مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – حماس کے سیاسی بیورو کے رکن محمد نزال نے بدھ کے روز خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ حماس فوری طور پر اسلحہ چھوڑنے کا کوئی وعدہ نہیں کرے گی اور امید رکھتی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کم از کم تین سے پانچ سال تک برقرار رہے تاکہ غزہ کی تعمیر نو ممکن ہو سکے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حماس اپنے ہتھیار چھوڑنے پر رضامند ہوگی، تو نزال نے جواب دیا کہ میں اس کا سیدھا ہاں یا ناں میں جواب نہیں دے سکتا۔ صاف بات یہ ہے کہ یہ اس منصوبے کی نوعیت پر منحصر ہے۔ جس غیر مسلح کرنے کے منصوبے کی آپ بات کر رہے ہیں، اس کا مطلب کیا ہے؟ اور ہتھیار کس کے حوالے کیے جائیں گے؟
عرب سفارتکاروں نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ ثالثوں کی جانب سے حماس کے ساتھ ایسے امکانات پر بات ہو رہی ہے کہ یا تو اس کے ہتھیار عرب امن فورسز کے سپرد کیے جائیں، یا طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار — مثلاً میزائل — کو تباہ کرنے کے بجائے کسی محفوظ مقام پر مقفل کر دیا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے میں حماس کے غیر مسلح ہونے کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس منصوبے میں اسرائیل کے بتدریج مکمل انخلا کی بھی بات کی گئی ہے، تاہم کسی مرحلے کے لیے وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔
نزال نے کہا کہ حماس دوسرے مرحلے کے مذاکراتی عمل میں داخل ہونے کے بعد ایک واضح اور حتمی مؤقف پیش کرے گی، اور اس سے پہلے دیگر فلسطینی گروہوں سے مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی محاذ برائے آزادیٔ فلسطین (PFLP) اور اسلامی جہاد دونوں غزہ میں فعال ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حماس اس جنگ بندی کو تین سے پانچ سال تک برقرار رکھنا چاہتی ہے تاکہ غزہ کی شہری زندگی بحال کی جا سکے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حماس نے اس مدت کے بارے میں کوئی واضح ہدف ظاہر کیا ہے۔
جب رائٹرز نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ مدت اس بات کا اشارہ ہے کہ تنظیم دوبارہ جنگ کی تیاری کے لیے وقت حاصل کرنا چاہتی ہے؟ تو نزال نے کہا کہ ہمارا مقصد اگلی جنگ کی تیاری نہیں ہے، ہمارا مقصد ایک ایسا وقفہ ہے جس میں ہم غزہ کی تعمیرِ نو کر سکیں، کیونکہ غزہ کی مکمل بحالی کے لیے اوسطاً کم از کم پانچ سال درکار ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں ہماری اولین ترجیح غزہ کی تعمیر اور شہری زندگی کی بحالی ہے۔ لیکن اگر کچھ فریق مستقبل کے حوالے سے ضمانتیں چاہتے ہیں تو انہیں فلسطینی عوام کو حقیقی امید فراہم کرنی ہوگی، کیونکہ فلسطینی قوم ایک آزاد ریاست کی خواہاں ہے۔
ٹرمپ کے امن منصوبے کے متن کے مطابق، غزہ کی آئندہ حکومت میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا، تاہم اس کے ارکان کے لیے عام معافی کی شق رکھی گئی ہے۔
منصوبے میں تجویز کیا گیا ہے کہ غزہ کا انتظام تکنیکی ماہرین پر مشتمل فلسطینی ادارہ سنبھالے گا، جس کی نگرانی ایک ’’امن بورڈ‘‘ کرے گا جس کا سربراہ ٹرمپ خود ہوں گے۔ اس میں مبہم طور پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اصلاحات کے بعد غزہ کا انتظام سنبھال سکتی ہے۔
زمینی صورتحال کے حوالے سے نزال نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد حماس کی سکیورٹی فورسز نے پورے غزہ میں نظم و نسق بحال کر لیا ہے۔ ٹرمپ نے ابتدا میں ان تعیناتیوں کی حمایت کی تھی، لیکن بعد میں دوبارہ اسلحہ چھوڑنے کا مطالبہ دہرایا۔
اس پر نزال نے وضاحت کی کہ یہ ایک عبوری مرحلہ ہے۔ سول اعتبار سے تو ایک تکنیکی حکومت کام کرے گی، مگر زمینی سطح پر حماس کی موجودگی برقرار رہے گی۔ اس کے بعد فلسطینی انتخابات منعقد کیے جانے چاہئیں۔
یاد رہے کہ حماس 2007 سے غزہ پر حکومت کر رہی ہے۔ 2006 میں فلسطینی قانون ساز انتخابات میں کامیابی کے بعد حماس اور اس کی سیکولر حریف فتح کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں حماس نے غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جبکہ فتح نے مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے ذریعے اپنا اقتدار برقرار رکھا۔
فتح اور حماس کے درمیان مصالحتی مذاکرات کئی برسوں سے جاری ہیں، تاہم اب تک تعلقات کی بحالی اور نئے انتخابات کے انعقاد پر کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔

