اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیتعلیم سب سے بڑا نقصان، غزہ کے بچوں کی کہانیاں

تعلیم سب سے بڑا نقصان، غزہ کے بچوں کی کہانیاں
ت

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) – اسرائیلی نسل کُشی کے بعد جب غزہ کے 97 فیصد اسکول تباہ یا شدید متاثر ہو چکے ہیں، تقریباً چھ لاکھ فلسطینی بچے اب مسلسل تیسرے سال رسمی تعلیم سے محروم ہیں۔ دی گارڈین سے گفتگو میں تین طلبہ اور ایک معلمہ نے اپنے دکھ، یادیں اور امیدیں بیان کیں۔

’’دو سال سے اسکول کی گھنٹی نہیں سنی‘‘

بارہ سالہ جویریہ عدوان، جو خان یونس کے علاقے المواسی سے تعلق رکھتی ہے، دو سال سے کسی حقیقی کلاس روم میں نہیں گئی۔
وہ کہتی ہے کہ دو سال ہو گئے میں نے اپنی خولہ بنت الازور اسکول کی صبح کی گھنٹی نہیں سنی، نہ اپنی نشست پر بیٹھی، نہ پسندیدہ مضمون میں ہاتھ اٹھایا۔

جویریہ کے ذہن میں تختے کی چاک کی خوشبو، قلم کی تراش اور بچوں کی ہنسی آج بھی تازہ ہے، مگر اسکول اب وجود میں نہیں۔
جنگ شروع ہوتے ہی اسرائیلیوں نے اسکول پر بمباری کر دی۔ میری کتابیں جل گئیں اور میرے کچھ دوست مارے گئے۔

’’گمشدہ دنیا کے خزانے‘‘

جویریہ کو 7 اکتوبر کا دن اب بھی یاد ہے — وہ اس کی زندگی کا آخری اسکول دن تھا۔
میں پانچویں جماعت میں تھی… اس صبح جب سائرن بجے تو بچے خوف سے کانپنے لگے، کچھ رونے لگے، کچھ ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ کر کھڑے رہے۔ ہماری معلمہ ہمیں تسلی دے رہی تھیں، مگر ان کی آواز بھی لرز رہی تھی۔

وہ کہتی ہے کہ میں چاہتی تھی یہ ایک عام دن ہو — اسباق، وقفہ، نظم کی مشق۔ مگر وہ دن میری پرانی زندگی کا آخری صفحہ بن گیا۔

اب جویریہ اپنے والدین، دو بھائیوں اور ایک بہن کے ساتھ پناہ گزین کیمپ کے ایک خیمے میں رہتی ہے۔
ہوا میں خیمے کے پردے لہراتے ہیں جو نہ سردی روکتے ہیں نہ گرمی۔ پانی اور کھانے کے لیے قطار لگانی پڑتی ہے۔ بجلی خواب ہے، اور خلوت کا کوئی تصور نہیں۔ امید بہت نازک محسوس ہوتی ہے۔

رات کو آسمان دیکھتے ہوئے وہ سوچتی ہے کہ کیا اس کے دوست بھی یہی ستارے دیکھ رہے ہیں۔
کبھی کبھار وہ میسج کرتے ہیں کہ انہیں اسکول کی یاد آتی ہے، وہ اپنی پرانی کاپیاں سنبھالے ہوئے ہیں، جیسے کسی گمشدہ دنیا کے خزانے ہوں۔ مجھے گناہ سا محسوس ہوتا ہے کیونکہ میری سب چیزیں تباہ ہو گئیں۔

’’تعلیم سب سے بڑا نقصان ہے‘‘

جویریہ کبھی استاد بننے کا خواب دیکھتی تھی، مگر اب وہ صحافی بننا چاہتی ہے۔
میں چاہتی ہوں کہ ہم اپنے خوف اور بھوک کی کہانیاں خود سنائیں — مگر ساتھ ساتھ حوصلے کی بھی، کیونکہ یہاں موت اور ملبے کے بیچ بھی ہماری آوازیں خاموش نہیں ہوئیں۔

