اسلام آباد(مشرق نامہ):پاکستان نے ایران، روس اور افغانستان کے ساتھ کاروبار برائے کاروبار (B2B) بارٹر ٹریڈ میکانزم میں اہم ترامیم کے بعد ایک نیا فریم ورک نافذ کر دیا ہے، جس کا مقصد دوطرفہ تجارت کو زیادہ مؤثر، آسان اور کاروبار دوست بنانا ہے۔
وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، بارٹر ٹریڈ کے کئی سخت تقاضوں میں نرمی کی گئی ہے۔ اب درآمد سے قبل برآمد کو لازمی قرار دینے کی شرط ختم کر دی گئی ہے، جس کے تحت اب درآمد و برآمد کے لین دین بیک وقت کیے جا سکیں گے۔ اس کے علاوہ نجی اداروں کو بھی کنسورشیم تشکیل دینے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ تجارت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
بارٹر ٹریڈ کے لین دین مکمل کرنے کی مدت 90 دن سے بڑھا کر 120 دن کر دی گئی ہے، جبکہ مخصوص اشیاء کی فہرست بھی ختم کر دی گئی ہے، جس سے تجارت کے دائرہ کار میں وسعت آئے گی۔
نیا فریم ورک عام برآمد و درآمد پالیسی کے احکامات سے ہم آہنگ کر دیا گیا ہے تاکہ نفاذ میں آسانی اور تسلسل برقرار رہے۔
پاکستان کے سفیر برائے ایران محمد مدثر ٹیپو نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا:
"مجھے خوشی ہے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کو فروغ دینے کے لیے نیا ایس آر او جاری کر دیا ہے۔”
انہوں نے مزید لکھا: "طویل غور و فکر کے بعد کاروباری برادری کے کئی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ایس آر او میں شامل کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اس اقدام سے پاک۔ایران تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور تجارتی دائرہ مزید وسیع ہوگا۔ میں دونوں ممالک کی صنعتوں اور کاروباری حلقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔”
ذرائع کے مطابق، یہ اقدامات بارٹر ٹریڈ کے نظام کو زیادہ مؤثر اور کاروبار دوست بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ پاکستان نے جون 2023 میں ان تینوں پڑوسی ممالک کے ساتھ B2B بارٹر ٹریڈ میکانزم کا آغاز کیا تھا، مگر اس پر عملدرآمد کے دوران مختلف تکنیکی اور انتظامی مسائل سامنے آئے۔
کاروباری حلقوں نے منظوری شدہ اشیاء کی محدود فہرست، معاہدوں کی بیرون ملک پاکستانی مشنز سے تصدیق، "برآمد پہلے، درآمد بعد میں” کی شرط، اور 90 دن کے اندر لین دین مکمل کرنے کی پابندی جیسے مسائل کی نشاندہی کی تھی، جن سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں۔
ان چیلنجز کے حل کے لیے وزارتِ تجارت نے سرکاری و نجی اداروں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)، وزارتِ خارجہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، اور پاکستان سنگل ونڈو (PSW) سمیت مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی۔
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے اس ماہ کے آغاز میں وزارت کی سفارشات کی روشنی میں تیار کردہ مسودۂ ایس آر او کی منظوری دے دی، جس کے بعد نیا ترمیمی نظام نافذ کیا گیا۔

