اسلام آباد(مشرق نامہ) —چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہفتہ کو کاکول میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے تاریخی خطاب کرتے ہوئے بھارت کو سخت انتباہ دیا کہ کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں پاکستان بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا جو دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہتھیاروں کی رینج اور تباہ کن صلاحیت بھارت کے اس غلط تصور کو توڑ دے گی کہ اس کی جغرافیائی وسعت اُسے محفوظ بناتی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ دشمن کو نہ صرف فوجی بلکہ اقتصادی نقصان بھی ایسا ہوگا جو اس کی سوچ اور حساب سے کہیں زیادہ ہوگا۔
انہوں نے بھارتی عسکری قیادت کو خبردار کیا کہ ایک ایٹمی ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں، اس لیے بھارت کو بین الاقوامی اصولوں، برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر پاکستان سے اپنے بنیادی تنازعات حل کرنے چاہئیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان کسی دھمکی یا اشتعال سے خوفزدہ نہیں ہوگا، اور معمولی جارحیت کا بھی دوٹوک جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ قابلِ اعتماد بازدار قوت اور ہمہ وقتی تیاری پر مبنی ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ مسلح افواج نے عوام کے تعاون سے ملک کے داخلی و خارجی محاذوں کا دفاع پختہ عزم، ایمان اور فخر کے ساتھ کیا ہے۔ حالیہ "معرکۂ حق” کے دوران افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت اور کامیابیوں نے قوم کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے رنگ، نسل یا عقیدے سے بالاتر ہوکر ایک فولادی دیوار کی طرح اتحاد و وطن دوستی کا مظاہرہ کیا۔ دشمن اپنی جارحانہ پالیسیوں میں ناکام ہونے کے بعد اب ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کو اپنا پسندیدہ ہتھیار بنا چکا ہے۔ “بھارت کا فتنہ الہند اور فتنہ الخوارج کو کرائے کے دہشت گردوں کے طور پر استعمال کرنا اس کے منافقانہ اور ظالمانہ چہرے کو دنیا پر عیاں کرتا ہے۔”
آرمی چیف نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بھارتی ایجنٹوں اور دہشت گرد گروہوں پر قابو پائے جو افغان سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔ انہوں نے افغان عوام پر زور دیا کہ وہ دائمی تشدد کے بجائے مشترکہ سلامتی اور ترقی کا راستہ اپنائیں۔ فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ پاکستان دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا، اور ہمسایہ ملک کے ہر پراکسی کو مٹی میں ملا دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک علاقائی استحکام کے ضامن ملک کے طور پر ابھر چکا ہے، اور عالمی و علاقائی طاقتوں، خصوصاً مسلم ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے اہم قدم قرار دیا۔
چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو پاکستان نے اپنی تاریخی کامیابی قرار دیا جبکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو خوش آئند قرار دیا۔
عاصم منیر نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ظلم و ستم ختم ہو کر رہے گا، اور پاکستان کشمیریوں کی جائز آزادی کی جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے غزہ میں امن معاہدے پر امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں دیرپا امن قائم ہوگا اور انسانی امداد و تعمیر نو کے عمل میں تیزی آئے گی۔
اقتصادی حوالے سے فیلڈ مارشل نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود پاکستان دوبارہ عالمی برادری میں اپنی باوقار حیثیت حاصل کر رہا ہے۔ حکومت کی مسلسل کاوشوں سے اقتصادی اشاریے مثبت ہو رہے ہیں اور عالمی سرمایہ کاری مختلف شعبوں میں آرہی ہے۔
مختصر سرخی:
آرمی چیف کا طالبان حکومت سے مطالبہ: افغان سرزمین سے بھارتی پراکسیز کی سرگرمیاں روکی جائیں