وہ کبھی کبھی خیموں میں یا آن لائن تعلیم حاصل کرتی ہے۔
سبق مختصر ہوتے ہیں، بجلی چلی جاتی ہے یا بمباری شروع ہو جاتی ہے، مگر انہی لمحوں میں میں خود کو زندہ محسوس کرتی ہوں۔ مجھے یاد آتا ہے کہ میں کون تھی — وہ لڑکی جو اعداد اور نظموں سے محبت کرتی تھی اور یقین رکھتی تھی کہ تعلیم دنیا بدل سکتی ہے۔

جویریہ کہتی ہے کہ جنگ نے ہمارے گھر، اسکول اور خاندان سب چھین لیے۔ میں نے اپنے چچا، چچی اور ان کے بچے کھو دیے۔ میرا شہر رفح اب صرف ملبہ ہے۔ مگر سب سے بڑا نقصان تعلیم ہے، کیونکہ یہ مستقبل کے زیاں کے مترادف ہے۔

اس کا پیغام واضح ہے:
ہماری خوابوں کو مرنے مت دو۔ ہمیں ہمدردی نہیں، عمل چاہیے۔ غزہ کے بچوں کو کتابیں، اسکول اور سلامتی چاہیے۔ تعلیم کوئی عیاشی نہیں، یہ ہمارا حق ہے۔ غزہ صرف تباہی نہیں؛ یہ وہ بچے ہیں جو اب بھی ڈرونز کے سائے میں خواب دیکھتے ہیں۔ یہ میری کہانی ہے اور میں اسے لکھتی رہوں گی، چاہے میرے پاس صرف ایک ٹوٹا ہوا پنسل اور پھٹا ہوا کاغذ ہی کیوں نہ ہو۔

’’تعلیم اب مزاحمت کی علامت بن گئی ہے‘‘

چالیس سالہ فلسطینی معلمہ نجلاء وشاح ایک دہائی سے زائد عرصہ سے غزہ میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
جنگ سے پہلے میں چھ کلاسیں پڑھاتی تھی، ہر کلاس میں تقریباً چالیس طلبہ ہوتے تھے — دو سو چالیس ذہن جو سیکھنے کے شوق سے بھرے ہوئے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ تعلیم میرا مقصدِ زندگی تھا۔ میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھولتی جب کسی طالب علم کی آنکھ میں سمجھ آنے کی چمک دیکھتی تھی۔

ان کا کلاس روم ہنسی اور تجسس سے بھرا ہوتا تھا۔
میں ہمیشہ چاہتی تھی کہ تعلیم زندگی سے بھرپور ہو۔ ہم نقشے بناتے، تاریخی واقعات کی تمثیل کرتے، اسباق کو کہانیوں میں بدل دیتے۔ ہنسی گونجتی تھی، خوف نہیں۔ مگر 7 اکتوبر کے بعد سب کچھ بدل گیا۔

اسکول پناہ گزینوں کے لیے پناہ گاہ بنا اور پھر تباہ ہو گیا۔
اب غزہ میں بمشکل کوئی اسکول سلامت ہے۔ دو سال سے زندگی میں کچھ معمولی سا بھی معمول نہیں۔ خوف اور غم مستقل ساتھی ہیں۔

کئی شاگرد مارے جا چکے ہیں، باقی بھوک، بے گھری اور تھکن سے لڑ رہے ہیں۔
کبھی کبھار انٹرنیٹ چلتا ہے تو چند بچے پیغام بھیجتے ہیں — ’استادہ! آپ خیریت سے ہیں؟’ ہم چند الفاظ بانٹ لیتے ہیں، جیسے ملبے میں امید کی چنگاری۔ وہ پوچھتے ہیں کیا سب ٹھیک ہو جائے گا، اور میں نہیں جانتی کیا کہوں۔

