اتوار, فروری 15, 2026
ہومبین الاقوامیکابل سے ٹی ٹی پی کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ

کابل سے ٹی ٹی پی کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ
ک

اسلام آباد(مشرق نامہ):پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات ہفتے کے روز دوحہ میں منعقد ہوئے، جن میں سرحد پار جھڑپوں کے بعد کشیدگی میں کمی کے لیے محتاط امید کا اظہار کیا گیا، تاہم طالبان کی جانب سے دہشتگرد تنظیموں کے خاتمے پر واضح عزم نہ دینے کے باعث کسی بڑے پیش رفت کا امکان کم رہا۔

یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور رات گئے تک بند دروازوں کے پیچھے جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریق ابتدا میں مذاکرات کو ایک ہفتے کے لیے مؤخر کرنے پر غور کر رہے تھے، لیکن بعد میں اتوار کو دوبارہ اجلاس کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق گہری رازداری میں ہونے والی بات چیت رات گئے تک جاری رہی اور ایک مشترکہ اعلامیے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ابتدائی نشست میں ایک سینئر قطری انٹیلی جنس اہلکار نے مذاکرات کا آغاز کیا جس کے بعد پاکستانی اور افغان وفود نے براہِ راست بات چیت کی۔

پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ دفاع خواجہ آصف کر رہے تھے، ان کے ہمراہ قومی سلامتی کے مشیر اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک موجود تھے۔ افغان وفد کی قیادت قائم مقام وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد اور انٹیلی جنس چیف مولوی عبد الحق وثیق نے کی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی افغان سرزمین پر ناقابلِ قبول ہے، اور اس کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے۔

طالبان وفد نے تعاون کے اشارے دیتے ہوئے پاکستان سے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کی تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستان کے خدشات کو "اطمینان بخش طور پر حل کریں گے”۔
تاہم طالبان نمائندوں نے یہ بھی کہا کہ کابل سے یہ توقع رکھنا "غیر حقیقت پسندانہ” ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر روک دے گا۔

افغان فریق نے شکایت کی کہ پاکستان کے عوامی بیانات نے طالبان حکومت کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ افغانستان میں گرفتار ہونے والے داعش خراسان کے بعض جنگجوؤں نے پاکستان میں تربیت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔

ذرائع کے مطابق افغان وفد دورانِ ملاقات بار بار کابل میں اپنی قیادت سے مشاورت کرتا رہا۔

دن کے آغاز میں دفترِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد افغان طالبان حکام پر زور دے گا کہ وہ بین الاقوامی برادری سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کریں اور پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) اور بلوچ لبریشن آرمی (فتنہ الہندستان) جیسے دہشتگرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔

گزشتہ دو سالوں سے پاک۔افغان تعلقات کشیدہ ہیں کیونکہ اسلام آباد کے مطابق کابل سرحد پار دہشتگردی روکنے میں ناکام رہا ہے۔ صورتِ حال 9 اکتوبر کو اس وقت بگڑ گئی جب پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد کابل میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

11 اکتوبر کو طالبان نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کیے جن میں کم از کم 23 پاکستانی فوجی شہید ہوئے، جبکہ پاکستانی جوابی کارروائی میں تقریباً 200 طالبان جنگجو مارے گئے۔

بعد ازاں دونوں ملکوں نے 48 گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق کیا اور اسی دوران مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا۔ جنگ بندی بعد میں بڑھا دی گئی۔

جمعہ کی رات ہونے والی سرحد پار جھڑپ، جس میں پاکستانی افواج نے حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، نے دوحہ مذاکرات کو متاثر کرنے کا خدشہ پیدا کر دیا، لیکن دونوں فریقوں نے طے شدہ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

افغان حکومت کے ترجمان نے الزام لگایا کہ جنگ بندی میں توسیع کے چند گھنٹے بعد پاکستان نے فضائی حملے کیے جن میں شہری ہلاک ہوئے۔
افغانستان نے ان حملوں کے بعد اگلے ماہ پاکستان میں ہونے والی ٹی ٹوئنٹی ٹرائی سیریز سے بھی دستبرداری اختیار کر لی، اور دعویٰ کیا کہ پکتیکا میں مارے جانے والے تین کرکٹرز پاکستانی حملوں میں ہلاک ہوئے۔

پاکستان کی وضاحت اور آئی سی سی پر تنقید:
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے ہفتے کے روز وضاحت کی کہ پاکستان نے شمالی و جنوبی وزیرستان کی سرحدی پٹی میں "خوارج سے منسلک” حافظ گل بہادر گروپ کے تصدیق شدہ دہشتگرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے ایک پوسٹ میں کہا کہ 48 گھنٹے کی جنگ بندی کے دوران افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں نے پاکستان کے اندر کئی حملوں کی کوشش کی، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنایا۔ "شہریوں کو نشانہ بنانے سے متعلق تمام دعوے غلط اور دہشتگرد گروہوں کے حق میں ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔”

بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (ICC) کے اس "متعصبانہ اور قبل از وقت” بیان پر تنقید کی جس میں کہا گیا تھا کہ تین افغان کرکٹرز ایک "فضائی حملے” میں ہلاک ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ "آئی سی سی نے اپنے دعوے کے لیے کوئی آزاد یا مصدقہ ثبوت پیش نہیں کیا۔”

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان اس بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور فوری اصلاح کا مطالبہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "سیاست کو کھیل، خاص طور پر کرکٹ، میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان توقع کرتا ہے کہ آئی سی سی، جس کے موجودہ چیئرمین جے شاہ بھارت سے ہیں، غیر جانبداری، کھیل کے عالمی اصولوں اور دیانت داری کو بحال کرے۔”

اسی دوران، ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے الگ الگ طور پر وزیر اعظم شہباز شریف اور افغان وزیر اعظم محمد حسن اخوند سے بات چیت کی اور تنازع کے حل میں ثالثی کی پیشکش کی۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین