تحت۔ نیتن یاہو اپنے کسی بھی ہدف میں کامیاب نہیں ہو سکا — نہ وہ حماس کو ختم کر سکا، نہ اس کی عسکری صلاحیتوں کو مٹا سکا، نہ ہی غزہ کو خالی کرا کے مکمل قبضہ دوبارہ حاصل کر سکا، اور نہ ہی وہاں کے گیس کے ذخائر لوٹنے میں کامیاب ہوا، تاکہ اسے ایک مشرقِ وسطیٰ کے ’’ریویرا‘‘ میں بدل دے — جو اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کرے — اور اس منصوبے کے بڑے دلالوں میں ٹرمپ، ان کے داماد جیرڈ کشنر، ان کا کاروباری ساتھی اسٹیو وٹکوف، اور جنگی مجرم ٹونی بلیئر شامل ہوں۔
احتیاط اور نارملائزیشن سے انکار ہی دانشمندی کا تقاضا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ٹرمپ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہیں گے۔ وسط مدتی انتخابات نومبر 2026 میں ہونے والے ہیں، اور تمام سروے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ٹرمپ اور ان کی جماعت کی مقبولیت 30 فیصد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ ان کی اسرائیل نوازی اور فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی کی کھلی حمایت ہے۔