جہاں ممکن ہو، تعلیم جاری ہے

غزہ بھر میں تعلیم جہاں ممکن ہے جاری ہے — خیموں میں، ٹوٹے کلاس رومز میں، یا پناہ گاہوں میں۔
تعلیم اب مزاحمت کی صورت اختیار کر چکی ہے، یہ کہنے کا طریقہ ہے کہ ہم اب بھی زندہ ہیں۔ جب تک ہم سیکھتے رہیں گے، ہم باقی رہیں گے۔

نجلاء اپنے بچوں کی حالت دیکھ کر کہتی ہیں، ان کا بچپن قطاروں، تلاشِ خوراک، اور لکڑیاں جمع کرنے میں گزر رہا ہے۔ مگر میں انہیں یاد دلاتی ہوں کہ علم ہی طاقت ہے — اور ایک دن وہ اپنے اسکول ضرور لوٹیں گے۔

وہ امید پر قائم ہیں، میں خواب دیکھتی ہوں کہ ایک دن غزہ کے اسکول دوبارہ ہنسی سے گونجیں گے، جب سبق بمباری سے نہیں، گھنٹی سے ختم ہوں گے، اور ہر بچہ پھر سے مستقبل کے بارے میں سوچ سکے گا۔ اس دن تک، میں پڑھاتی رہوں گی — خوف کے بیچ، ملبے میں، اندھیرے میں — کیونکہ تعلیم ہی ہماری آخری امید ہے۔

’’میں نسل کُشی سے بچ جانے کے لیے بہت چھوٹی ہوں‘‘

نو سالہ سارہ الشریف، جو غزہ شہر کی رہائشی ہے، کہتی ہے کہ میں سات سال کی تھی جب جنگ شروع ہوئی۔ اس صبح میں ریاضی کی کلاس میں تھی جب پہلا دھماکہ ہوا۔ میں نے اپنی پنسل زور سے پکڑ لی، دل جیسے رک گیا۔

اس کا اسکول اور گھر دونوں تباہ ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے اسکول کو گھیر لیا، وہاں پناہ لینے والوں پر حملہ کیا، سب کچھ مٹی کا ڈھیر بن گیا۔ میرا گھر بھی بمباری میں برباد ہو گیا۔

وہ کہتی ہے، مجھے اعداد، سائنس اور شاعری پسند تھی، مگر اب دماغ تھکا ہوا رہتا ہے۔ کبھی کبھار پرانی کاپیاں دیکھتی ہوں اور ان پر لکھی لکیروں کو انگلی سے چھوتی ہوں۔ لوگ اب کاپیاں جلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں تاکہ کھانا پکائیں یا خود کو گرم رکھ سکیں۔

آن لائن تعلیم تقریباً ناممکن ہے۔
بجلی اور انٹرنیٹ ملے تو پڑھنے کی کوشش کرتی ہوں، مگر یہ بہت مشکل ہے۔

’’میں عام زندگی کو ترس گئی ہوں‘‘

میں بس عام ہونا چاہتی ہوں — ایک بچی اور طالبہ۔ میں نسل کُشی سے بچ جانے کے لیے بہت چھوٹی ہوں۔ اگر مر بھی جاؤں تو یہ میری پہچان نہ ہو۔ میں چاہتی ہوں مجھے میرے خوابوں سے یاد رکھا جائے۔ میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی تاکہ لوگوں کو شفا اور امید دوں، مگر اسکول کے بغیر یہ خواب ماند پڑ گیا ہے۔

وہ کہتی ہے، جنگ نے میرے ذہن میں دیواریں کھڑی کر دی ہیں۔ دو ماہ پہلے بمباری کے باعث میں نے پڑھنا بالکل چھوڑ دیا۔ وقت جیسے رک گیا ہو، بچپن جیسے چوری ہو گیا ہو۔

دنیا سے اپیل کرتے ہوئے وہ کہتی ہے،
کاش دنیا ہمیں خبروں کے اعداد و شمار نہیں، بچوں کی طرح دیکھے جو سیکھنا اور جینا چاہتے ہیں۔ ہمیں بھی خواب دیکھنے کا حق ہے۔ ایک فلسطینی شاعر نے کہا تھا کہ ہم زندگی سے اتنا ہی پیار کرتے ہیں جتنا ہم کر سکتے ہیں۔ کاش زندگی بھی ہمیں اتنا ہی چاہتی۔

’’میں نے اپنے دوست عزو کی لاش سڑک پر بکھری دیکھی‘‘

سات سالہ اسماعیل، جو اب مصر میں ہے، غزہ کے کنڈرگارٹن کو یاد کرتا ہے۔
میرا اسکول رنگ برنگی دیواروں، کھلونوں کے ڈبوں اور کتابوں والے کونے سے بھرا ہوتا تھا۔ میری معلمہ بہت مہربان تھیں۔ میں روز وہاں جانا پسند کرتا تھا۔

پھر جنگ شروع ہوئی۔
ہر طرف دھماکوں کی آوازیں تھیں۔ ہمارا گھر المغازی میں بمباری سے تباہ ہوا۔ ہم نے سب کچھ چھوڑ دیا — کھلونے، کپڑے، حتیٰ کہ میرے پسندیدہ رنگ بھی۔ بھاگتے ہوئے میں نے اپنے دوست عزو کی لاش سڑک پر بکھری دیکھی۔ وہ مجھ سے چھوٹا تھا۔

خطرہ کم نہ ہوا۔
امی نے کہا ہم دیرالبلح جا رہے ہیں تاکہ محفوظ رہیں، مگر وہاں بھی آسمان کبھی خاموش نہ رہا۔ اسکول کے بغیر کرنے کو کچھ نہ تھا۔ میں چیزیں بھولنے لگا — الفاظ، اعداد، اپنا نام صاف لکھنا۔ اس سے میں بہت اداس اور غصے میں رہنے لگا۔

بعد میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ مصر آ گیا۔
اب ایک سال سے زیادہ ہو گیا، مگر میں نے دوبارہ اسکول نہیں دیکھا۔ میری بہن سارہ اب بڑی ہو گئی ہے، مگر وہ بھی نہیں جا سکتی۔

UNRWA کے اعداد و شمار: المیے کی ایک جھلک

یونروا کے مطابق تقریباً تین لاکھ فلسطینی طلبہ ہفتے سے اپنی تعلیم دوبارہ شروع کریں گے، اگرچہ اسرائیلی محاصرہ اب بھی کروڑوں ڈالر کی امداد کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔

UNRWA کے میڈیا مشیر عدنان ابو حسنہ نے ٹی وی خطاب میں بتایا،
ہم نے تین لاکھ طلبہ کے لیے تعلیمی عمل دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، اور یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔

ان کے مطابق تقریباً 10 ہزار طلبہ اسکولوں اور پناہ گاہوں میں بالمشافہ کلاسز میں شریک ہوں گے، جب کہ اکثریت آن لائن تعلیم حاصل کرے گی، کیونکہ دو سال تک تعلیم کا رکنا ناممکن ہے، اور اس سے پہلے بھی دو سال کورونا نے چھین لیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 8 ہزار اساتذہ اس پروگرام میں حصہ لیں گے۔

فلسطینی وزارتِ تعلیم کے اعداد کے مطابق 16 ستمبر تک اسرائیل نے 172 سرکاری اسکول تباہ کیے، 118 کو نقصان پہنچایا اور 100 سے زیادہ یونروا کے اسکولوں کو نشانہ بنایا۔

وزارت کے مطابق اب تک 17,711 طلبہ شہید، 25,897 زخمی، 763 تعلیمی عملہ جاں بحق اور 3,189 زخمی ہوئے ہیں۔

ابو حسنہ نے مزید کہا کہ ہم صحت کے شعبے میں بھی 22 مرکزی کلینکس کی بحالی کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ خوراک کی تقسیم کے متعدد مراکز اور ہزاروں تربیت یافتہ عملہ ہمارے پاس موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ UNRWA نے کروڑوں ڈالر مالیت کا تعلیمی و امدادی سامان خریدا ہے، مگر وہ تاحال غزہ کے باہر پھنسا ہوا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین